🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1069
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَيَأْمُرُ بِهِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور دوسروں کو بھی اس کا ترغیبی حکم دیتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1069]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1070
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ كَذَبَ عَلَى عَيْنَيْهِ، كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَقْدًا بَيْنَ طَرَفَيْ شَعِيرَةٍ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جو شخص جھوٹا خواب بیان کرتا ہے، اسے قیامت کے دن جو کے دانے میں گرہ لگانے کا مکلف بنایا جائے گا (حکم دیا جائے گا)۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1070]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الأعلى
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1071
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَحْرٍ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ الْبَصْرِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّ ابْنَتَهُ كَانَتْ عِنْدِي، فَأَمَرْتُ رَجُلًا فَسَأَلَهُ، فَقَالَ:" مِنْهُ الْوُضُوءُ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بکثرت مذی آتی تھی، چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں اس لئے مجھے خود یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی، میں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھیں، چنانچہ انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا شخص وضو کر لیا کرے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1071]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1072
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الْوُضُوءُ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نماز کی کنجی طہارت ہے، نماز میں حلال چیزوں کو حرام کرنے والی چیز تکبیر تحریمہ ہے، اور انہیں حلال کرنے والی چیز سلام پھیرنا ہے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1072]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1073
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَشُعْبَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ الْأَجْدَعِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُصَلُّوا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا أَنْ تُصَلُّوا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عصر کی نماز کے بعد کوئی نماز نہ پڑھو، ہاں! اگر سورج صاف ستھرا دکھائی دے رہا ہو تو جائز ہے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1073]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1074
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ . ح وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ الْأَصَمُّ ، قَالَ أَبُو مَعْمَرٍ: مَوْلَى قُرَيْشٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي السُّدِّيُّ ، وَقَالَ زَحْمَوَيْهِ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: سَمِعْتُ السُّدِّيَّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو طَالِبٍ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ قَدْ مَاتَ، قَالَ:" اذْهَبْ فَوَارِهِ، وَلَا تُحْدِثْ مِنْ أَمْرِهِ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي"، فَوَارَيْتُهُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ:" اذْهَبْ فَاغْتَسِلْ، وَلَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي"، فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَدَعَا لِي بِدَعَوَاتٍ مَا يَسُرُّنِي بِهِنَّ حُمْرُ النَّعَمِ وَسُودُهَا، وقَالَ ابْنُ بَكَّارٍ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ السُّدِّيُّ: وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا غَسَلَ مَيِّتًا اغْتَسَلَ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ابوطالب کی وفات ہو گئی تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ کا بوڑھا چچا مر گیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا کر انہیں کسی گڑھے میں چھپا دو، اور میرے پاس آنے سے پہلے کوئی دوسرا کام نہ کرنا۔“ چنانچہ جب میں انہیں کسی گڑھے میں اتار کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا تو مجھ سے فرمایا: ”جا کر غسل کرو، اور میرے پاس آنے سے پہلے کوئی دوسرا کام نہ کرنا۔“ چنانچہ میں غسل کر کے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اتنی دعائیں دیں کہ مجھے ان کے بدلے سرخ یا سیاہ اونٹ ملنے پر اتنی خوشی نہ ہوتی۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جب بھی کسی میت کو غسل دیا تو خود بھی غسل کر لیا۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1074]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1075
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ تیار کر لینا چاہیے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1075]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الأعلى الثعلبي، لكن متن الحديث صحيح متواتر، خ: 106، م: (في المقدمة): 1
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1076
(حديث مرفوع) قَالَ: حَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" لَا تُصَلُّوا بَعْدَ الْعَصْرِ، إِلَّا أَنْ تُصَلُّوا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ"، قَالَ سُفْيَانُ: فَمَا أَدْرِي بِمَكَّةَ يَعْنِي أَوْ بِغَيْرِهَا؟.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عصر کی نماز کے بعد کوئی نماز نہ پڑھو، ہاں! اگر سورج صاف ستھرا دکھائی دے رہا ہو تو جائز ہے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1076]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1077
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ أُكَيْدِرَ دُومَةَ أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً أَوْ ثَوْبَ حَرِيرٍ، قَالَ: فَأَعْطَانِيهِ، وَقَالَ:" شَقِّقْهُ خُمُرًا بَيْنَ النِّسْوَةِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دومۃ الجندل - جو شام اور مدینہ کے درمیان ایک علاقہ ہے - کے بادشاہ اکیدر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جوڑا بطور ہدیہ کے بھیجا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مجھے عطاء کر کے فرمایا: ”اس کے دوپٹے بنا کر عورتوں میں تقسیم کر دو۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1077]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2614، م: 2071
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1078
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَبُعٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: لَتُخْضَبَنَّ هَذِهِ مِنْ هَذَا، فَمَا يَنْتَظِرُ بِي الْأَشْقَى؟! قَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَخْبِرْنَا بِهِ نُبِيرُ عِتْرَتَهُ، قَالَ: إِذًا تَالَلَّهِ تَقْتُلُونَ بِي غَيْرَ قَاتِلِي، قَالُوا: فَاسْتَخْلِفْ عَلَيْنَا، قَالَ: لَا، وَلَكِنْ أَتْرُكُكُمْ إِلَى مَا تَرَكَكُمْ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: فَمَا تَقُولُ لِرَبِّكَ إِذَا أَتَيْتَهُ؟ وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً: إِذَا لَقِيتَهُ؟ قَالَ: أَقُولُ:" اللَّهُمَّ تَرَكْتَنِي فِيهِمْ مَا بَدَا لَكَ، ثُمَّ قَبَضْتَنِي إِلَيْكَ وَأَنْتَ فِيهِمْ، فَإِنْ شِئْتَ أَصْلَحْتَهُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَفْسَدْتَهُمْ".
عبداللہ بن سبع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ داڑھی اس سر کے خون سے رنگین ہو کر رہے گی، وہ شقی جو مجھے قتل کرے گا نہ جانے کس چیز کا انتظار کر رہا ہے؟ لوگوں نے کہا: امیر المومنین! ہمیں اس کا نام پتہ بتائیے، ہم اس کی نسل تک مٹا دیں گے، فرمایا: واللہ! اس طرح تو تم میرے قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل کر دو گے، لوگوں نے عرض کیا کہ پھر ہم پر اپنا نائب ہی مقرر کر دیجئے، فرمایا: نہیں، میں تمہیں اسی کیفیت پر چھوڑ کر جاؤں گا جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑا تھا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ پھر آپ جب اپنے رب سے ملیں گے تو اسے کیا جواب دیں گے (کہ آپ نے کسے خلیفہ مقرر کیا؟)، فرمایا: میں عرض کروں گا کہ اے اللہ! جب تک آپ کی مشیت ہوئی، آپ نے مجھے ان میں چھوڑے رکھا، پھر آپ نے مجھے اپنے پاس بلا لیا تب بھی آپ ان میں موجود تھے، اب اگر آپ چاہیں تو ان میں اصلاح رکھیں اور اگر آپ چاہیں تو ان میں پھوٹ ڈال دیں۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1078]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن سبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں