🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2222
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُعَلَّى الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْعُرَنِيُّ ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ :" يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ، وَالْحِمَارُ، وَالْمَرْأَةُ، قَالَ: بِئْسَمَا عَدَلْتُمْ بِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ كَلْبًا وَحِمَارًا، لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَقْبَلْتُ عَلَى حِمَارٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ قَرِيبًا مِنْهُ مُسْتَقْبِلَهُ نَزَلْتُ عَنْهُ، وَخَلَّيْتُ عَنْهُ، وَدَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ، فَمَا أَعَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، وَلَا نَهَانِي عَمَّا صَنَعْتُ، وَلَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَجَاءَتْ وَلِيدَةٌ تَخَلَّلُ الصُّفُوفَ، حَتَّى عَاذَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا أَعَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، وَلَا نَهَاهَا عَمَّا صَنَعَتْ، وَلَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي مَسْجِدٍ، فَخَرَجَ جَدْيٌ مِنْ بَعْضِ حُجُرَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَ يَجْتَازُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَمَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَفَلَا تَقُولُونَ: الْجَدْيُ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ؟!.
حسن عرفی کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے ایک مرتبہ یہ تذکرہ چھڑ گیا کہ کتا، گدھا اور عورت نمازی کے آگے سے گزر جائیں تو نماز ٹوٹ جاتی ہے، انہوں نے فرمایا کہ تم نے ایک مسلمان عورت کو کتے اور گدھے کے برابر قرار دے کر اچھا نہیں کیا، مجھے وہ وقت یاد ہے کہ میں خود ایک گدھے پر سوار ہو کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، جب میں سامنے کے رخ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو گیا تو میں اس سے اتر پڑا اور اسے چھوڑ کر خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کو لوٹایا اور نہ ہی مجھے میرے فعل سے منع فرمایا۔ اسی طرح ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، ایک بچی آ کر صفوں میں گھس گئی اور جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چمٹ گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کو لوٹایا اور نہ ہی اس بچی کو منع فرمایا۔ نیز ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک بکری کا بچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حجرے سے نکلا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سے گزرنے لگا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے روک دیا، اب تم یہ کیوں نہیں کہتے کہ بکری کا بچہ نمازی کے آگے سے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2222]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، لضعف على بن عاصم لكنه متابع. ثم هو منقطع بين الحسن العرني وبين ابن عباس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2223
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّقِّيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ يَعْنِي أَبَا الْمَلِيحِ ، عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَنْ قَدِمَ حَاجًّا، وَطَافَ بِالْبَيْتِ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقَدْ انْقَضَتْ حَجَّتُهُ، وَصَارَتْ عُمْرَةً، كَذَلِكَ سُنَّةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَسُنَّةُ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جو شخص حج کے لئے آیا، بیت اللہ کا طواف کیا، صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی تو اس کا حج پورا ہو گیا اور عمرہ ہو گیا، اللہ کا طریقہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2223]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، عبدالله بن ميمون لم يذكروه بجرح ولا تعديل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2224
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنَا سَيْفٌ ، أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى بِشَاهِدٍ وَيَمِينٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور اس کے ساتھ مدعی سے ایک مرتبہ قسم لینے پر فیصلہ فرما دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2224]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1712
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2225
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَزِيدَ الرَّقِّيُّ أَبُو يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا فُرَاتٌ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو جَهْلٍ: لَئِنْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ، لَآتِيَنَّهُ حَتَّى أَطَأَ عَلَى عُنُقِهِ , قَالَ: فَقَالَ:" لَوْ فَعَلَ , لَأَخَذَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عِيَانًا، وَلَوْ أَنَّ الْيَهُودَ تَمَنَّوْا الْمَوْتَ، لَمَاتُوا، وَرَأَوْا مَقَاعِدَهُمْ فِي النَّارِ، وَلَوْ خَرَجَ الَّذِينَ يُبَاهِلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَرَجَعُوا لَا يَجِدُونَ مَالًا وَلَا أَهْلًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوجہل کہنے لگا: اگر میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کے قریب نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو میں ان کے پاس پہنچ کر ان کی گردن مسل دوں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اگر وہ ایسا کرنے کے لئے آگے بڑھتا تو فرشتے سب کی نگاہوں کے سامنے اسے پکڑ لیتے، اگر یہودی موت کی تمنا کر لیتے تو مر جاتے اور انہیں جہنم میں ان کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا، اور اگر وہ لوگ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مباہلہ کرنے کے لئے آئے تھے، باہر نکلتے تو اپنے گھر اس حال میں لوٹ کر جاتے کہ اپنے مال و دولت اور اہل خانہ میں سے کسی کو نہ پاتے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2225]

الحكم على الحديث:
صحيح، إسماعيل بن يزيد فيه جهالة، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2226
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو جَهْلٍ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2226]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2227
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ أَبُو سَهْلٍ ، فِي شَوَّالٍ سَنَةَ إِحْدَى وَثَمَانِينَ وَمِائَةٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ، وَجَعَلَ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ، ثُمَّ أَتَى السِّقَايَةَ بَعْدَمَا فَرَغَ، وَبَنُو عَمِّهِ يَنْزِعُونَ مِنْهَا، فَقَالَ:" نَاوِلُونِي" , فَرُفِعَ لَهُ الدَّلْوُ فَشَرِبَ، ثُمَّ قَالَ:" لَوْلَا أَنَّ النَّاسَ يَتَّخِذُونَهُ نُسُكًا، وَيَغْلِبُونَكُمْ عَلَيْهِ، لَنَزَعْتُ مَعَكُم" , ثُمَّ خَرَجَ، فَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف فرمایا اور حجر اسود کا استلام اس چھڑی سے کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنوئیں پر تشریف لائے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بنو عم اس میں سے پانی نکال رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے پانی پلاؤ“، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی کا ڈول پیش کیا گیا جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش کر کے فرمایا: ”اگر لوگ اسے بھی حج کا رکن نہ سمجھ لیتے اور تم پر غالب نہ آجاتے تو میں بھی تمہارے ساتھ ڈول بھر بھر کر پانی نکالتا“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جا کر صفا و مروہ کے درمیان سعی کی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2227]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، نصر بن باب ضعيف، والحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2228
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" احْتَجَمَ صَائِمًا مُحْرِمًا، فَغُشِيَ عَلَيْهِ" , قَالَ: فَلِذَلِكَ كَرِهَ الْحِجَامَةَ لِلصَّائِمِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ دار ہونے کی حالت میں محرم ہو کر سینگی لگوائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کی وجہ سے غشی طاری ہو گئی، اسی بناء پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزہ دار کے لئے سینگی لگوانے کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2228]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، نصر بن باب ضعيف، والحجاج مدلس وقد عنعن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2229
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلََمَ" أَعْتَقَ يَوْمَ الطَّائِفِ مَنْ خَرَجَ إِلَيْهِ مَنْ الْعَبِيدِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ طائف کے دن مشرکوں کے ان تمام غلاموں کو آزاد کر دیا، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2229]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف نصر بن باب، حجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن، وبينه وبين مقسم، الحكم بن عتيبة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2229M
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الطَّائِفِ:" مَنْ خَرَجَ إِلَيْنَا مِنَ الْعَبِيدِ، فَهُوَ حُرٌّ" , فَخَرَجَ عَبِيدٌ مِنَ الْعَبِيدِ، فِيهِمْ أَبُو بَكْرَةَ، فَأَعْتَقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ طائف کے دن اعلان کر دیا کہ ”جو غلام ہمارے پاس آ جائے گا، وہ آزاد ہے“، چنانچہ کئی غلام - جن میں سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے - وہاں سے نکل آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2229M]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناده ضعيف، لضعف نصر بن باب، وتدليس الحجاج
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2230
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، قَالَ: ثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: قَتَلَ الْمُسْلِمُونَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَأَعْطَوْا بِجِيفَتِهِ مَالًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادْفَعُوا إِلَيْهِمْ جِيفَتَهُمْ، فَإِنَّهُ خَبِيثُ الْجِيفَةِ، خَبِيثُ الدِّيَة" , فَلَمْ يَقْبَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مسلمانوں نے مشرکین کا ایک آدمی قتل کر دیا، مشرکین اس کی لاش حاصل کرنے کے لئے مال و دولت کی پیشکش کرنے لگے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں اس کی لاش اسی طرح حوالے کر دو، یہ خبیث لاش ہے اور اس کی دیت بھی ناپاک ہے“، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کے عوض کچھ بھی نہیں لیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2230]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، لضعف نصر بن باب، وتدليس الحجاج
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں