مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 849
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ سورة الواقعة آية 82، يَقُولُ: شُكْرَكُمْ، أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ سورة الواقعة آية 82، تَقُولُونَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، بِنَجْمِ كَذَا وَكَذَا".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قرآن کریم میں یہ جو فرمایا گیا ہے کہ تم نے اپنا حصہ یہ بنا رکھا ہے کہ تم تکذیب کرتے رہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ تم یہ کہتے ہو: فلاں فلاں ستارے کے طلوع و غروب سے بارش ہوئی ہے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 849]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالأعلى الثعلبي
حدیث نمبر: 850
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَفَعَهُ:" وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ سورة الواقعة آية 82" قَالَ مُؤَمَّلٌ قُلْتُ لِسُفْيَانَ: إِنَّ إِسْرَائِيلَ رَفَعَهُ، قَالَ: صِبْيَانٌ، صِبْيَانٌ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 850]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره كسابقه
حدیث نمبر: 851
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: وَكَانَ رَجُلَ صِدْقٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ، وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِعَوْرَاءَ، وَلَا مُقَابَلَةٍ، وَلَا مُدَابَرَةٍ، وَلَا شَرْقَاءَ، وَلَا خَرْقَاءَ"، قَالَ زُهَيْرٌ: قُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاقَ: أَذَكَرَ عَضْبَاءَ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: مَا الْمُقَابَلَةُ؟ قَالَ: يُقْطَعُ طَرَفُ الْأُذُنِ، قُلْتُ: مَا الْمُدَابَرَةُ؟ قَالَ: يُقْطَعُ مُؤَخَّرُ الْأُذُنِ، قُلْتُ: مَا الشَّرْقَاءُ؟ قَالَ: تُشَقُّ الْأُذُنُ، قُلْتُ: مَا الْخَرْقَاءُ؟ قَالَ: تَخْرِقُ أُذُنَهَا السِّمَةُ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا کہ ”قربانی کے جانور کے کان اور آنکھ اچھی طرح دیکھ لیں، کانے جانور کی قربانی نہ کریں، مقابلہ، مدابرہ، شرقاء یا خرقاء کی قربانی نہ کریں۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابواسحاق سے پوچھا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عضباء کا ذکر بھی کیا تھا یا نہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں! پھر میں نے پوچھا کہ مقابلہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: وہ جانور جس کے کان کا ایک کنارہ کٹا ہوا ہو، میں نے پوچھا کہ مدابرہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: وہ جانور جس کا کان پیچھے سے کٹا ہوا ہو، میں نے شرقاء کا معنی پوچھا، تو فرمایا: جس کا کان چیرا ہوا ہو، میں نے خرقاء کا معنی پوچھا، تو انہوں بتایا: وہ جانور جس کا کان پھٹ گیا ہو۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 851]
الحكم على الحديث:
حسن. وهذا إسناد ضعيف، زهير سمع من أبى إسحاق بعد تغيره
حدیث نمبر: 852
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُ مُؤَمِّرًا أَحَدًا مِنْ أُمَّتِي عَنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ مِنْهُمْ، لَأَمَّرْتُ عَلَيْهِمْ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر میں مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر کسی کو امیر بناتا تو ابن ام عبد یعنی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو بناتا۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 852]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف الحارث الأعور
حدیث نمبر: 853
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي خَمِيلٍ، وَقِرْبَةٍ، وَوِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ"، قَالَ مُعَاوِيَةُ: إِذْخِرٌ، قَالَ أَبِي: وَالْخَمِيلَةُ: الْقَطِيفَةُ الْمُخَمَّلَةُ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے جہیز میں روئیں دار کپڑے، ایک مشکیزہ اور ایک چمڑے کا تکیہ دیا تھا جس میں اذخر نامی گھاس بھری ہوئی تھی۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 853]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
حدیث نمبر: 854
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أخبرنا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" الْحَسَنُ أَشْبَهُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الصَّدْرِ إِلَى الرَّأْسِ، وَالْحُسَيْنُ أَشْبَهُ مَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سینے سے لے کر سر تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہہ ہیں، اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نچلے حصے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 854]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 855
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قُلْنَا لِعَلِيٍّ : أَخْبِرْنَا بِشَيْءٍ أَسَرَّهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا أَسَرَّ إِلَيَّ شَيْئًا كَتَمَهُ النَّاسَ، وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ، يَعْنِي: الْمَنَارَ".
سیدنا ابوالطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ آپ سے بیان کی ہو؟ فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایسی کوئی خصوصی بات نہیں کی جو دوسرے لوگوں سے چھپائی ہو، البتہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے ضرور سنا ہے کہ ”اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے والدین پر لعنت کرے، اور اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو زمین کے بیج بدل دے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 855]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي، م: 1978
حدیث نمبر: 856
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَإِذَا أَمْذَيْتُ اغْتَسَلْتُ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَحِكَ، وَقَالَ" فِيهِ الْوُضُوءُ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے جسم سے مذی کا اخراج بکثرت ہوتا تھا، جب ایسا ہوتا تو میں غسل کر لیتا، پھر میں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حل پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنس کر فرمایا: ”اس میں صرف وضو ہے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 856]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، هانئ بن هانئ مجهول
حدیث نمبر: 857
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ ، أخبرنا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنا، وَجَعْفَرٌ، وَزَيْدٌ، قَالَ: فَقَالَ لِزَيْدٍ:" أَنْتَ مَوْلَايَ"، فَحَجَلَ، قَالَ: وَقَالَ لِجَعْفَرٍ:" أَنْتَ أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي"، قَالَ: فَحَجَلَ وَرَاءَ زَيْدٍ، قَالَ: وَقَالَ لِي:" أَنْتَ مِنِّي، وَأَنَا مِنْكَ"، قَالَ: فَحَجَلْتُ وَرَاءَ جَعْفَرٍ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں، سیدنا جعفر اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا: ”زید! آپ ہمارے مولیٰ (آزاد کردہ غلام) ہیں، جعفر! آپ تو صورت اور سیرت میں میرے مشابہہ ہیں، اور علی! آپ مجھ سے ہیں اور میں آپ سے ہوں۔“ اس ترتیب میں نبی صلی اللہ علیہ نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا اور میرا ذکر سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے بعد فرمایا۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 857]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة هانئ بن هانئ
حدیث نمبر: 858
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو الشَّعْثَاءِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ ، قَالَ: قِيلَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَخْبِرْنَا بِشَيْءٍ أَسَرَّ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا أَسَرَّ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا وَكَتَمَهُ النَّاسَ، وَلَكِن سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" لَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَبَّ وَالِدَيْهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا".
سیدنا ابوالطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کسی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ آپ سے بیان کی ہو؟ فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایسی کوئی خصوصی بات نہیں کی جو دوسرے لوگوں سے چھپائی ہو، البتہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے ضرور سنا ہے کہ ”اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے والدین پر لعنت کرے، اور اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو زمین کے بیج بدل دے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 858]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي، م: 1978