🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2889
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي عُلْوَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" فُرِضَ عَلَى نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسُونَ صَلَاةً، فَسَأَلَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَجَعَلَهَا خَمْسًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پچاس نمازیں ابتدائی طور پر فرض ہوئی تھیں، پھر انہوں نے پروردگار سے دعا کی تو اس نے انہیں پانچ کر دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2889]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2890
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ ، قال: سمعتُ ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسِينَ صَلَاةً فَسَأَلَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَجَعَلَهَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پچاس نمازیں ابتدائی طور پر فرض ہوئی تھیں، پھر انہوں نے پروردگار سے دعا کی تو اس نے انہیں پانچ کر دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2890]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2891
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ خَمْسِينَ صَلَاةً، فَسَأَلَ رَبَّهُ فَجَعَلَهَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پچاس نمازیں ابتدائی طور پر فرض ہوئی تھیں، پھر انہوں نے پروردگار سے دعا کی تو اس نے انہیں پانچ کر دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2891]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2892
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ، كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد اسی طرح سکھایا کرتے تھے جیسے قرآن کریم کی کوئی سورت سکھاتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2892]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 403
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2893
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُوحَى إِلَيَّ فِيهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے مسواک کا حکم اس تاکید کے ساتھ دیا گیا کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں اس بارے میں مجھ پر قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہو جائے (اور میری امت اس حکم کو پورا نہ کر سکے)۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2893]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أربدة البصري التميمي مجهول، وشريك سيئ الحفظ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2894
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اچھا خواب اجزاء نبوت میں سے سترواں جزو ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2894]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، رواية سماك بن حرب عن عكرمة مضطربة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2895
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا كَامِلُ بْنُ الْعَلَاءِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَوْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ:" رَبِّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَارْفَعْنِي، وَارْزُقْنِي، وَاهْدِنِي" ثُمَّ سَجَدَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز میں دو سجدوں کے درمیان بیٹھ کر یہ دعا پڑھتے تھے: «رَبِّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَارْفَعْنِي وَارْزُقْنِي وَاهْدِنِي» ”پروردگار! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، میرے درجات بلند فرما، مجھے رزق عطا فرما اور مجھے ہدایت عطا فرما۔“ پھر دوسرا سجدہ کرتے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2895]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2896
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ:" إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ، حَرَّمَهُ اللَّهُ، لَمْ يَحِلَّ فِيهِ الْقَتْلُ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَأُحِلَّ لِي سَاعَةً، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ، وَلَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ، وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهُ"، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِلَّا الْإِذْخِرَ، فَإِنَّهُ لِبُيُوتِهِمْ وَلِقَيْنِهِمْ. فَقَالَ:" إِلَّا الْإِذْخِرَ، وَلَا هِجْرَةَ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا: ”یہ شہر حرام ہے، اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا ہے، لہذا مجھ سے پہلے یا بعد والوں کے لئے یہاں قتال حلال نہیں ہے، میرے لئے بھی دن کی صرف چند ساعات اور گھنٹوں کے لئے اسے حلال کیا گیا تھا، اب یہ قیامت تک کے لئے حرام ہے، یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں، یہاں کے شکار کو مت بھگایا جائے اور یہاں کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کا اشتہار دے کر مالک تک اسے پہنچا دے۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے سناروں اور قبرستانوں کے لئے اذخر نامی گھاس کو مستثنی فرما دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مستثنی کرتے ہوئے فرمایا: ”اب ہجرت باقی نہیں رہی، البتہ جہاد اور نیت باقی ہے، لہذا جب تم سے جہاد پر روانہ ہونے کے لئے کہا جائے تو تم نکلو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2896]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1353
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2897
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ خَيْرٍ الزِّبَادِيُّ ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ سَعْدٍ التُّجِيبِيَّ ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" أَتَانِي جِبْرِيلُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ لَعَنَ الْخَمْرَ، وَعَاصِرَهَا، وَمُعْتَصِرَهَا، وَشَارِبَهَا، وَحَامِلَهَا، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ، وَبَائِعَهَا، وَمُبْتَاعَهَا، وَسَاقِيَهَا، وَمُسْتَقِيَهَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”ایک مرتبہ میرے پاس حضرت جبرئیل علیہ السلام آئے اور کہنے لگے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ نے شراب کو، اسے نچوڑنے والے، نچڑوانے والے، پینے والے، اٹھانے والے، اٹھوانے والے، بیچنے اور خریدنے والے، پینے اور پلانے والے سب کو ملعون قرار دیا ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2897]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2898
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ بْنِ عُقْبَةَ الْحَضْرَمِيُّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ السَّبَائِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَبَأٍ، مَا هُوَ أَرَجُلٌ أَمْ امْرَأَةٌ أَمْ أَرْضٌ؟ فَقَالَ:" بَلْ هُوَ رَجُلٌ وَلَدَ عَشَرَةً، فَسَكَنَ الْيَمَنَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ، وَبِالشَّامِ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ، فَأَمَّا الْيَمَانِيُّونَ: فَمَذْحِجٌ وَكِنْدَةُ وَالْأَزْدُ وَالْأَشْعَرِيُّونَ وَأَنْمَارٌ وَحِمْيَرُ، عَرَبًاء كُلَّهَا، وَأَمَّا الشَّامِيَّةُ فَلَخْمٌ وَجُذَامُ وَعَامِلَةُ وَغَسَّانُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سبا کسی آدمی کا نام ہے یا کسی عورت کا یا کسی علاقے کا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک آدمی کا نام ہے جس کے دس بیٹے تھے، ان میں سے چھ یمن میں اور چار شام میں سکونت پذیر ہو گئے، یمن میں سکونت اختیار کرنے والے مذحج، کندہ، ازد، اشعریین، انمار اور سارا عرب حمیر شامل ہے، اور شام میں رہائش اختیار کرنے والوں میں لخم، جذام، عاملہ اور غسان ہیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2898]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں