🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2251
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعْمَرَ عُمْرَى، فَهِيَ لِمَنْ أُعْمِرَهَا جَائِزَةٌ، وَمَنْ أَرْقَبَ رُقْبَى، فَهِيَ لِمَنْ أُرْقِبَهَا جَائِزَةٌ، وَمَنْ وَهَبَ هِبَةً، ثُمَّ عَادَ فِيهَا، فَهُوَ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عمر بھر کے لئے کسی کوئی چیز دے دینے سے وہ اس کی ہو جاتی ہے جسے دی گئی، کسی کی موت پر موقوف کر کے کوئی چیز دینے سے وہ اس کی ہو جاتی ہے جسے دی گئی، اور ہدیہ دے کر اسے واپس لینے والا ایسے ہی ہے جیسے قئی کر کے اسے چاٹ لینے والا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2251]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهو مكرر ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2252
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ صُرِفَتْ الْقِبْلَةُ بَعْدُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے سولہ ماہ تک نماز پڑھی ہے، بعد میں قبلہ کا رخ تبدیل کر دیا گیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2252]

الحكم على الحديث:
صحيح، سماك فى روايته عكرمة مضطرب، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2253
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قالَ:" رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمْرَةَ الْعَقَبَة، ثُمَّ ذَبَحَ، ثُمَّ حَلَقَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی کی، پھر قربانی کی، پھر حلق کروایا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2253]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، حجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2254
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ ضِمَامَ بْنَ ثَعْلَبَةَ أَخَا بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ لَمَّا أَسْلَمَ، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَائِضِ الْإِسْلَامِ مِنَ الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا، فَعَدَّ عَلَيْهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِنَّ، ثُمَّ الزَّكَاةَ، ثُمَّ صِيَامَ رَمَضَانَ، ثُمَّ حَجَّ الْبَيْتِ، ثُمَّ أَعْلَمَهُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا فَرَغَ , قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، وَسَأَفْعَلُ مَا أَمَرْتَنِي بِهِ، لَا أَزِيدُ وَلَا أَنْقُصُ , قَالَ: ثُمَّ وَلَّى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ يَصْدُقْ ذُو الْعَقِيصَتَيْنِ، يَدْخُلْ الْجَنَّةَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ضمام بن ثعلبہ - جن کا تعلق بنو سعد بن بکر سے تھا - جب اسلام قبول کرنے کے لئے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرائض اسلام مثلا نماز وغیرہ کے متعلق سوالات کئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے پانچ نمازیں ذکر کیں اور ان پر کچھ اضافہ نہ فرمایا، پھر زکوۃ، روزہ اور حج کا ذکر فرمایا، پھر وہ چیزیں بتائیں جو اللہ نے ان پر حرام قرار دے رکھی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اس سے فارغ ہوئے تو ضمام کہنے لگے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ نے مجھے جو حکم دیا ہے میں ان شاء اللہ اس کے مطابق کروں گا اور اپنی طرف سے اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کروں گا، یہ کہہ کر وہ چلے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس دو چوٹیوں والے نے اپنی یہ بات سچ کر دکھائی تو ضرور جنت میں داخل ہوگا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2254]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، ومحمد بن الوليد لم يرو عنه غير ابن إسحاق، وقد توبع محمد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2255
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَفَعَ خَيْبَرَ: أَرْضَهَا وَنَخْلَهَا، مُقَاسَمَةً عَلَى النِّصْفِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین اور اس کے باغات کو نصف پر بٹائی کے لئے دے دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2255]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ابن أبى ليلي سيء الحفظ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2256
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ وَمُجَاهِدٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي، وَلَا أَقُولُهُ فَخْرًا: بُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ، فَلَيْسَ مِنْ أَحْمَرَ وَلَا أَسْوَدَ يَدْخُلُ فِي أُمَّتِي إِلَّا كَانَ مِنْهُمْ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے پانچ ایسی خصوصیات عطا فرمائی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں، اور میں یہ بات فخر کے طور پر بیان نہیں کر رہا، مجھے ہر سرخ اور سیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، اس لئے جو سرخ یا سیاہ رنگت والا میری امت میں شامل ہو جائے گا وہ اس میں ہی شمار ہوگا اور میرے لئے ساری زمین کو مسجد بنا دیا گیا ہے۔“ فائدہ: وضاحت کے لئے حدیث نمبر 2742 دیکھئے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2256]

الحكم على الحديث:
حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم و يزيد بن أبى زياد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2257
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّبَّاغَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَكَانَ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا سَجَدَ كَبَّرَ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ: لَا أُمَّ لَكَ، أَوَلَيْسَ تِلْكَ سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟".
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، وہ تو جب رکوع سجدے میں جاتے تو تکبیر کہتے تھے، میں نے یہ بات سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ذکر کی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ کیا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نہیں ہے؟ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2257]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2258
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :" مَرَّتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، فَجَاءَتَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَأَخَذَتَا بِرُكْبَتَيْهِ، فَلَمْ يَنْصَرِفْ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَمَرَرْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، وَنَحْنُ عَلَى حِمَارٍ فَجِئْنَا، فَدَخَلْنَا فِي الصَّلَاةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ بنو عبدالمطلب کی دو بچیاں آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے چمٹ گئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم برابر نماز پڑھتے رہے، اسی طرح ایک مرتبہ میں اور ایک انصاری آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، ہم اپنے گدھے پر سوار تھے، ہم لوگ آئے اور نماز میں شامل ہو گئے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2258]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2259
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" حَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ غِلْمَةِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَاحِدًا خَلْفَهُ، وَوَاحِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدالمطلب کے ایک بچے کو اٹھا کر اپنے پیچھے سوار کر لیا اور دوسرے کو اپنے آگے بٹھا لیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2259]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1798
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2260
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ يعني الرَّقِّيُّ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ، وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا اور جس کا کوئی ولی نہ ہو، بادشاہ اس کا ولی ہوتا ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2260]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن ولم يسمع من عكرمة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں