🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
52. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ» :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ ”قرآن کا ماہر (جید حافظ) (قیامت کے دن) لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہو گا جو عزت والے اور اللہ کے تابعدار ہیں“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7546
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، أُرَاهُ قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ:" وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ صَوْتًا، أَوْ قِرَاءَةً مِنْهُ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعر نے، ان سے عدی بن ثابت نے، میرا یقین ہے کہ انہوں نے براء بن عازب سے نقل کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ عشاء کی نماز میں «والتين والزيتون‏» پڑھ رہے تھے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بہترین آواز سے قرآن پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں سنا۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7546]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نمازِ عشاء میں ﴿وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ﴾ [سورة التين: 1] پڑھ رہے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت آواز میں قرآن پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں سنا۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7546]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7547
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مُتَوَارِيًا بِمَكَّةَ وَكَانَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ، فَإِذَا سَمِعَ الْمُشْرِكُونَ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ جَاءَ بِهِ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110.
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں چھپ کر تبلیغ کرتے تھے تو قرآن بلند آواز سے پڑھتے، مشرکین جب سنتے تو قرآن کو برا بھلا کہتے اور اس کے لانے والے کو برا بھلا کہتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ ”اپنی نماز میں نہ آواز بلند کرو اور نہ بہت پست۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7547]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں چھپ کر تبلیغ کرتے تو قرآن کریم بآواز بلند پڑھتے تھے۔ جب اسے مشرکین سنتے تو قرآن اور اس کے لانے والے کو برا بھلا کہتے، اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اپنی نماز میں نہ آواز بلند کریں اور نہ اسے بالکل پست ہی رکھیں۔““ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7547]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7548
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ لَهُ:" إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ، فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ أَوْ بَادِيَتِكَ، فَأَذَّنْتَ لِلصَّلَاةِ، فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا شَيْءٌ إِلَّا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم مجھ سے امام مالک نے بیان کا، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے ان سے کہا میرا خیال ہے کہ تم بکریوں کو اور جنگل کو پسند کرتے ہو۔ پس جب تم اپنی بکریوں میں یا جنگل میں ہو اور نماز کے لیے اذان دو تو بلند آواز کے ساتھ دو کیونکہ مؤذن کی آواز جہاں تک بھی پہنچے گی اور اسے جن و انس اور دوسری جو چیزیں بھی سنیں گی وہ قیامت کے دن اس کی گواہی دیں گی۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7548]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے عبداللہ بن عبدالرحمن سے کہا: ”میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم بکریاں اور جنگل بہت پسند کرتے ہو، لہذا جب تم اپنی بکریوں یا جنگل میں رہو تو بلند آواز سے اذان کہو کیونکہ مؤذن کی اذان جہاں تک پہنچے گی اور اسے جن و انس اور دوسری جو چیزیں بھی سنیں گی وہ قیامت کے دن اس کی گواہی دیں گی۔“ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7548]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7549
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَت: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَرَأْسُهُ فِي حَجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ".
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ان کی والدہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بھی قرآن پڑھتے تھے جب آپ کا سر مبارک میری گود میں ہوتا اور میں حالت حیض میں ہوتی۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7549]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پڑھا کرتے تھے جبکہ آپ کا سر مبارک میری گود میں ہوتا اور میں حالتِ حیض میں ہوتی تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7549]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
53. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ مزمل میں) ”فرمان پس قرآن میں سے وہ پڑھو جو تم سے آسانی سے ہو سکے (یعنی نماز میں)“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7550
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ، حَدَّثَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمٍ،" يَقْرَأُ: سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَمَعْتُ لِقِرَاءَتِهِ، فَإِذَا هُوَ يَقْرَأُ عَلَى حُرُوفٍ كَثِيرَةٍ لَمْ يُقْرِئْنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكِدْتُ أُسَاوِرُهُ فِي الصَّلَاةِ، فَتَصَبَّرْتُ حَتَّى سَلَّمَ فَلَبَبْتُهُ بِرِدَائِهِ، فَقُلْتُ: مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ؟، قَالَ: أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: كَذَبْتَ أَقْرَأَنِيهَا عَلَى غَيْرِ مَا قَرَأْتَ، فَانْطَلَقْتُ بِهِ أَقُودُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى حُرُوفٍ لَمْ تُقْرِئْنِيهَا، فَقَالَ: أَرْسِلْهُ اقْرَأْ يَا هِشَامُ، فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَذَلِكَ أُنْزِلَتْ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَأْ يَا عُمَرُ، فَقَرَأْتُ الَّتِي أَقْرَأَنِي، فَقَالَ: كَذَلِكَ أُنْزِلَتْ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، کہا مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا، ان سے مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن عبدالقاری نے، ان دونوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورۃ الفرقان پڑھتے سنا۔ میں نے دیکھا کہ وہ قرآن مجید بہت سے ایسے طریقوں سے پڑھ رہے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہیں پڑھائے تھے۔ قریب تھا کہ نماز ہی میں ان پر میں ہلہ کر دوں لیکن میں نے صبر سے کام لیا اور جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کی گردن میں اپنی چادر کا پھندا لگا دیا اور ان سے کہا تمہیں یہ سورت اس طرح کس نے پڑھائی جسے میں نے ابھی تم سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے۔ میں نے کہا تم جھوٹے ہو، مجھے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مختلف قرآت سکھائی ہے جو تم پڑھ رہے تھے۔ چنانچہ میں انہیں کھینچتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا اور عرض کیا کہ میں نے اس شخص کو سورۃ الفرقان اس طرح پڑھتے سنا جو آپ نے مجھے نہیں سکھائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں چھوڑ دو۔ ہشام! تم پڑھ کر سناؤ۔ انہوں نے وہی قرآت پڑھی جو میں ان سے سن چکا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح یہ سورت نازل ہوئی ہے۔ اے عمر! اب تم پڑھو! میں نے اس قرآت کے مطابق پڑھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھائی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح بھی نازل ہوئی ہے۔ یہ قرآن عرب کی سات بولیوں پر اتارا گیا ہے۔ پس تمہیں جس قرآت میں سہولت ہو پڑھو۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7550]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی مبارک میں سورۃ الفرقان پڑھتے سنا۔ میں نے ان کی قراءت کی طرف کان لگایا تو وہ قرآن مجید بہت سے ایسے طریقوں سے پڑھ رہے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہیں پڑھائے تھے۔ قریب تھا کہ میں نماز ہی میں ان پر حملہ کر دیتا، لیکن میں نے صبر سے کام لیا اور جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کی گردن میں چادر کا پھندا ڈال دیا اور کہا: ”تمہیں یہ سورت اس طرح کس نے پڑھائی ہے جو میں نے ابھی تم سے سنی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”مجھے اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے۔“ میں نے کہا: ”تم جھوٹ بولتے ہو، مجھے تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت اس طرح (تمہاری قراءت) کے علاوہ طریقے پر پڑھائی ہے۔“ پھر میں انہیں کھینچتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے اس شخص کو سورۃ الفرقان ان حروف پر پڑھتے سنا ہے جو آپ نے مجھے نہیں پڑھائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو۔ ہشام! تم پڑھ کر سناؤ۔“ انہوں نے وہی قراءت پڑھی جو میں نے ان سے سنی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(یہ سورت) اسی طرح نازل کی گئی ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! اب تم پڑھو۔“ میں نے اس قراءت کے مطابق پڑھا جو آپ نے مجھے سکھائی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس طرح بھی نازل کی گئی ہے۔ یہ قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے، اس لیے تمہیں جس قراءت میں سہولت ہو اس کے مطابق پڑھو۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7550]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
54. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ القمر میں) فرمان ”اور ہم نے قرآن مجید کو سمجھنے یا یاد کرنے کے لیے آسان کر دیا ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q7551
وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ يُقَالُ مُيَسَّرٌ مُهَيَّأٌ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ: يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ بِلِسَانِكَ هَوَّنَّا قِرَاءَتَهُ عَلَيْكَ، وَقَالَ مَطَرٌ الْوَرَّاقُ: وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 17، قَالَ: هَلْ مِنْ طَالِبِ عِلْمٍ فَيُعَانَ عَلَيْهِ.
‏‏‏‏ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر شخص کے لیے وہی امر آسان کیا گیا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔“ «ميسر» بمعنی تیار کیا گیا (آسان کیا گیا) اور مجاہد نے کہا کہ «يسرنا القرآن بلسانك» کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس کی قرآت کو تیری زبان میں آسان کر دیا۔ یعنی اس کا پڑھنا تجھ پر آسان کر دیا۔ اور مطر الوراق نے کہا کہ «ولقد يسرنا القرآن للذكر فهل من مدكر» کا مطلب یہ ہے کہ کیا کوئی شخص ہے جو علم قرآن کی خواہش رکھتا ہو پھر اللہ اس کی مدد نہ کرے؟ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: Q7551]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7551
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ يَزِيدُ، حَدَّثَنِي مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِمْرَانَ، قَالَ: قُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِيمَا يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ؟، قَالَ: كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ".
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے، ان سے یزید نے کہ مجھ سے مطرف بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے عمران رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے کہا یا رسول اللہ! پھر عمل کرنے والے کس لیے عمل کرتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شخص کے لیے اس عمل میں آسانی پیدا کر دی گئی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7551]
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! پھر لوگ عمل کس لیے کرتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر شخص کے لیے اس عمل میں آسانی پیدا کر دی گئی ہے جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7551]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7552
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشِ، سَمِعَا سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ كَانَ فِي جَنَازَةٍ، فَأَخَذَ عُودًا، فَجَعَلَ يَنْكُتُ فِي الْأَرْضِ، فَقَالَ: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ، أَوْ مِنَ الْجَنَّةِ، قَالُوا: أَلَا نَتَّكِلُ؟، قَالَ: اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى سورة الليل آية 5.
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے منصور اور اعمش نے، انہوں نے سعد بن عبیدہ سے سنا، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن اسلمیٰ سے اور انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازہ میں تھے پھر آپ نے ایک لکڑی لی اور اس سے زمین کریدنے لگے۔ پھر فرمایا تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا ٹھکانہ جہنم میں یا جنت میں لکھا نہ جا چکا ہو۔ صحابہ نے کہا: پھر ہم اسی پر بھروسہ نہ کر لیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شخص کے لیے اس عمل میں آسانی پیدا کر دی گئی جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «فأما من أعطى واتقى‏» کہ ”جس شخص نے بخشش کی اور تقویٰ اختیار کیا“ آخر آیت تک۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7552]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں شریک تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں ایک لکڑی پکڑ لی اور اس سے زمین کریدنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک کی جگہ دوزخ یا جنت میں لکھ دی گئی ہے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ”کیا ہم اسی پر بھروسا نہ کر لیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم عمل کرتے رہو، ہر عمل آسان کر دیا گیا ہے (جس کے لیے انسان پیدا کیا گیا ہے)“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ﴾ [سورة الليل: 5] ”جس شخص نے اللہ کی راہ میں دیا اور تقویٰ اختیار کیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7552]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
55. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَجِيدٌ فِي لَوْحٍ مَحْفُوظٍ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ البروج میں) فرمان ”بلکہ وہ عظیم قرآن ہے جو لوح محفوظ میں ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q7553
{وَالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ}. قَالَ قَتَادَةُ: مَكْتُوبٌ يَسْطُرُونَ يَخُطُّونَ فِي أُمِّ الْكِتَابِ جُمْلَةِ الْكِتَابِ وَأَصْلِهِ مَا يَلْفِظُ مَا يَتَكَلَّمُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا كُتِبَ عَلَيْهِ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يُكْتَبُ الْخَيْرُ وَالشَّرُّ يُحَرِّفُونَ يُزِيلُونَ وَلَيْسَ أَحَدٌ يُزِيلُ لَفْظَ كِتَابٍ مِنْ كُتُبِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَكِنَّهُمْ يُحَرِّفُونَهُ يَتَأَوَّلُونَهُ عَلَى غَيْرِ تَأْوِيلِهِ دِرَاسَتُهُمْ تِلَاوَتُهُمْ وَاعِيَةٌ حَافِظَةٌ وَتَعِيَهَا تَحْفَظُهَا، وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ يَعْنِي أَهْلَ مَكَّةَ وَمَنْ بَلَغَ هَذَا الْقُرْآنُ فَهُوَ لَهُ نَذِيرٌ.
‏‏‏‏ اور (سورۃ الطور میں) فرمایا «والطور. وكتاب مسطور» ”اور طور پہاڑ کی قسم اور کتاب کی قسم جو مسطور ہے۔“ قتادہ نے کہا «مسطور» کے معنی لکھی گئی اور اسی سے ہے «يسطرون» یعنی لکھتے ہیں۔ «في أم الكتاب» یعنی مجموعی اصل کتاب میں، یہ جو سورۃ ق میں فرمایا «ما يلفظ من قول» اس کا معنی یہ ہے کہ جو بات وہ منہ سے نکالتا ہے اس کے نامہ اعمال میں لکھ دی جاتی ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا نیکی اور بدی یہ فرشتہ لکھتا ہے۔ «يحرفون» لفظوں کو اپنے ٹھکانوں سے ہٹا دیتے ہیں کیونکہ اللہ کی کتاب میں سے کوئی لفظ بالکل نکال ڈالنا یہ کسی سے نہیں ہو سکتا مگر اس میں تحریف کرتے ہیں یعنی ایسے معنی بیان کرتے ہیں جو اس کے اصلی معنی نہیں ہیں۔ «وان كنا عن دراستهم» میں «دراست» سے تلاوت مراد ہے۔ «واعية» جو سورۃ الحاقہ میں ہے یاد رکھنے والا۔ «وتعيها» یعنی یاد رکھے اور یہ جو (سورۃ یونس میں ہے) «وأوحي إلي هذا القرآن لأنذركم به» میں «كم» سے خطاب مکہ والوں کو ہے «ومن بلغ» سے دوسرے تمام جہاں کے لوگ ان سب کو یہ قرآن ڈرانے والا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: Q7553]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7553
وقَالَ لِي خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، سَمِعْتُ أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ كِتَابًا عِنْدَهُ غَلَبَتْ، أَوْ قَالَ: سَبَقَتْ رَحْمَتِي غَضَبِي فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ".
امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا۔ ہم سے معتمر نے بیان کیا، کہا میں نے اپنے والد سلیمان سے سنا، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے ابورافع سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ جب خلقت کا پیدا کرنا ٹھہرا چکا (یا جب خلقت پیدا کر چکا) تو اس نے عرش کے اوپر اپنے پاس ایک کتاب لکھ کر رکھی اس میں یوں ہے میری رحمت میرے غصے پر غالب ہے یا میرے غصے سے آگے بڑھ چکی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7553]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کو پیدا کیا تو اس نے اپنے پاس، عرش کے اوپر ایک کتاب لکھ کر رکھی، اس میں یہ بھی ہے کہ میری رحمت میرے غصے پر غالب ہے یا میرے غصے سے آگے بڑھ چکی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7553]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں