🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2192
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يونسُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2192]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1934
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2193
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: إِنَّمَا كَانَ بَدْءُ الْإِيضَاعِ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، كَانُوا يَقِفُونَ حَافَتَيْ النَّاسِ حَتَّى يُعَلِّقُوا الْعِصِيَّ , وَالْجِعَابَ , وَالْقِعَابَ، فَإِذَا نَفَرُوا، تَقَعْقَعَتْ تِلْكَ، فَنَفَرُوا بِالنَّاسِ، قَالَ: وَلَقَدْ رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ ذِفْرَى نَاقَتِهِ لَيَمَسُّ حَارِكَهَا، وَهُوَ يَقُولُ بِيَدِهِ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ، يَا أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سواریوں کو تیز کرنے کا آغاز دیہاتی لوگوں کی طرف سے ہوا تھا، یہ لوگ کناروں پر ٹھہرے ہوئے تھے تاکہ اپنی لاٹھیاں، ترکش اور پیالے لٹکا سکیں، جب انہوں نے کوچ کیا تو ان چیزوں کو بھی اپنے ساتھ لے گئے، انہوں نے کوچ تو لوگوں کے ساتھ کیا تھا (لیکن مذکورہ طریقے سے) اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں دیکھا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے دونوں کانوں کا پچھلا حصہ فیل بان کو چھو رہا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ ”لوگو! سکون اختیار کرو، لوگو! سکون اور وقار اختیار کرو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2193]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2194
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، وَأَيُّوبَ , عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَامَ حَتَّى سُمِعَ لَهُ غَطِيطٌ، فَقَامَ فَصَلَّى، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ" , فَقَالَ عِكْرِمَةُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَحْفُوظًا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ سو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز آنے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر نماز پڑھا دی اور وضو نہیں فرمایا۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیند کی حالت میں بھی وضو ٹوٹنے سے محفوظ تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2194]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2195
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ عَفَّانُ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، وَقَيْسٌ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَخَّرَ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ، ثُمَّ اسْتَيْقَظُوا، ثُمَّ نَامُوا، ثُمَّ اسْتَيْقَظُوا، قَالَ قَيْسٌ: فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: فَخَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُمْ تَوَضَّئُوا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ عشا کی نماز کو اتنا مؤخر کیا کہ لوگ دو مرتبہ سو کر بیدار ہوئے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! نماز، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور انہیں نماز پڑھائی، راوی نے ان کے وضو کرنے کا ذکر نہیں کیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2195]

الحكم على الحديث:
إسناده صحح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2196
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَحَسَنٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ كُرَيْبِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، فَقَامَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ صَلَّى، ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ جَاءَهُ بِلَالٌ بِالْأَذَانِ، فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ"، قَالَ حَسَنٌ: يَعْنِي فِي حَدِيثِهِ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ نَامَ حَتَّى نَفَخَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں رات گزاری، رات کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو کر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے بھی کھڑے ہو کر اسی طرح کیا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنی دائیں جانب کر لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور پھر لیٹ کر سو گئے حتی کہ خر اٹے لینے لگے، یہاں تک کہ جب مؤذن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر دو رکعتیں ہلکی سی پڑھیں، اور باہر تشریف لا کر فجر کی نماز پڑھائی اور تازہ وضو نہیں کیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2196]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 138، م: .763
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2197
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ رَجُلًا آدَمَ، طُوَالًا، جَعْدًا، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ مَرْبُوعَ الْخَلْقِ، إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ، سَبْطَ الرَّأْسِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے شب معراج حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو دیکھا، وہ گندم گوں، لمبے قد اور گھنگھریالے بالوں والے آدمی تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ قبیلہ شنوءہ کے آدمیوں میں سے ہوں، نیز میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا، وہ درمیانے قد کے، سرخ و سفید رنگت اور سیدھے بالوں والے تھے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2197]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3239، م: 165
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2198
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: حَدَّث أَبُو الْعَالِيَةِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2198]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3239، م: 165
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2199
(حديث مرفوع) حَدَّثَنا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ أَنْ لَا يُدْعَى لِأَبٍ، وَمَنْ رَمَاهَا، أَوْ رَمَى وَلَدَهَا، فَإِنَّهُ يُجْلَدُ الْحَدَّ، وَقَضَى أَنْ لَا قُوتَ لَهَا عليه وَلَا سُكْنَى، مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمَا يَتَفَرَّقَانِ مِنْ غَيْرِ طَلَاقٍ، وَلَا مُتَوَفًّى عَنْهَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والی عورت کی اولاد کے متعلق یہ فیصلہ فرما دیا کہ ”اس عورت کی اولاد کو باپ کی طرف منسوب نہ کیا جائے، جو شخص اس پر یا اس کی اولاد پر کوئی تہمت لگائے گا، اسے سزا دی جائے گی“، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ بھی فرمایا کہ ”اس عورت کی رہائش بھی اس کے شوہر کے ذمے نہیں ہے اور نان نفقہ بھی“، کیونکہ ان دونوں کے درمیان طلاق یا وفات کے بغیر جدائی ہوئی تھی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2199]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، فيه عباد بن منصور، تكلم فيه وفي سماعه من عكرمة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2200
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَهُمَا مُحْرِمَانِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2200]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح. وقوله فى هذا الطريق : «وهما محرمان» وهم، والصواب : «وهو محرم»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2201
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ الْعَطَّارِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَنِصْفُ دِينَارٍ" , يَعْنِي: الَّذِي يَغْشَى امْرَأَتَهُ حَائِضًا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے - جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو - یہ فرمایا کہ ”وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2201]

الحكم على الحديث:
صحيح موقوفاً ، وهذا إسناد ضعيف جداً ، عطاء العطار ضعيف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں