مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 2859
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں، اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2859]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2860
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْسِمُوا الْمَالَ بَيْنَ أَهْلِ الْفَرَائِضِ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، فَمَا تَرَكَتْ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَى ذَكَرٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وراثت کے حصے ان کے مستحقین تک پہنچا دیا کرو، سب کو ان کے حصے مل چکنے کے بعد جو مال باقی بچے وہ میت کے اس سب سے قریبی رشتہ دار کو دے دیا جائے جو مذکر ہو (علم الفرائض کی اصطلاح میں جسے عصبہ کہتے ہیں)۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2860]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1610
حدیث نمبر: 2861
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بُرْدَيْنِ أَبْيَضَيْنِ، وَبُرْدٍ أَحْمَرَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دو سفید کپڑوں اور ایک سرخ چادر میں کفنایا گیا تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2861]
الحكم على الحديث:
حسن، وهذا إسناد ضعيف، ابن أبى ليلي سيئ الحفظ، وقد توبع
حدیث نمبر: 2862
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَرْضَهُ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا كَذَا وَكَذَا لِشَيْءٍ مَعْلُومٍ"، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَهُوَ الْحَقْلُ، وهو بلسان الأنصار المحاقلة.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے کہ ”تم میں سے کسی شخص کا اپنی زمین اپنے بھائی کو بطور ہدیہ کے پیش کر دینا اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اس پر کوئی معین کرایہ وصول کرے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2862]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1550
حدیث نمبر: 2863
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حتى مات، وَأَبُو بَكْرٍ حتى مات، وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ كَذَلِكَ، وَأَوَّلُ مَنْ نَهَى عَنْهَا مُعَاوِيَةُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حج تمتع نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کیا ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی کیا ہے، یہاں تک کہ ان کا بھی وصال ہو گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی کیا ہے، سب سے پہلے اس کی ممانعت کرنے والے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2863]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبى سليم
حدیث نمبر: 2864
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، مَعْنَاهُ بِإِسْنَادِهِ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2864]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2865
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا ضَرَرَ وَلَا إِضِرَارَ، وَلِلرَّجُلِ أَنْ يَجْعَلَ خَشَبَةً فِي حَائِطِ جَارِهِ، وَالطَّرِيقُ الْمِيتَاءُ سَبْعَةُ أَذْرُعٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسلام میں نقصان اٹھانے یا نقصان پہنچانے کی کوئی گنجائش نہیں، انسان کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ اپنے بھائی کی دیوار پر لکڑی رکھے، اور غیر آباد راستہ سات گز رکھا جائے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2865]
الحكم على الحديث:
حسن، جابر بن يزيد الجعفي ضعيف، وقد توبع
حدیث نمبر: 2866
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنْبَأَنَا عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" إِنْ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ، فَلْيَفْعَلْ". قَالَ: فَلَمْ أَدَعْ أَنْ آكُلَ قَبْلَ أَنْ أَغْدُوَ، مُنْذُ سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَآكُلَ مِنْ طَرَفِ الصَّرِيقَةِ الْأَكْلَةَ، أَوْ أَشْرَبَ اللَّبَنَ، أَوْ الْمَاءَ. قُلْتُ: فَعَلَامَ يُؤَوَّلُ هَذَا؟ قَالَ: سَمِعَهُ أَظُنُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كَانُوا لَا يَخْرُجُونَ حَتَّى يَمْتَدَّ الضَّحَاءُ، فَيَقُولُونَ: نَطْعَمُ لِئَلَّا نَعْجَلَ عَنْ صَلَاتِنَا".
عطا رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عید الفطر کے دن اگر ممکن ہو کہ کچھ کھا پی کر نماز کے لئے نکلو تو ایسا ہی کیا کرو، میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جب سے یہ بات سنی ہے، اس وقت سے میں نے صبح نکلنے سے پہلے کچھ کھانے پینے کا عمل ترک نہیں کیا، خواہ چپاتی روٹی کا ایک ٹکڑا کھاؤں، یا دودھ پی لوں، یا پانی پی لوں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ تو عطا نے جواب دیا: میرا خیال ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہوگا، اور فرمایا کہ لوگ نماز عید کے لئے اس وقت نکلتے تھے جب روشنی خوب پھیل جاتی تھی، اور وہ کہتے تھے کہ ہمیں پہلے ہی کچھ کھا پی لینا چاہئے تاکہ نماز میں جلد بازی سے کام نہ لیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2866]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2867
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ هُوَ أَبُو إِسْرَائِيلَ الْمُلَائِيُّ ، عَنْ فُضَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَعَجَّلُوا إِلَى الْحَجِّ يَعْنِي الْفَرِيضَةَ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي مَا يَعْرِضُ لَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حج فرض ہونے کے بعد اس کی ادائیگی میں جلدی کیا کرو، کیونکہ تم میں سے کسی کو پتہ نہیں ہے کہ بعد میں اسے کیا ضروریات اور عوارض لاحق ہو جائیں گے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2867]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، إسماعيل بن خليفة العبسي سيئ الحفظ ، وقد توبع
حدیث نمبر: 2868
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ حِينَ أَرَادُوا دُخُولَ مَكَّةَ فِي عُمْرَتِهِ، بَعْدَ الْحُدَيْبِيَةِ:" إِنَّ قَوْمَكُمْ غَدًا سَيَرَوْنَكُمْ، فَلْيَرَوْكُمْ جُلْدًا". فَلَمَّا دَخَلُوا الْمَسْجِدَ اسْتَلَمُوا الرُّكْنَ، ثُمَّ رَمَلُوا، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ، حَتَّى إِذَا بَلَغُوا إِلَى الرُّكْنِ الْيَمَانِي، مَشَوْا إِلَى الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ، فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ مَشَى الْأَرْبَعَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم عمرے کے ارادے سے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے لگے تو صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ ”تمہاری قوم کے لوگ کل تمہیں ضرور دیکھیں گے، تم انہیں مضبوط دکھائی دینا“، پھر وہ سب آگے بڑھے یہاں تک کہ مسجد حرام میں داخل ہو گئے، سب نے حجر اسود کا استلام کیا، اور طواف میں صحابہ رضی اللہ عنہم نے رمل کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ہمراہ تھے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکن یمانی پر پہنچے تو حجر اسود والے کونے تک اپنی عام رفتار سے چلے، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چکروں میں کیا اور باقی چار چکر عام رفتار سے پورے کئے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2868]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي