مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 2172
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ ذَلِكَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2172]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح كسابقه. وهذا الحديث من مسند جابر بن عبدالله
حدیث نمبر: 2173
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ ثُمَّ خَطَبَ، وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ خَطَبَ، وَعُمَرُ ثُمَّ خَطَبَ، وَعُثْمَانُ ثُمَّ خَطَبَ، بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ عید کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، اور سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ موجود رہے ہیں، یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2173]
الحكم على الحديث:
صحيح، وفي حفظ مؤمل بن إسماعيل شيء، لكنه توبع
حدیث نمبر: 2174
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ أَبُو جَعْفَرٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ السَّدُوسِيِّ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ رَكْعَتَيْنِ لَا يَقْرَأُ فِيهِمَا إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ، لَمْ يَزِدْ عَلَيْهَا شَيْئًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز دو رکعتیں کر کے پڑھائیں، ان دونوں رکعتوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف سورہ فاتحہ کی تلاوت فرمائی اور اس پر کسی سورت کا اضافہ نہیں کیا (غالبا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تک دور ہونے کی وجہ سے آواز نہ پہنچ سکی ہوگی)۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2174]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، حنظلة السدوسي، ضعيف مختلط، وشهر بن حوشب، مختلف فيه
حدیث نمبر: 2175
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ يَعْنِي ابْنَ أَبَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ , يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :" رُكِزَتْ الْعَنَزَةُ بَيْنَ يَدَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ، فَصَلَّى إِلَيْهَا، وَالْحِمَارُ يَمُرُّ مِنْ وَرَاءِ الْعَنَزَةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میدان عرفات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک نیزہ گاڑ دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سامنے رکھ کر نماز پڑھائی، جبکہ اس نیزے کے ورے گدھے بھی گزر رہے تھے (کیونکہ وہ نیزہ بطور سترہ کے استعمال کیا جا رہا تھا). [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2175]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
حدیث نمبر: 2176
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ عَبْدَانِ، فَأَعْتَقَهُمَا" , أَحَدُهُمَا أَبُو بَكْرَةَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْتِقُ الْعَبِيدَ إِذَا خَرَجُوا إِلَيْهِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ طائف کے دن جب اہل طائف کا محاصرہ کیا تو ان کے دو غلام نکل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آ ملے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا، جن میں سے ایک سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ مشرکوں کے ان تمام غلاموں کو آزاد کر دیا کرتے تھے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ جاتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2176]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، حجاج مدلس وقد عنعنه، والحكم بن عتيبة لم يسمعه من مقسم
حدیث نمبر: 2177
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَائِذٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کی زبانی تم پر نماز کو فرض قرار دیا ہے، مقیم پر چار رکعتیں، مسافر پر دو رکعتیں اور نماز خوف پڑھنے والے پر ایک رکعت۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2177]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 687
حدیث نمبر: 2178
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ابْنُ أُخْتِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ أَنْ يَقُولَ: بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنِي، فَإِنْ اللَّهُ قَضَى بَيْنَهُمَا فِي ذَلِكَ وَلَدًا، لَمْ يَضُرَّهُ الشَّيْطَانُ أَبَدًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس ملاقات کے لئے آ کر یہ دعا پڑھ لے: «بِسْمِ اللّٰهِ اللّٰهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنِي» ”اللہ کے نام سے، اے اللہ! مجھے بھی شیطان سے محفوظ فرما دیجئے اور اس ملاقات کے نتیجے میں آپ جو اولاد ہمیں عطا فرمائیں، اسے بھی شیطان سے محفوظ فرمائیے“، تو اگر ان کے مقدر میں اولاد ہوئی تو اس اولاد کو شیطان کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2178]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 141، م: 1434
حدیث نمبر: 2179
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ : يَا سَعِيدُ أَلَكَ امْرَأَةٌ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا , قَالَ: فَإِذَا رَجَعْتَ فَتَزَوَّجْ , قَالَ: فَعُدْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا سَعِيدُ: أَتَزَوَّجْتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا , قَالَ: تَزَوَّجْ، فَإِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَكْثَرُهُمْ نِسَاءً".
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ (میری سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملاقات ہوئی) انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کر لی؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں، فرمایا: شادی کر لو، اس بات کو کچھ عرصہ گزر گیا، دوبارہ ملاقات ہونے پر انہوں نے پھر یہی پوچھا کہ اب شادی ہو گئی؟ میں نے پھر نفی میں جواب دیا، اس پر انہوں نے فرمایا کہ شادی کر لو کیونکہ اس امت میں جو ذات سب سے بہترین تھی (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) ان کی بیویاں زیادہ تھیں (تو تم کم از کم ایک سے ہی شادی کر لو، چار سے نہ سہی)۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2179]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، خ: 5069، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم، عطاء ابن السائب رمي بالاختلاط، ولكنهما توبعا
حدیث نمبر: 2180
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرَّحَبِيُّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" اغْتَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَنَابَةٍ، فَلَمَّا خَرَجَ رَأَى لُمْعَةً عَلَى مَنْكِبِهِ الْأَيْسَرِ، لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ، فَأَخَذَ مِنْ شَعَرِهِ فَبَلَّهَا، ثُمَّ مَضَى إِلَى الصَّلَاةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل جنابت فرمایا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کر کے باہر نکلے تو دیکھا کہ بائیں کندھے پر تھوڑی سی جگہ خشک رہ گئی ہے، وہاں پانی نہیں پہنچا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بالوں سے ٹپکتا ہوا پانی لے کر اس جگہ کو تر بتر کر لیا اور نماز کے لئے چلے گئے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2180]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جداً ، على بن عاصم ضعيف، وأبو على الرحبي متروك
حدیث نمبر: 2181
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَثْعَمِيِّ ، عَنْ أَبِي كَعْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ أَبْطَأَ عَنْكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام , فَقَالَ:" وَلِمَ لَا يُبْطِئُ عَنِّي، وَأَنْتُمْ حَوْلِي لَا تَسْتَنُّونَ، وَلَا تُقَلِّمُونَ أَظْفَارَكُمْ، وَلَا تَقُصُّونَ شَوَارِبَكُمْ، وَلَا تُنَقُّونَ رَوَاجِبَكُمْ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! جبرئیل امین علیہ السلام نے آپ کی خدمت میں حاضر ہونے میں اس دفعہ بڑی تاخیر کر دی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”وہ تاخیر کیوں نہ کریں جبکہ میرے ارد گرد تم لوگ مسواک نہیں کرتے، اپنے ناخن نہیں کاٹتے، اپنی مونچھیں نہیں تراشتے، اور اپنی انگلیوں کی جڑوں کو صاف نہیں کرتے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2181]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، ثعلبة بن مسلم، مجهول، وأبو كعب مولي ابن عباس فيه ، جهالة