🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2212
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ: وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ سورة المائدة آية 44 وَ أُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ سورة المائدة آية 45 وَ أُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ سورة المائدة آية 47 , قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَنْزَلَهَا اللَّهُ فِي الطَّائِفَتَيْنِ مِنَ الْيَهُودِ، وَكَانَتْ إِحْدَاهُمَا قَدْ قَهَرَتْ الْأُخْرَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ، حَتَّى ارْتَضَوْا واصْطَلَحُوا عَلَى أَنَّ كُلَّ قَتِيلٍ قَتَلَهُ الْعَزِيزَةُ مِنَ الذَّلِيلَةِ، فَدِيَتُهُ خَمْسُونَ وَسْقًا، وَكُلَّ قَتِيلٍ قَتَلَهُ الذَّلِيلَةُ مِنَ الْعَزِيزَةِ، فَدِيَتُهُ مِائَةُ وَسْقٍ، فَكَانُوا عَلَى ذَلِكَ حَتَّى قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَذَلَّتْ الطَّائِفَتَانِ كِلْتَاهُمَا لِمَقْدَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ورَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ لَمْ يَظْهَرْ، وَلَمْ يُوطِئْهُمَا عَلَيْهِ، وَهُوَ فِي الصُّلْحِ، فَقَتَلَتْ الذَّلِيلَةُ مِنَ الْعَزِيزَةِ قَتِيلًا، فَأَرْسَلَتْ الْعَزِيزَةُ إِلَى الذَّلِيلَةِ: أَنْ ابْعَثُوا إِلَيْنَا بِمِائَةِ وَسْقٍ، فَقَالَتْ الذَّلِيلَةُ: وَهَلْ كَانَ هَذَا فِي حَيَّيْنِ قَطُّ دِينُهُمَا وَاحِدٌ، وَنَسَبُهُمَا وَاحِدٌ، وَبَلَدُهُمَا وَاحِدٌ، دِيَةُ بَعْضِهِمْ نِصْفُ دِيَةِ بَعْضٍ؟ إِنَّا إِنَّمَا أَعْطَيْنَاكُمْ هَذَا ضَيْمًا مِنْكُمْ لَنَا، وَفَرَقًا مِنْكُمْ، فَأَمَّا إِذْ قَدِمَ مُحَمَّدٌ فَلَا نُعْطِيكُمْ ذَلِكَ , فَكَادَتْ الْحَرْبُ تَهِيجُ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ ارْتَضَوْا عَلَى أَنْ يَجْعَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ، ثُمَّ ذَكَرَتْ الْعَزِيزَةُ، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ , مَا مُحَمَّدٌ بِمُعْطِيكُمْ مِنْهُمْ ضِعْفَ مَا يُعْطِيهِمْ مِنْكُمْ، وَلَقَدْ صَدَقُوا، مَا أَعْطَوْنَا هَذَا إِلَّا ضَيْمًا مِنَّا، وَقَهْرًا لَهُمْ، فَدُسُّوا إِلَى مُحَمَّدٍ مَنْ يَخْبُرُ لَكُمْ رَأْيَهُ: إِنْ أَعْطَاكُمْ مَا تُرِيدُونَ حَكَّمْتُمُوهُ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِكُمْ حَذِرْتُمْ، فَلَمْ تُحَكِّمُوهُ , فَدَسُّوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنَ الْمُنَافِقِينَ لِيَخْبُرُوا لَهُمْ رَأْيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ اللَّهُ رَسُولَهُ بِأَمْرِهِمْ كُلِّهِ وَمَا أَرَادُوا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَأَيُّهَا الرَّسُولُ لا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِينَ قَالُوا آمَنَّا إِلَى قَوْلِهِ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ سورة المائدة آية 41 - 47" , ثُمَّ قَالَ: فِيهِمَا وَاللَّهِ نَزَلَتْ، وَإِيَّاهُمَا عَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات جو نازل فرمائی ہیں: « ﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللّٰهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ . . . فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ . . . فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾ [المائدة: 44-47] » ”جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہ کافر ہیں، . . . وہ ظالم ہیں، . . . وہ فاسق ہیں۔“ یہ یہودیوں کے دو گروہوں کے بارے نازل ہوئی تھیں، زمانہ جاہلیت میں ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر غالب آگیا تھا اور ان لوگوں میں اس فیصلے پر رضا مندی کے ساتھ صلح ہوگئی تھی کہ غالب آنے والے قبیلے نے مغلوب قبیلے کے جس آدمی کو بھی قتل کیا ہوگا، اس کی دیت پچاس وسق ہوگی اور مغلوب قبیلے نے غالب قبیلے کے جس آدمی کو قتل کیا ہوگا، اس کی دیت سو وسق ہوگی، یہ لوگ اس معاہدے پر برقرار رہے یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد یہ دونوں گروہ ہی مغلوب ہو کر رہ گئے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر کوئی لشکر کشی نہ فرمائی اور نہ ان کی زمینوں کو روندا، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے معاہدہ صلح کر لیا، اس دوران مغلوب قبیلے نے غالب قبیلے کے ایک آدمی کو قتل کر دیا، اس غالب قبیلے نے مغلوب قبیلے والوں کو کہلا بھیجا کہ ہمیں دیت کے سو وسق بھیجو، مغلوب قبیلے والوں نے کہا کہ کیا یہ بات کبھی ان قبیلوں میں ہو سکتی ہے جن کا دین بھی ایک ہو، نسب بھی ایک ہو اور شہر بھی ایک ہو؟ اور کسی کی دیت پوری اور کسی کی نصف ہو؟ پہلے ہم لوگ تمہیں یہ مقدار تمہارے ڈر اور خوف کی وجہ سے دیتے رہے، لیکن اب جبکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آگئے ہیں، ہم تمہیں یہ دیت کسی صورت نہیں دے سکتے، قریب تھا کہ ان دونوں گروہوں میں جنگ چھڑ جائے کہ یہ دونوں گروہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم بنانے پر راضی ہوگئے۔ پھر غالب قبیلے کو یاد آیا اور وہ کہنے لگا کہ واللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں ان کی نسبت دگنی دیت نہیں دلوائیں گے، اور یہ لوگ کہہ بھی ٹھیک رہے ہیں کہ یہ ہمارے ڈر، خوف اور تسلط کی وجہ سے ہمیں دگنی دیت دیتے رہے ہیں، اس لئے کسی ایسے آدمی کو خفیہ طور پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجو جو ان کی رائے سے تمہیں باخبر کر سکے، اگر وہ تمہیں وہی دیت دلواتے ہیں جو تم چاہتے ہو تو انہیں اپنا حکم بنالو اور اگر وہ نہیں دلواتے تو تم ان سے اپنا دامن بچاؤ اور انہیں اپنا ثالث مقرر نہ کرو۔ چنانچہ انہوں نے منافقین میں سے کچھ لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خفیہ طور پر بھیجا تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے معلوم کر کے اس کی مخبری کر سکیں، جب وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو ان کی ساری تفصیلات اور ان کے عزائم سے باخبر کر دیا اور یہ آیات نازل فرمائیں: « ﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِينَ قَالُوا آمَنَّا . . . . . وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللّٰهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾ [المائدة: 41-47] » ”اے پیغمبر! آپ کو وہ لوگ غم میں مبتلا نہ کر دیں جو کفر میں آگے بڑھتے ہیں ان لوگوں سے جو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے . . . . . اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہ فاسق ہیں۔“ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: واللہ! یہ آیت ان دونوں گروہوں کے بارے نازل ہوئی ہے اور اللہ نے اس آیت میں یہی دو گروہ مراد لئے ہیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2212]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2213
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَسْتَمِعْ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ، وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، صُبَّ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ، وَمَنْ تَحَلَّمَ عُذِّبَ حَتَّى يَعْقِدَ شَعِيرَةً، وَلَيْسَ بِعَاقِدٍ، وَمَنْ صَوَّرَ صُورَةً كُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی گروہ کی کوئی ایسی بات سن لے جسے وہ اس سے چھپانا چاہتے ہوں تو اس کے دونوں کانوں میں قیامت کے دن عذاب انڈیلا جائے گا، جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے، اسے بھی قیامت کے دن عذاب ہوگا، اور اسے جو کے دو دانوں میں گرہ لگانے کا حکم دیا جائے گا لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے گا، اور جو شخص تصویر کشی کرتا ہے، اسے قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اس میں روح پھونک کر دکھا، لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے گا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2213]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 7042، على بن عاصم يخطئ لكنه متابع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2214
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرِو بْنِ غَلَابٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَعْرَجِ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي بَيْتِ السِّقَايَةِ، وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدة لَهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ , أَخْبِرْنِي عَنْ عَاشُورَاءَ , قَالَ:" عَنْ أَيِّ بَالِهِ؟" , قَالَ: قُلْتُ: عَنْ صِيَامِهِ , قَالَ:" إِذَا أَنْتَ أَهْلَلْتَ الْمُحَرَّمَ فَاعْدُدْ تِسْعًا، ثُمَّ أَصْبِحْ يَوْمَ التَّاسِعِ صَائِمًا" , قال: قُلْتُ: كَذَا كَانَ يَصُومُهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" نَعَمْ".
حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بیت السقایہ حاضر ہوا، وہ اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے، میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے یوم عاشورہ کے متعلق کچھ بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ تم اس کے متعلق کس حوالے سے پوچھنا چاہ رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ روزے کے حوالے سے، یعنی کس دن کا روزہ رکھوں؟ فرمایا: جب محرم کا چاند دیکھ لو تو اس کی تاریخ شمار کرتے رہو، جب نویں تاریخ کی صبح ہو تو روزہ رکھ لو، میں نے عرض کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے؟ فرمایا: ہاں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2214]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 1133، على بن عاصم يخطئ لكنه متابع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2215
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْر ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَأْتِي هَذَا الْحَجَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا , وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ، يَشْهَدُ لِمَنْ اسْتَلَمَهُ بِحَق".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن یہ حجر اسود اس طرح آئے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے یہ دیکھتا ہوگا، اور ایک زبان ہوگی جس سے یہ بولتا ہوگا، اور اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہوگا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2215]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، على بن عاصم متابع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2216
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ: قال دَاوُدُ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ نَاسٌ مِنَ الْأَسْرَى يَوْمَ بَدْرٍ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ فِدَاءٌ" فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِدَاءَهُمْ أَنْ يُعَلِّمُوا أَوْلَادَ الْأَنْصَارِ الْكِتَابَةَ، قَالَ: فَجَاءَ يَوْمًا غُلَامٌ يَبْكِي إِلَى أَبِيهِ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: ضَرَبَنِي مُعَلِّمِي , قَالَ: الْخَبِيثُ، يَطْلُبُ بِذَحْلِ بَدْرٍ! وَاللَّهِ لَا تَأْتِيهِ أَبَدًا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے قیدیوں میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن کے پاس فدیہ دینے کے لئے کچھ بھی موجود نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا فدیہ اس طرح مقرر فرمایا کہ وہ انصاری بچوں کو کتابت سکھا دیں، ایک دن ایک بچہ اپنے باپ کے پاس روتا ہوا آیا، باپ نے پوچھا کہ کیا ہوا؟ اس نے کہا کہ استاد نے مارا ہے، وہ کہنے لگا کہ خبیث! بدر کا انتقام لینا چاہتا ہے، آئندہ تم کبھی اس کے پاس نہیں جاؤ گے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2216]

الحكم على الحديث:
حسن، على بن عاصم فيه ضعف، لكنه متابع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2217
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ بِالشُّهَدَاءِ أَنْ يُنْزَعَ عَنْهُمْ الْحَدِيدُ وَالْجُلُودُ، وَقَالَ:" ادْفِنُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ وَثِيَابِهِمْ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے دن شہداء کے متعلق یہ حکم دیا کہ ”ان سے لو ہے کے ہتھیار اور کھالیں اتار لی جائیں“، اور فرمایا: ”انہیں ان کے خون کے ساتھ انہی کپڑوں میں دفن کر دو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2217]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، على ابن عاصم سيء الحفظ، وعطاء بن السائب مختلط
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2218
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ :" أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ، وَلَحِقَ بِالْمُشْرِكِينَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ سورة آل عمران آية 86 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَبَعَثَ بِهَا قَوْمُهُ، فَرَجَعَ تَائِبًا، فَقَبِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ مِنْهُ، وَخَلَّى عَنْهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک انصاری آدمی مرتد ہو کر مشرکین سے جا ملا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿كَيْفَ يَهْدِي اللّٰهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ . . . . .﴾ [آل عمران: 86] » ”اللہ اس قوم کو کیسے ہدایت دے گا جس نے ایمان کے بعد کفر کیا ہو . . . . .۔“ اس کی قوم نے اسے یہ آیت پہنچا دی اور وہ توبہ کر کے واپس آگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی توبہ قبول فرما لی اور اس کا راستہ چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2218]

الحكم على الحديث:
صحيح، على بن عاصم متابع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2219
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمْ الْبَيَاضَ، فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، وَإِنَّ مِنْ خَيْرِ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدَ، يَجْلُو الْبَصَرَ، وَيُنْبِتُ الشَّعَرَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ سب سے بہترین ہوتے ہیں، اور ان ہی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو، اور تمہارا بہترین سرمہ اثمد ہے جو بینائی کو تیز کرتا ہے اور پلکوں کے بال اگاتا ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2219]

الحكم على الحديث:
صحيح، على بن عاصم متابع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2220
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ , عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ بِالْبَيْتِ، إِذَا انْتَهَى إِلَى الرُّكْنِ الْيَمَانِي مَشَى، حَتَّى يَأْتِيَ الْحَجَرَ، ثُمَّ يَرْمُلُ، وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ" , قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَكَانَتْ سُنَّةً.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چکروں میں رمل کیا ہے، رکن یمانی تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی رفتار سے چلتے رہتے اور جب حجر اسود پر پہنچتے تو رمل شروع کر دیتے اور چار چکر عام رفتار سے لگائے، اور یہ سنت ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2220]

الحكم على الحديث:
صحيح، على بن عاصم متابع، الجريري كان قد اختلط
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2221
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا الْحَذَّاءُ ، عَنْ بَرَكَةَ أَبِي الْوَلِيدِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا فِي الْمَسْجِدِ، مُسْتَقْبِلًا الْحُجَرَ، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ، فَضَحِكَ , ثُمَّ قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ فَبَاعُوهَا، وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا حَرَّمَ عَلَى قَوْمٍ أَكْلَ شَيْءٍ، حَرَّمَ عَلَيْهِمْ ثَمَنَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کا رخ کر کے مسجد حرام میں تشریف فرما تھے کہ اچانک آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور مسکرا کر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت فرمائے کہ ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا لیکن انہوں نے اسے پگھلا کر اس کا تیل بنا لیا اور اسے فروخت کرنا شروع کر دیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم پر کسی چیز کو کھانا حرام قرار دیتا ہے تو ان پر اس کی قیمت بھی حرام کر دیتا ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2221]

الحكم على الحديث:
صحيح، على بن عاصم متابع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں