مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 859
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ يَعْنِي الْفَرَّاءَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ نُؤَمَّرُ بَعْدَكَ؟ قَالَ:" إِنْ تُؤَمِّرُوا أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، تَجِدُوهُ أَمِينًا، زَاهِدًا فِي الدُّنْيَا، رَاغِبًا فِي الْآخِرَةِ، وَإِنْ تُؤَمِّرُوا عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَجِدُوهُ قَوِيًّا أَمِينًا، لَا يَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، وَإِنْ تُؤَمِّرُوا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَلَا أُرَاكُمْ فَاعِلِينَ، تَجِدُوهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا، يَأْخُذُ بِكُمْ الطَّرِيقَ الْمُسْتَقِيمَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کے بعد ہم کسے اپنا امیر مقرر کریں؟ فرمایا: ”اگر ابوبکر کو امیر بناؤ گے تو انہیں امین پاؤ گے، دنیا سے بےرغبت اور آخرت کا مشتاق پاؤ گے، اگر عمر کو امیر بناؤ گے تو انہیں طاقتور اور امین پاؤ گے، وہ اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے، اور اگر تم علی کو امیر بناؤ گے - لیکن میرا خیال ہے کہ تم ایسا نہیں کرو گے - تو انہیں ہدایت کرنے والا اور ہدایت یافتہ پاؤ گے، جو تمہیں صراط مستقیم پر لے کر چلیں گے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 859]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لعلل
حدیث نمبر: 860
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ عَنَزَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ بِالْوَتْرِ، ثَبَتَ وِتْرُهُ هَذِهِ السَّاعَةَ"، يَا ابْنَ النَّبَّاحِ أَذِّنْ، أَوْ ثَوِّبْ.
بنو اسد کے ایک صاحب کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں تشریف لائے، (لوگوں نے ان سے وتر کے متعلق سوالات پوچھے) انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ”اس وقت وتر ادا کر لیا کریں۔“ ابن نباح! اٹھ کر اذان دو۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 860]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة الرجل من بني أسد
حدیث نمبر: 861
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ عَنَزَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، قَالَ: خَرَجَ عَلِيٌّ حِينَ ثَوَّبَ الْمُثَوِّبُ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَنَا نُوِتْرٍ، فَثَبَتَ لَهُ هَذِهِ السَّاعَةَ"، ثُمَّ قَالَ: أَقِمْ يَا ابْنَ النَّوَّاحَةِ.
بنو اسد کے ایک صاحب کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے، اس وقت مؤذن نماز فجر کے لئے لوگوں کو مطلع کر رہا تھا، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ”اس وقت وتر ادا کر لیا کریں۔“ ابن نواحہ! اٹھ کر اقامت کہو۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 861]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 862
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي الْهُذَيْلِ الْعَنَزَيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُوَيْدِ بْنِ سَعِيدٍ:" كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَهُوَ مُسَجًّى فِي ثَوْبِهِ".
گزشتہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے جو عبارت میں گذری۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 862]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 863
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُتَخَتَّمَ فِي ذِهِ أَوْ ذِهْ: الْوُسْطَى وَالسَّبَّابَةِ"، وقَالَ جَابِرٌ، يَعْنِي الْجُعَفِيَّ: هِيَ الْوُسْطَى لَا شَكَّ فِيهَا.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیانی شہادت والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 863]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
حدیث نمبر: 864
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُضَحَّى بِعَضْبَاءِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ یا کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 864]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي، وعبدالله بن نجي إلى لضعف أقرب، ثم هو لم يسمع من علي
حدیث نمبر: 865
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُخَافِتُ بِصَوْتِهِ إِذَا قَرَأَ، وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَجْهَرُ بِقِرَاءَتِهِ، وَكَانَ عَمَّارٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا قَرَأَ يَأْخُذُ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ وَهَذِهِ، فَذُكِرَ ذَاكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" لِمَ تُخَافِتُ؟"، قَالَ: إِنِّي لَأُسْمِعُ مَنْ أُنَاجِي، وَقَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" لِمَ تَجْهَرُ بِقِرَاءَتِكَ؟"، قَالَ: أُفْزِعُ الشَّيْطَانَ، وَأُوقِظُ الْوَسْنَانَ، وَقَالَ لِعَمَّارٍ:" لِمَ تَأْخُذُ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ وَهَذِهِ؟"، قَالَ أَتَسْمَعُنِي أَخْلِطُ بِهِ مَا لَيْسَ مِنْهُ؟ قَالَ:" لَا"، قَالَ: فَكُلُّهُ طَيِّبٌ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب قرآن کریم کی تلاوت کرتے تو آواز کو پست رکھتے، جبکہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بلند آواز سے قرآن کریم پڑھتے تھے، اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کبھی کسی سورت سے تلاوت فرماتے اور کبھی کسی سورت سے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب اس کا تذکرہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ”آپ اپنی آواز کو پست کیوں رکھتے ہیں؟“ عرض کیا کہ میں جس سے مناجات کرتا ہوں اسی کو سناتا ہوں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بلند آواز کے ساتھ تلاوت کرنے کی وجہ دریافت فرمائی تو انہوں نے عرض کیا کہ میں شیطان کو بھگاتا ہوں اور سونے والوں کو جگاتا ہوں، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ”آپ کبھی کسی سورت سے اور کبھی دوسری سورت سے تلاوت کیوں کرتے ہیں؟“ عرض کیا کہ کیا آپ نے مجھے کسی سورت میں دوسری سورت کو خلط ملط کرتے ہوئے سنا ہے؟ فرمایا: ”نہیں، سب ہی اپنی جگہ ٹھیک ہیں۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 865]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، هانئ بن هانئ مجهول، وأبو إسحاق تغير بأخرة، رواية زكريا عنه بعد تغيره
حدیث نمبر: 866
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ الْمَدَنِيُّ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: وُضِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَيْنَ الْمِنْبَرِ وَالْقَبْرِ، فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى قَامَ بَيْنَ يَدَيْ الصُّفُوفِ، فَقَالَ: هُوَ هَذَا، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ:" رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ، مَا مِنْ خَلْقِ اللَّهِ تَعَالَى أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَلْقَاهُ بِصَحِيفَتِهِ بَعْدَ صَحِيفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ هَذَا الْمُسَجَّى عَلَيْهِ ثَوْبُهُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا جنازہ منبر اور روضہ مبارکہ کے درمیان لا کر رکھ دیا گیا، اس اثناء میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور صفوں کے سامنے کھڑے ہو کر کہنے لگے: یہ وہی ہیں (یہ جملہ انہوں نے تین مرتبہ کہا)، پھر فرمایا: اللہ کی رحمتوں کا نزول ہو آپ پر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نامہ اعمال کے بعد اس کپڑا اوڑھے ہوئے شخص کے علاوہ اللہ کی پوری مخلوق میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس کے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ سے ملاقات کرنا مجھے محبوب ہو۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 866]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى معشر نجيح ، وانظر مابعده
حدیث نمبر: 867
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَرَوِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي يَعْفُورٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَهُوَ مُسَجًّى ثَوْبِهِ، قَدْ قَضَى نَحْبَهُ، فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ، ثُمّ قَالَ:" رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ يا أَبَا حَفْصٍ، فَوَاللَّهِ مَا بَقِيَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ تَعَالَى بِصَحِيفَتِهِ مِنْكَ،.
ابوجحیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے جنازے کے قریب ہی تھا، ان کا چہرہ کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا تھا، اسی اثناء میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور ان کے چہرے سے کپڑا ہٹا کر فرمایا: اے ابوحفص! اللہ کی رحمتوں کا نزول ہو آپ پر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نامہ اعمال کے بعد آپ کے علاوہ اللہ کی پوری مخلوق میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس کے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ سے ملاقات کرنا مجھے محبوب ہو۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 867]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، سويد بن سعيد ويونس بن أبى يعفور حديثهما حسن فى المتابعات والشواهد، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 868
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ التَّيْمِيُّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي رُكَيْنٌ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَجَعَلْتُ أَغْتَسِلُ فِي الشِّتَاءِ حَتَّى تَشَقَّقَ ظَهْرِي، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ ذُكِرَ لَهُ، قَالَ: فَقَالَ:" لَا تَفْعَلْ، إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ، وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، فَإِذَا فَضَخْتَ الْمَاءَ فَاغْتَسِلْ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے جسم سے خروج مذی بکثرت ہوتا تھا، میں سردی میں بھی اس کی وجہ سے اتنا غسل کرتا تھا کہ میری کمر چھل گئی تھی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو فرمایا: ”ایسا نہ کرو، جب مذی دیکھو تو اپنی شرمگاہ کو دھو لیا کرو اور نماز جیسا وضو کر لیا کرو، اور اگر منی خارج ہو تو غسل کر لیا کرو۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 868]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح