مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 869
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" فِي الْمَذْيِ الْوُضُوءُ، وَفِي الْمَنِيِّ الْغُسْلُ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے خروج مذی کثرت کے ساتھ ہونے کا مرض لاحق تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا تو فرمایا: ”مذی میں صرف وضو واجب ہے، اور خروج منی کی صورت میں غسل واجب ہوتا ہے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 869]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 870
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَأَمَرْتُ رَجُلًا فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ، فَقَالَ:" فِيهِ الْوُضُوءُ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے خروج مذی کثرت کے ساتھ ہونے کا مرض لاحق تھا، میں نے ایک آدمی سے کہا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا تو فرمایا: ”مذی میں صرف وضو واجب ہے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 870]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح. م: 303 ، وانظر ماتقدم برقم: 823، وفيه أن الرجل الذى أمره أن يسأل النبى هو المقداد بن الأسود
حدیث نمبر: 871
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا؟ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا وَبَعْدَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ؟ فَقَالَ: عُمَرُ".
ابوجحیفہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے (دوران خطبہ یہ) فرمایا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، اور میں تمہیں بتاؤں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 871]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 872
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ السِّمْطِ ، عَنْ أَبِي الْغَرِيفِ ، قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِوَضُوءٍ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ يَدَيْهِ وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ، ثُمَّ قَرَأَ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ قَالَ:" هَذَا لِمَنْ لَيْسَ بِجُنُبٍ، فَأَمَّا الْجُنُبُ فَلَا، وَلَا آيَةَ".
ابوالغریف کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس وضو کا پانی لایا گیا، انہوں نے تین مرتبہ کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، ہاتھوں اور کہنیوں کو تین تین مرتبہ دھویا، سر کا مسح کیا اور پاؤں کو دھو کر فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے، پھر قرآن کریم کے کچھ حصے کی تلاوت کی اور فرمایا: یہ اس شخص کے لئے ہے جو جنبی نہ ہو، جنبی کے لئے یہ حکم نہیں ہے، اور نہ ہی وہ کسی ایک آیت کی تلاوت کر سکتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 872]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 873
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ عُتْبَةَ الْكِنَانِيُّ ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ:" مَسَحَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَأْسَهُ فِي الْوُضُوءِ حَتَّى أَرَادَ أَنْ يَقْطُرَ، وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ".
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دوران وضو سر کا مسح کیا اور اتنا پانی ڈالا کہ قریب تھا کہ اس کے قطرے ٹپکنا شروع ہو جاتے، اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 873]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 874
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ بْنِ عِمْرَانَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُخَارِقٍ ، عَنْ طَارِقٍ يَعْنِي ابْنَ شِهَابٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا فِي الْقُرْآنِ، وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ، صَحِيفَةٌ كَانَتْ فِي قِرَابِ سَيْفٍ كَانَ عَلَيْهِ، حِلْيَتُهُ حَدِيدٌ، أَخَذْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيهَا فَرَائِضُ الصَّدَقَةِ".
طارق بن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ واللہ! ہمارے پاس قرآن کریم کے علاوہ کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جسے ہم پڑھتے ہوں، یا پھر یہ صحیفہ ہے جو تلوار سے لٹکا ہوا ہے، میں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کیا تھا، اس میں زکوٰۃ کے حصص کی تفصیل درج ہے۔ مذکورہ صحیفہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس تلوار سے لٹکا رہتا تھا جس کے حلقے لوہے کے تھے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 874]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 875
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَسَدِيُّ لُوَيْنٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ زَيْدٍ السُّوَائِيِّ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ فِي الصَّلَاةِ وَضْعُ الْأَكُفِّ عَلَى الْأَكُفِّ تَحْتَ السُّرَّةِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز میں سنت یہی ہے کہ ہتھیلیوں کو ہتھیلیوں پر اور ناف کے نیچے رکھا جائے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 875]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف عبدالرحمن بن إسحاق، وجهالة زياد بن زيد السوائي
حدیث نمبر: 876
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَلْعٍ الْهَمْدَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ: عَلَّمَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَصَبَّ الْغُلَامُ عَلَى يَدَيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا، ثُمَّ أَدَخَلَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ فَغَمَرَ أَسْفَلَهَا بِيَدِهِ، ثُمَّ أَخْرَجَهَا فَمَسَحَ بِهَا الْأُخْرَى، ثُمَّ مَسَحَ بِكَفَّيْهِ رَأْسَهُ مَرَّةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ اغْتَرَفَ هُنَيَّةً مِنْ مَاءٍ بِكَفِّهِ فَشَرِبَهُ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ".
عبدخیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو سکھایا، چنانچہ سب سے پہلے ایک لڑکے نے ان کے ہاتھوں پر پانی ڈالا، انہوں نے اپنے ہاتھوں کو صاف کیا، پھر انہیں برتن میں ڈالا، کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، دونوں بازوؤں کو کہنیوں سمیت تین تین مرتبہ دھویا، پھر دوبارہ اپنے ہاتھوں کو برتن میں ڈالا اور اپنے ہاتھ کو اس کے نیچے ڈبو دیا، پھر اسے باہر نکال کر دوسرے ہاتھ پر مل لیا اور دونوں ہتھیلیوں سے سر کا ایک مرتبہ مسح کیا، اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں تین تین مرتبہ دھوئے، پھر ہتھیلی سے چلو بنا کر تھوڑا سا پانی لیا اور اسے پی گئے، اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح وضو کیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 876]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، و إسناده حسن
حدیث نمبر: 877
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ، أَوْتِرُوا، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوَتْرَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے اہل قرآن! وتر پڑھا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 877]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
حدیث نمبر: 878
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ ، أخبرنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ :" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا؟ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ثُمَّ عُمَرُ، ثُمَّ رَجُلٌ آخَرُ".
ابوجحیفہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں، پھر ایک اور آدمی ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 878]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح