مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 2241
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصِيبُ مِنَ الرُّءُوسِ , وَهُوَ صَائِمٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سر کا بوسہ لے لیا کرتے تھے اور اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2241]
الحكم على الحديث:
صحيح من حديث عائشة انظر: 29291
حدیث نمبر: 2242
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ، وَكَانَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا، فَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول وحی کا سلسلہ چالیس برس کی عمر میں شروع ہوا، تیرہ سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں رہے، دس سال مدینہ منورہ میں اور ترسٹھ (63) برس کی عمر میں آپ کا وصال ہو گیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2242]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2243
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قالَ:" احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتِجَامَةً فِي رَأْسِهِ، وَهُوَ مُحْرِمٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے سر میں سینگی لگوائی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2243]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5700
حدیث نمبر: 2244
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَعَا بِشَرَابٍ , قَالَ: فَأَتَيْتُهُ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ , فَشَرِبَ قَائِمًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، میں ایک ڈول میں زمزم لے کر آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے اسے نوش فرما لیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2244]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1637، م: 2027
حدیث نمبر: 2245
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّهُ أَتَى خَالَتَهُ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ إِلَى سِقَايَةٍ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ، فَصَلَّى، قَالَ: وَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ، ثُمَّ قُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِي، فَأَدَارَنِي مِنْ خَلْفِهِ، حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات گذاری، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے کسی حصے میں بیدار ہوئے، وضو کر کے کھڑے ہو گئے، میں نے بھی اسی طرح کیا اور آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گھما کر اپنی دائیں طرف کر لیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2245]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 763
حدیث نمبر: 2246
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" قَدْ حَفِظْتُ السُّنَّةَ كُلَّهَا، غَيْرَ أَنِّي لَا أَدْرِي أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، أَمْ لَا؟ وَلَا أَدْرِي كَيْفَ كَانَ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ: وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا سورة مريم آية 8 أَوْ 0 عُسُيًّا" 0؟.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام سنتوں کو محفوظ کر لیا ہے لیکن مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قراءت فرماتے تھے یا نہیں؟ اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس لفظ کو کس طرح پڑھتے تھے «وَقَدْ بَلَغْتُ مِنْ الْكِبَرِ عُتِيًّا» (عین کے پیش اور تاء کے ساتھ) «أَوْ عُسُيًّا» (عین کے پیش اور سین کے ساتھ)؟ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2246]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2247
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، كَانَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُبَاعُ الثَّمَرُ حَتَّى يُطْعَمَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پھل کی خرید و فروخت اس وقت تک نہ کی جائے جب تک وہ کھانے کے قابل نہ ہو جائے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2247]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2248
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَهِيكٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ، وَمَنْ سَأَلَكُمْ بِوَجْهِ اللَّهِ فَأَعْطُوهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اللہ کے نام سے پناہ مانگے، اسے پناہ دے دو اور جو شخص اللہ کی ذات کا واسطہ دے کر تم سے مانگے، اسے دے دو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2248]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 2249
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ زَمْعَةَ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" احْتَجَمَ , وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اس کی مزدوری دے دی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2249]
الحكم على الحديث:
صحيح، خ: 2278، م: 1202. زمعة ضعيف، لكنه توبع
حدیث نمبر: 2250
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْعُمْرَى لِمَنْ أُعْمِرَهَا، وَالرُّقْبَى لِمَنْ أُرْقِبَهَا، وَالْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عمر بھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دے دینے سے وہ اس کی ہو جاتی ہے جسے دی گئی، کسی کی موت پر موقوف کر کے کوئی چیز دینے سے وہ اس کی ہو جاتی ہے جسے دی گئی، اور ہدیہ دے کر اسے واپس لینے والا ایسے ہی ہے جیسے قئی کر کے اسے چاٹ لینے والا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2250]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، حجاج مدلس وقد عنعن