🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 999
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ عَمَّارًا اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" الطَّيِّبُ الْمُطَيَّبُ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ آکر اجازت طلب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”یہ پاکیزہ ہے اور پاکیزگی کا حامل ہے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 999]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1000
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وَحَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، قَالَ يَحْيَى: قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ يَكْذِبْ عَلَيَّ يَلِجْ النَّارَ"، قَالَ حَجَّاجٌ: قُلْتُ لِشُعْبَةَ: هَلْ أَدْرَكَ عَلِيًّا؟ قَالَ: نَعَمْ، حَدَّثَنِي عَنْ عَلِيٍّ، وَلَمْ يَقُلْ: سَمِعَ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری طرف جھوٹی بات کی نسبت نہ کرو، کیونکہ جو شخص میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا، وہ جہنم میں داخل ہوگا۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1000]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، والحديث متواتر ، خ: 106، م : (في المقدمة): 1
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1001
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ : أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1001]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، والحديث متواتر ، وانظر ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1002
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَعَبْدُ الْكَرِيمِ ، أن مجاهدا أخبرهما، أن عبد الرحمن بن أبي ليلى أخبره، أن عليا رضي الله عنه أخبره، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ" يَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا لُحُومَهَا، وَجُلُودَهَا، وَجِلَالَهَا، وَلَا يُعْطِيَ فِي جِزَارَتِهَا مِنْهَا شَيْئًا.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ قربانی کے موقع پر آپ کے ساتھ موجود رہوں، اور یہ کہ ان اونٹوں کی کھالیں اور جھولیں بھی تقسیم کر دوں اور گوشت بھی تقسیم کر دوں، اور یہ بھی حکم دیا کہ قصاب کو ان میں سے کوئی چیز مزدوری کے طور پر نہ دوں۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1002]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1717، م: 1317
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1003
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ:" نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا الْأَجْرَ".
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1003]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1004
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، وَأَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ، وَعَنِ الْقَسِّيِّ، وَالْمُعَصْفَرِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رکوع کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت، سونے کی انگوٹھی، ریشی کپڑے اور عصفر سے رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1004]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وإسناده حسن، م: 480 و2078
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1005
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا صَلَّى الظُّهْرَ، دَعَا بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فِي الرَّحَبَةِ، فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمّ قَالَ: إِنَّ رِجَالًا يَكْرَهُونَ هَذَا، وَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَالَّذِي رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ، ثُمَّ تَمَسَّحَ بِفَضْلِهِ، وَقَالَ:" هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ".
نزال بن سبرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نماز ظہر کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک کوزے میں پانی لایا گیا، وہ مسجد کے صحن میں تھے، انہوں نے کھڑے کھڑے وہ پانی پی لیا اور فرمایا کہ کچھ لوگ اسے ناپسند سمجھتے ہیں حالانکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے جیسے تم نے مجھے کرتے ہوئے دیکھا ہے، پھر انہوں نے باقی پانی سے مسح کر لیا اور فرمایا: جو آدمی بےوضو نہ ہو بلکہ پہلے سے اس کا وضو موجود ہو، یہ اس شخص کا وضو ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1005]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5616
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1006
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نماز کی کنجی طہارت ہے، نماز میں حلال چیزوں کو حرام کرنے والی چیز تکبیر تحریمہ ہے، اور انہیں حلال کرنے والی چیز سلام پھیرنا ہے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1006]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وإسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1007
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُقْبَةَ أَبُو كِبْرَانَ الْمُرَادِيُّ ، سَمِعْتُ عَبْدَ خَيْرٍ ، يَقُولُ: قَالَ عَلِيٌّ : أَلَا أُرِيكُمْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ثُمَّ" تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا".
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح وضو کر کے نہ دکھاؤں؟ پھر انہوں نے اپنے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1007]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1008
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا مُسْهِرُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَلْعٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَلْعٍ ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ خَيْرٍ يَؤُمُّنَا فِي الْفَجْرِ، فَقَالَ: صَلَّيْنَا يَوْمًا الْفَجْرَ خَلْفَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَجَاءَ يَمْشِي حَتَّى انْتَهَى إِلَى الرَّحَبَةِ، فَجَلَسَ وَأَسْنَدَ ظَهْرَهُ إِلَى الْحَائِطِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: يَا قَنْبَرُ، ائْتِنِي بِالرَّكْوَةِ وَالطَّسْتِ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: صُبَّ، فَصَبَّ عَلَيْهِ،" فَغَسَلَ كَفَّهُ ثَلَاثًا، وَأَدْخَلَ كَفَّهُ الْيُمْنَى فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ كَفَّيْهِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ كَفَّهُ الْيُمْنَى فَغَسَلَ ذِرَاعَهُ الْأَيْمَنَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَهُ الْأَيْسَرَ ثَلَاثًا، فَقَالَ: هَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوعبدالملک کہتے ہیں کہ نماز فجر میں عبدخیر رحمہ اللہ ہماری امامت کرتے تھے، ایک دن ہمیں نماز فجر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے پڑھنے کا موقع ملا، سلام پھیر کر جب وہ کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہو گئے، یہاں تک کہ وہ چلتے ہوئے صحن مسجد میں آ گئے اور بیٹھ کر دیوار سے ٹیک لگا لی، پھر سر اٹھا کر اپنے غلام سے کہا: قنبر! ڈول اور طشت لاؤ، پھر فرمایا کہ پانی ڈالو، اس نے پانی ڈالنا شروع کیا، چنانچہ پہلے انہوں نے اپنی ہتھیلی کو تین مرتبہ دھویا، پھر دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا اور پانی نکال کر کلی کی اور تین ہی مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، پھر دونوں ہاتھ ڈال کر پانی نکالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، پھر دایاں ہاتھ ڈال کر پانی نکالا اور تین مرتبہ دائیں ہاتھ کو دھویا، پھر بائیں ہاتھ کو تین مرتبہ دھویا اور فرمایا کہ یہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1008]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، مسهر متابع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں