🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1029
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ الْفَزَارِيُّ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، وَقَالَا: فَضْخَ الْمَاءِ، وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، وَقَالَ: فَضْخَ أَيْضًا.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1029]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1030
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أخبرنا خَالِدٌ ، عَنْ عَطَاءٍ يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ خَيْرُهَا بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ثُمَّ يَجْعَلُ اللَّهُ الْخَيْرَ حَيْثُ أَحَبَّ".
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں، اس کے بعد اللہ جہاں چاہتا ہے اپنی محبت پیدا فرما دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1030]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خالد الواسطي سماعه من عطاء بعد الاختلاط، لكن تابع عطاء حصين بن عبدالرحمن، وهو ثقة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1031
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَحْرٍ عَبْدُ الْوَاحِدِ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا فَرَغَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ:" إِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ، وَبَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ، وَأَحْدَثْنَا أَحْدَاثًا يَصْنَعُ اللَّهُ فِيهَا مَا شَاءَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب اہل بصرہ سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے، ان کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے، اس کے بعد ہم نے ایسی چیزیں ایجاد کر لی ہیں جن میں اللہ جو چاہے گا سو کرے گا۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1031]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1032
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ ، أخبرنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَإِنَّا قَدْ أَحْدَثْنَا بَعْدُ أَحْدَاثًا يَقْضِي اللَّهُ فِيهَا مَا شَاءَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے، ان کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے، اس کے بعد ہم نے ایسی چیزیں ایجاد کر لی ہیں جن میں اللہ جو چاہے گا سو کرے گا۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1032]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1033
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ عَمَّارٌ يَسْتَأْذِنُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" ائْذَنُوا لَهُ، مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا) اتنی دیر میں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ آ کر اجازت طلب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں اجازت دے دو، خوش آمدید اس شخص کو جو پاکیزہ ہے اور پاکیزگی کا حامل ہے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1033]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1034
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ ذِي حُدَّانَ ، حَدَّثَنِي مَنْ ، سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سَمَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" الْحَرْبَ خَدْعَةً".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کو ”چال“ قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1034]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لجهالة سعيد بن ذي حذان، وجهالة من سمع علياً، ومتن الحديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1035
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِلْمِقْدَادِ: سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَدْنُو مِنَ الْمَرْأَةِ فَيُمْذِي، فَإِنِّي أَسْتَحْيِي مِنْهُ، لِأَنَّ ابْنَتَهُ عِنْدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَغْسِلُ ذَكَرَهُ وَأُنْثَيَيْهِ وَيَتَوَضَّأُ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھیں: اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے قریب جائے اور اس سے مذی خارج ہو تو کیا حکم ہے؟ مجھے خود یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی ہے، کیونکہ ان کی صاحبزادی میرے نکاح میں ہیں، چنانچہ انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا شخص اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضو کر لیا کرے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1035]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، ورواية عروة بن الزبير عن على مرسلة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1036
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: شَغَلُونَا يَوْمَ الْأَحْزَابِ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ، حَتَّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى، صَلَاةِ الْعَصْرِ، مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ وَأَجْوَافَهُمْ نَارًا".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مشرکین نے ہمیں نماز عصر پڑھنے کا موقع نہیں دیا حتی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1036]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح.م : 627
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1037
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ تَعَالَى، وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَائِرٍ إِلَى ثَوْرٍ، مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ، وَقَالَ: ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ، وَمَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا".
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ہمارے پاس کتاب اللہ اور اس صحیفے کے علاوہ کچھ نہیں ہے، اس صحیفے میں یہ بھی لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عیر سے ثور تک مدینہ منورہ حرم ہے، جو شخص اس میں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ اس سے کوئی فرض یا نفلی عبادت قبول نہ کرے گا، اور تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ایک جیسی ہے، جو شخص کسی مسلمان کی پناہ کو توڑے اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اور اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوگا۔ اور غلام اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کو اپنا آقا کہنا شروع کر دے، اس پر بھی اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اس کا بھی کوئی فرض یا نفل قبول نہیں کیا جائے گا۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1037]

الحكم على الحديث:
سناده صحيح، خ: 1870، م: 1370
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1038
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لِي أَرَاكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ، وَتَدَعُنَا أَنْ تَزَوَّجَ إِلَيْنَا؟ قَالَ:" وَعِنْدَكَ شَيْءٌ؟"، قَالَ: قُلْتُ: ابْنَةُ حَمْزَةَ، قَالَ:" إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہمیں چھوڑ کر قریش کے دوسرے خاندانوں کو کیوں پسند کرتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس بھی کچھ ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی۔ فرمایا: ”وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے۔“ (دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ آپس میں رضاعی بھائی بھی تھے اور چچا بھتیجے بھی)۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1038]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1446
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں