مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 1009
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ : كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، وَكُنْتُ أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ:" يَغْسِلُ ذَكَرَهُ وَأُنْثَيَيْهِ وَيَتَوَضَّأُ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بکثرت مذی آتی تھی، چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں اس لئے مجھے خود یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی، میں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھیں، چنانچہ انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا شخص اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضو کر لیا کرے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1009]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، ورواية عروة بن الزبير عن على مرسلة، وانظر مابعده
حدیث نمبر: 1010
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُنْذِرٍ أَبِي يَعْلَى ، عَنْ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَرَ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَذْيِ، فَقَالَ:" يَتَوَضَّأُ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مذی کا حکم پوچھیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا شخص وضو کر لیا کرے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1010]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح. م: 303
حدیث نمبر: 1011
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلِمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْضِي الْحَاجَةَ، فَيَأْكُلُ مَعَنَا اللَّحْمَ، وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ، وَلَمْ يَكُنْ يَحْجِزُهُ أَوْ يَحْجُبُهُ، إِلَّا الْجَنَابَةُ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے بعد وضو کیے بغیر باہر تشریف لا کر قرآن کریم کی تلاوت شروع کر دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ گوشت بھی تناول فرما لیا کرتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنابت کے علاوہ کوئی چیز قرآن سے نہیں روکتی تھی۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1011]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 1012
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي عَلَى كُلِّ أَثَرِ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ رَكْعَتَيْنِ، إِلَّا الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ"، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر اور عصر کے علاوہ ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1012]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
حدیث نمبر: 1013
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: كُنْتُ أَرَى أَنَّ بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا، حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَمْسَحُ ظَاهِرَهُمَا".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری رائے یہ تھی کہ مسح علی الخفین کے لئے موزوں کا وہ حصہ زیادہ موزوں ہے جو زمین کے ساتھ لگتا ہے بہ نسبت اس حصے کے جو پاؤں کے اوپر رہتا ہے، حتی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اوپر کے حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھ لیا تو میں نے اپنی رائے کو ترک کر دیا۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1013]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، والأعمش كان مضطرباً فى حديث أبى إسحاق
حدیث نمبر: 1014
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي السَّوْدَاءِ ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ ظُهُورَ قَدَمَيْهِ، وَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَغْسِلُ ظُهُورَ قَدَمَيْهِ"، لَظَنَنْتُ أَنَّ بُطُونَهُمَا أَحَقُّ بِالْغَسْلِ.
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے پاؤں کے اوپر والے حصے کو دھویا اور فرمایا: اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پاؤں کا اوپر والا حصہ دھوتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میری رائے یہ تھی کہ پاؤں کا نچلا حصہ دھوئے جانے کا زیادہ حق دار ہے (کیونکہ وہ زمین کے ساتھ زیادہ لگتا ہے)۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1014]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1015
(حديث موقوف) (حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ" فَمَسَحَ ظُهُورَهُمَا".
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے جس میں ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے پاؤں کے اوپر والے حصے پر مسح کیا۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1015]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 1016
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُقْبَةَ أَبُو كِبْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ، يَعْنِي: هَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ" تَوَضَّأَ ثَلَاثًا".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وضو کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1016]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1017
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفَدِّي أَحَدًا بِأَبَوَيْهِ إِلَّا سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ، فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ:" ارْمِ سَعْدُ، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کسی کے لئے - سوائے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے - اپنے والدین کو جمع کرتے ہوئے نہیں سنا۔ غزوہ احد کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے فرما رہے تھے: ”سعد! تیر پھینکو، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1017]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2905، م: 2411
حدیث نمبر: 1018
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْمَعُوا لَهُ وَيُطِيعُوا، قَالَ: فَأَغْضَبُوهُ فِي شَيْءٍ، فَقَالَ: اجْمَعُوا لِي حَطَبًا، فَجَمَعُوا حَطَبًا، ثُمَّ قَالَ: أَوْقِدُوا نَارًا، فَأَوْقَدُوا لَهُ نَارًا، فَقَالَ: أَلَمْ يَأْمُرْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَسْمَعُوا لِي وَتُطِيعُوا؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَادْخُلُوهَا، قَالَ: فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالُوا: إِنَّمَا فَرَرْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ النَّارِ، فَكَانُوا كَذَلِكَ إِذْ سَكَنَ غَضَبُهُ، وَطَفِئَتْ النَّارُ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" لَوْ دَخَلُوهَا مَا خَرَجُوا مِنْهَا، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور ایک انصاری کو ان کا امیر مقرر کر دیا، اور لوگوں کو اس کی بات سننے اور اطاعت کرنے کا حکم دیا، جب وہ لوگ روانہ ہوئے تو راستے میں اس انصاری کو کسی بات پر غصہ آگیا، اس نے کہا کہ لکڑیاں اکٹھی کرو، اس کے بعد اس نے آگ منگوا کر لکڑیوں میں آگ لگا دی اور کہا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بات سننے اور اطاعت کرنے کا حکم نہیں دیا تھا؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، اس نے کہا: پھر اس آگ میں داخل ہو جاؤ۔ لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور کہنے لگے کہ آگ ہی سے تو بھاگ کر ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے وابستہ ہوئے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد اس کا غصہ بھی ٹھنڈا ہو گیا اور آگ بجھ گئی۔ جب وہ لوگ واپس آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ بتایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اس میں ایک مرتبہ داخل ہو جاتے تو پھر کبھی اس میں سے نکل نہ سکتے، یاد رکھو! اطاعت کا تعلق تو صرف نیکی کے کاموں سے ہے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1018]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4340، م: 1840