مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 2869
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ وَأَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرِّكَازِ الْخُمُسَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ ”رکاز میں پانچواں حصہ بیت المال میں جمع کروانا فرض ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2869]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2870
حَدَّثَنَاه أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، قَالَ: وَقَضَى، وَقَالَ: أَبُو نُعَيْمٍ فِي حَدِيثِهِ" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرِّكَازِ الْخُمُسَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ ”رکاز میں پانچواں حصہ بیت المال میں جمع کروانا فرض ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2870]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 2871
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُبَاشِرُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ، وَلَا الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی مرد برہنہ جسم کے ساتھ دوسرے برہنہ جسم مرد کے ساتھ مت لیٹے، اسی طرح کوئی برہنہ جسم عورت کسی برہنہ جسم عورت کے ساتھ نہ لیٹے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2871]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 2872
قال عبد الله: قال أبي: وَلَمْ يَرْفَعْهُ أَسْوَدُ ، وحَدَّثَنَاه عَنْ حَسَنٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلًا.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مرسلا بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2872]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 2873
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ بَدْرٍ: عَلَيْكَ الْعِيرَ، لَيْسَ دُونَهَا شَيْءٌ. قَالَ: فَنَادَاهُ الْعَبَّاسُ وَهُوَ أَسِيرٌ فِي وَثَاقِهِ: لَا يَصْلُحُ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِمَ؟"، قَالَ: لِأَنَّ اللَّهَ قَدْ وَعَدَكَ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ، وَقَدْ أَعْطَاكَ مَا وَعَدَكَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر سے فارغ ہوئے تو کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اب قریش کے قافلہ کے پیچھے چلئے، اس تک پہنچنے کے لئے اب کوئی رکاوٹ نہیں ہے، یہ سن کر عباس نے - جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے - پکار کر کہا کہ یہ آپ کے لئے مناسب نہیں ہے، پوچھا: ”کیوں؟“ تو انہوں نے کہا کہ اللہ نے آپ سے دو میں سے کسی ایک گروہ کا وعدہ کیا تھا اور وہ اس نے آپ کو دے دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2873]
الحكم على الحديث:
رواية سماك عن عكرمة فيها اضطراب
حدیث نمبر: 2874
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بمَاعِزٍ، فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ:" اذْهَبُوا بِهِ"، ثُمَّ قَالَ:" رُدُّوهُ"، فَاعْتَرَفَ مَرَّتَيْنِ، حَتَّى اعْتَرَفَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو لایا گیا اور انہوں نے دو مرتبہ بدکاری کا اعتراف کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ“، پھر واپس بلوایا اور انہوں نے مزید دو مرتبہ اعتراف کیا، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے متعلق چار مرتبہ اس کا اعتراف کر لیا، تب کہیں جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2874]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 2875
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ: وَاحِدَةً، فَقَالَ عُمَرُ:" إِنَّ النَّاسَ قَدْ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ كَانَ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ، فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ. فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت، خلافت صدیقی اور خلافت فاروقی کے ابتدائی دو سالوں میں تین طلاقوں کو ایک ہی سمجھا جاتا تھا، لیکن بعد میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ جس چیز میں لوگوں کو سہولت تھی، انہوں نے اس میں جلد بازی سے کام لینا شروع کر دیا (کثرت سے طلاق دینا شروع کر دی)، اس لئے اگر ہم ان پر تین طلاقوں کو تین ہی کے حکم میں نافذ کر دیں تو بہتر ہے، چنانچہ انہوں نے یہ حکم نافذ کر دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2875]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1472
حدیث نمبر: 2876
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ أَبِي هَرِمٍ ، عَنْ صَدَقَةَ الدِّمَشْقِيِّ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنِ الصِّيَامِ؟ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ الصِّيَامِ صِيَامَ أَخِي دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا، وَيُفْطِرُ يَوْمًا".
صدقہ دمشقی کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے نفلی روزوں کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ ”نفلی روزہ رکھنے کا سب سے افضل طریقہ میرے بھائی حضرت داوؤد علیہ السلام کا تھا، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2876]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا، الفرج ابن فضالة، مجهول
حدیث نمبر: 2877
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ لَيْثٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَأَوَّلُ مَنْ نَهَى عَنْهَا مُعَاوِيَةُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حج تمتع نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کیا ہے، سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم نے بھی کیا ہے، سب سے پہلے اس کی ممانعت کرنے والے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2877]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبى سليم
حدیث نمبر: 2878
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ مِنْ سِقَاءٍ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُ مَيْتَةٌ. قَالَ:" دِبَاغُهُ يُذْهِبُ خَبَثَهُ، أَوْ رِجْسَهُ، أَوْ نَجَسَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مشکیزے سے وضو کرنا چاہا تو کسی نے بتایا کہ یہ مردار جانور کی کھال کا بنا ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”دباغت سے ان کی گندگی اور ناپاکی دور ہو جاتی ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2878]
الحكم على الحديث:
حسن، وفي سنده أخو سالم ابن أبى الجعد، فيه جهالة