مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 2231
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِمَارَ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ، أَوْ بَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زوال آفتاب کے وقت یا اس کے بعد جمرات کی رمی کی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2231]
الحكم على الحديث:
صحيح لشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف نصر بن باب، وقد توبع
حدیث نمبر: 2232
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ أَهْلَ بَدْرٍ كَانُوا ثَلَاثَ مِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا، وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ سِتَّةً وَسَبْعِينَ، وَكَانَ هَزِيمَةُ أَهْلِ بَدْرٍ لِسَبْعَ عَشْرَةَ مَضَيْنَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اہل بدر تین سو تیرہ (313) افراد تھے۔ جن میں چھہتر (76) مہاجرین بھی شامل تھے، غزوہ بدر میں مشرکین کو سترہ (17) رمضان بروز جمعہ ہزیمت اور شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2232]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف نصر بن باب وتدليس الحجاج
حدیث نمبر: 2233
(حديث مرفوع) قَالَ عَبْد اللَّهِ , وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ , حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْمَحْ , يُسْمَحْ لَكَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”در گزر سے کام لیا کرو، تم سے در گزر کی جائے گی۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2233]
الحكم على الحديث:
صحيح، مهدي بن جعفر متابع
حدیث نمبر: 2234
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ، وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مُصْعَبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَكْثَرَ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ، جَعَلَ اللَّهُ لَهُ مِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا، وَمِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا، وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کثرت سے استغفار کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر غم سے کشادگی اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ نکال دیں گے اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائیں گے جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو گا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2234]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، الحكم بن مصعب مجهول
حدیث نمبر: 2235
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ بْنُ عَامِرٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ، فَشَهِدْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ حِينَ قَرَأَ كِتَابَهُ، وَحِينَ كَتَبَ جَوَابَهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :" وَاللَّهِ لَوْلَا أَنْ أَرُدَّهُ عَنْ شَرٍّ يَقَعُ فِيهِ، مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ وَلَا نَعْمَةَ عَيْنٍ , قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ، إِنَّكَ سَأَلْتَنِي عَنْ سَهْمِ ذَوِي الْقُرْبَى الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَنْ هُمْ؟ وَإِنَّا كُنَّا نُرَى قَرَابَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هُمْ، فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا , وَسَأَلَهُ عَنِ الْيَتِيمِ: مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُهُ؟ وَإِنَّهُ إِذَا بَلَغَ النِّكَاحَ، وَأُونِسَ مِنْهُ رُشْدٌ، دُفِعَ إِلَيْهِ مَالُهُ، وَقَدْ انْقَضَى يُتْمُهُ , وَسَأَلَهُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْتُلُ مِنْ صِبْيَانِ الْمُشْرِكِينَ أَحَدًا؟ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلْ مِنْهُمْ أَحَدًا , وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ تَعْلَمُ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الْغُلَامِ الَّذِي قَتَلَهُ , وَسَأَلَهُ عَنِ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ: هَلْ كَانَ لَهُمَا سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ؟ وَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا مِنْ غَنَائِمِ الْمُسْلِمِينَ".
یزید بن ہرمز کہتے ہیں ایک مرتبہ نجدہ بن عامر نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خط لکھ کر چند سوالات پوچھے، جس وقت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کا خط پڑھ کر اس کا جواب لکھ رہے تھے، میں وہاں موجود تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: واللہ! اگر میں نے اسے اس شر سے نہ بچانا ہوتا جس میں وہ مبتلا ہو سکتا ہے تو میں کبھی بھی اسے جواب دے کر اسے خوش نہ کرتا۔ انہوں نے جواب میں لکھا کہ آپ نے مجھ سے ان ذوی القربی کے حصہ کے بارے پوچھا ہے جن کا اللہ نے ذکر کیا ہے کہ وہ کون ہیں؟ ہماری رائے تو یہی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہی اس کا مصداق ہیں لیکن ہماری قوم نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، آپ نے یتیم کے متعلق پوچھا ہے کہ اس سے یتیم کا لفظ کب ہٹایا جائے گا؟ یاد رکھئے! جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائے اور اس کی سمجھ بوجھ ظاہر ہو جائے تو اسے اس کا مال دے دیا جائے کہ اب اس کی یتیمی ختم ہو گئی، نیز آپ نے پوچھا ہے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے کسی بچے کو قتل کیا ہے؟ تو یاد رکھئے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی کے بچے کو قتل نہیں کیا اور آپ بھی کسی کو قتل نہ کریں، ہاں! اگر آپ کو بھی اسی طرح کسی بچے کے بارے پتہ چل جائے جیسے حضرت خضر علیہ السلام کو اس بچے کے بارے پتہ چل گیا تھا جسے انہوں نے مار دیا تھا، تو بات جدا ہے (اور یہ تمہارے لئے ممکن نہیں ہے)، نیز آپ نے پوچھا ہے کہ اگر عورت اور غلام جنگ میں شریک ہوئے ہوں تو کیا ان کا حصہ بھی مال غنیمت میں معین ہے؟ تو ان کا کوئی حصہ معین نہیں ہے البتہ انہیں مال غنیمت میں سے کچھ نہ کچھ دے دینا چاہئے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2235]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1812
حدیث نمبر: 2236
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ قَبْلَ أَنْ يَتَّخِذَ الْمِنْبَرَ، فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ وَتَحَوَّلَ إِلَيْهِ، حَنَّ عَلَيْهِ، فَأَتَاهُ فَاحْتَضَنَهُ فَسَكَنَ، قَالَ:" لَوْ لَمْ أَحْتَضِنْهُ , لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ منبر بننے سے قبل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، جب منبر بن گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر کی طرف منتقل ہو گئے تو کھجور کا وہ تنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کے غم میں رونے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے سینے سے لگا کر خاموش کرایا تو اسے سکون آ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”اگر میں اسے خاموش نہ کراتا تو یہ قیامت تک روتا ہی رہتا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2236]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2237
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2237]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2238
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَالِمٍ أَبُو جَهْضَمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَفِتْيَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: فَسَأَلُوهُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؟ قَالَ:" لَا" , قَالَ: فَقَالُوا: فَلَعَلَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ! قَالَ:" خَمْشًا، هَذِهِ شَرٌّ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَبْدًا مَأْمُورًا، بَلَّغَ مَا أُرْسِلَ بِهِ، وَإِنَّهُ لَمْ يَخُصَّنَا دُونَ النَّاسِ إِلَّا بِثَلَاثٍ أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ، وَلَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ، وَلَا نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ".
سیدنا عبداللہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور قریش کے کچھ نوجوان سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوئے اور ان سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قراءت فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، ہم نے پوچھا کہ شاید آہسۃ آواز میں قرأت فرما لیتے ہوں؟ انہوں نے فرمایا: خاموش! یہ تو اور بھی زیادہ برا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عبد مامور تھے، واللہ! انہیں جو پیغام دے کر بھیجا گیا تھا، انہوں نے وہ پہنچا دیا، اور لوگوں کو چھوڑ کر خصوصیت کے ساتھ انہوں نے ہمیں کوئی بات نہیں بتائی، سوائے تین چیزوں کے، ایک تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خصوصیت کے ساتھ وضو مکمل کرنے کا حکم دیا، دوسرا یہ کہ ہم صدقہ نہ کھائیں، اور تیسرا یہ کہ ہم کسی گدھے کو گھوڑی پر نہ کدوائیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2238]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2239
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَحَّلَ نَاسًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ بِلَيْلٍ، قَالَ شُعْبَةُ: أَحْسَبُهُ قَالَ: ضَعَفَتَهُمْ , وَأَمَرَهُمْ أَنْ لَا يَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ" , شُعْبَةُ شَكَّ فِي ضَعَفَتَهُمْ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ہاشم کے کچھ افراد کو مزدلفہ کی رات جلدی روانہ کر دیا تھا اور انہیں حکم دیا تھا کہ ”طلوع آفتاب سے پہلے رمی نہ کرنا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2239]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 1677، م: 1293. وهذا إسناد منقطع، الحكم لم يدرك ابن عباس
حدیث نمبر: 2240
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، قَالَ:" هُنَّ لَهُمْ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِمْ مِمَّنْ سِوَاهُمْ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، ثم مِنْ حَيْثُ بَدَأَ حَتَّى يَبْلُغَ ذَلِكَ أَهْلَ مَكَّة".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن کو میقات فرمایا، اور فرمایا کہ ”یہ جگہیں یہاں رہنے والوں کے لئے بھی میقات ہیں اور یہاں سے گزرنے والوں کے لئے بھی - جو حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں - حتی کہ اہل مکہ کا احرام وہاں سے ہوگا جہاں سے وہ ابتدا کریں گے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2240]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح