مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 2351
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2351]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4279، م: 1113
حدیث نمبر: 2352
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ، حَدَّثَنِي قَابُوسُ ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ إِلَيْهِمْ مُسْرِعًا، قَالَ: حَتَّى أَفْزَعَنَا مِنْ سُرْعَتِهِ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَيْنَا، قَالَ:" جِئْتُ مُسْرِعًا أُخْبِرُكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَأُنْسِيتُهَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ، وَلَكِنْ الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف بڑی تیزی سے آتے ہوئے دکھائی دیئے، جسے دیکھ کر ہم گھبرا گئے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے قریب پہنچے تو فرمایا کہ ”میں تمہارے پاس تیزی سے اس لئے آ رہا تھا کہ تمہیں شب قدر کے بارے بتا دوں لیکن اس درمیانی فاصلے میں ہی مجھے اس کی تعیین بھلا دی گئی، البتہ تم اسے رمضان کے عشرہ اخیرہ میں تلاش کرو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2352]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح. راجع ما قبله
حدیث نمبر: 2353
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ:" إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ، حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَهُوَ حَرَامٌ، حَرَّمَهُ اللَّهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، مَا أُحِلَّ لِأَحَدٍ فِيهِ الْقَتْلُ غَيْرِي، وَلَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي فِيهِ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، وَمَا أُحِلَّ لِي فِيهِ إِلَّا سَاعَةٌ مِنَ النَّهَارِ، فَهُوَ حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ، وَلَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهُ، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ، وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهُ إِلَّا لِمُعَرِّفٍ" , قَالَ: فَقَالَ الْعَبَّاسُ وَكَانَ مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ , قَدْ عَلِمَ الَّذِي لَا بُدَّ لَهُمْ مِنْهُ: إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّهُ لَا بُدَّ لَهُمْ مِنْهُ، فَإِنَّهُ لِلْقُبُورِ وَالْبُيُوتِ , قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِلَّا الْإِذْخِرَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا: ”یہ شہر حرام ہے، اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا ہے، لہذا مجھ سے پہلے یا بعد والوں کے لئے یہاں قتال حلال نہیں ہے، میرے لئے بھی دن کی صرف چند ساعات اور گھنٹوں کے لئے اسے حلال کیا گیا تھا، یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں، یہاں کے شکار کو مت بھگایا جائے اور یہاں کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کا اشتہار دے کر مالک تک اسے پہنچا دے۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے سناروں اور قبرستانوں کے لئے اذخر نامی گھاس کو مستثنی فرما دیجئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مستثنی فرما دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2353]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، قابوس ضعيف
حدیث نمبر: 2354
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَاقِدٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْخَيَّاطُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وسلم سَمْنٌ، وَأَقِطٌ، وَضَبٌّ، فَأَكَلَ السَّمْنَ وَالْأَقِطَ، ثُمَّ قَالَ لِلضَّبِّ:" إِنَّ هَذَا الشَّيْءَ مَا أَكَلْتُهُ قَطُّ، فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَأْكُلَهُ فَلْيَأْكُلْه" , قَالَ: فَأَكَلَ عَلَى خِوَانِهِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی، گوہ اور پنیر بطور ہدیہ کے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھی اور پنیر میں سے تو کچھ تناول فرما لیا، لیکن نا پسندیدگی کی بنا پر گوہ کو چھوڑ دیا اور فرمایا: ”یہ ایسی چیز ہے جسے میں نے کبھی نہیں کھایا، البتہ جو کھانا چاہتا ہے وہ کھا لے“، چنانچہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر دوسروں نے کھا لیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2354]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي، خ: 2572، م: 1947
حدیث نمبر: 2355
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فِي رَأْسِه، مِنْ صُدَاعٍ كَانَ بِهِ، أَوْ شَيْءٍ كَانَ بِهِ، بِمَاءٍ يُقَالُ له: لَحْيُ جَمَلٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے سر میں سینگی لگوائی، راوی کہتے ہیں کہ یہ کسی تکلیف کی بنا پر تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2355]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5700
حدیث نمبر: 2356
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُودَى الْمُكَاتَبُ بِقَدْرِ مَا أَدَّى دِيَةَ الْحُرِّ، وَبِقَدْرِ مَا رَقَّ دِيَةَ الْعَبْدِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس مکاتب کو آزاد کر دیا گیا ہو (اور کوئی شخص اسے قتل کر دے) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ ”جتنا بدل کتابت وہ ادا کر چکا ہے، اس کے مطابق اسے آزاد آدمی کی دیت دی جائے گی، اور جتنے حصے کی ادائیگی باقی ہونے کی وجہ سے وہ غلام ہے، اس میں غلام کی دیت دی جائے گی۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2356]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2357
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَمَّا اجَمَعَ الْقَوْمُ لِغَسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، وَلَيْسَ فِي الْبَيْتِ إِلَّا أَهْلُهُ: عَمُّهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَالْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ، وَقُثَمُ بْنُ الْعَبَّاسِ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، وَصَالِحٌ مَوْلَاهُ، فَلَمَّا اجَْمَعُوا لِغَسْلِهِ نَادَى مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ أَوْسُ بْنُ خَوْلِيِّ الْأَنْصَارِيُّ، ثُمَّ أَحَدُ بَنِي عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ، وَكَانَ بَدْرِيًّا، عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَلِيُّ، نَشَدْتُكَ اللَّهَ، وَحَظَّنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: ادْخُلْ , فَدَخَلَ فَحَضَرَ غَسْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَلِ مِنْ غَسْلِهِ شَيْئًا، قَالَ: فَأَسْنَدَهُ إِلَى صَدْرِهِ، وَعَلَيْهِ قَمِيصُهُ، وَكَانَ الْعَبَّاسُ، وَالْفَضْلُ، وَقُثَمُ، يُقَلِّبُونَهُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَصَالِحٌ مَوْلَاهُمَا، يَصُبَّانِ الْمَاءَ، وَجَعَلَ عَلِيٌّ يَغْسِلُهُ، وَلَمْ يُرَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ شَيْءٌ مِمَّا يُراهُ مِنَ الْمَيِّتِ، وَهُوَ يَقُولُ: بِأَبِي وَأُمِّي، مَا أَطْيَبَكَ حَيًّا وَمَيِّتًا! , حَتَّى إِذَا فَرَغُوا مِنْ غَسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يُغَسَّلُ بِالْمَاءِ وَالسِّدْرِ، جَفَّفُوهُ، ثُمَّ صُنِعَ بِهِ مَا يُصْنَعُ بِالْمَيِّتِ، ثُمَّ أُدْرِجَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ: ثَوْبَيْنِ أَبْيَضَيْنِ، وَبُرْدِ حِبَرَةٍ , ثُمَّ دَعَا الْعَبَّاسُ رَجُلَيْن، فَقَالَ: لِيَذْهَبْ أَحَدُكُمَا إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاح، وَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يَضْرَحُ لِأَهْلِ مَكَّةَ، وَلْيَذْهَبْ الْآخَرُ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ بْنِ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيِّ، وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَلْحَدُ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ الْعَبَّاسُ لَهُمَا حِينَ سَرَّحَهُمَا: اللَّهُمَّ خِرْ لِرَسُولِكَ , قَالَ: فَذَهَبَا، فَلَمْ يَجِدْ صَاحِبُ أَبِي عُبَيْدَةَ أَبَا عُبَيْدَةَ، وَوَجَدَ صَاحِبُ أَبِي طَلْحَة أَبَا طَلْحَةَ، فَجَاءَ بِهِ، فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے پر اتفاق رائے ہو گیا، تو اس وقت گھر میں صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ ہی تھے، مثلا ان کے چچا سیدنا عباس، سیدنا علی، سیدنا فضل، سیدنا قثم، سیدنا اسامہ بن زید اور سیدنا صالح رضی اللہ عنہم اجمعین، اسی دوران گھر کے دروازے پر کھڑے سیدنا اوس بن خولی انصاری خزرجی بدری رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پکار کر کہا کہ اے علی! میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ ہمارا حصہ بھی رکھنا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: اند آجاؤ، چنانچہ وہ بھی داخل ہو گئے اور اس موقع پر موجود رہے گو کہ انہوں نے غسل میں شرکت نہیں کی۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سینے سے سہارا دیا، جبکہ قمیص جسم پر ہی تھی، سیدنا عباس، سیدنا فضل اور سیدنا قثم رضی اللہ عنہم پہلو مبارک بدل رہے تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کا ساتھ دے رہے تھے، سیدنا اسامہ اور سیدنا صالح رضی اللہ عنہما پانی ڈال رہے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ غسل دے رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ایسی چیز ظاہر نہیں ہوئی جو میت کی ظاہر ہوا کرتی ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ غسل دیتے ہوئے کہتے جارہے تھے: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ حیا و میتا کتنے پاکیزہ رہے۔ یاد رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل پانی اور بیری سے دیا گیا تھا۔ غسل سے فراغت کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک کو خشک کیا، پھر وہی کیا جو میت کے ساتھ کیا جاتا ہے، یعنی انہیں تین کپڑوں میں لپیٹ دیا گیا جن میں سے دو سفید تھے اور ایک دھاری دار سرخ یمنی چادر تھی، پھر معلوم ہوا کہ سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ صندوقی قبر بناتے ہیں جیسے اہل مکہ، اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ - جن کا اصل نام زید بن سہل تھا - اہل مدینہ کے لئے بغلی قبر بناتے ہیں، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے دو آدمیوں کو بلایا، ایک کو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور دوسرے کو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس، اور دعا کی کہ اے اللہ! اپنے پیغمبر کے لئے جو بہتر ہو اسی کو پسند فرما لے، چنانچہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس جانے والے آدمی کو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مل گئے اور وہ انہی کو لے کر آ گیا، اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بغلی قبر تیار کی گئی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2357]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف حسين ابن عبدالله
حدیث نمبر: 2358
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا خُصَيْفُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَزَرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ : يَا أَبَا الْعَبَّاسِ، عَجَبًا لِاخْتِلَافِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِهْلَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَوْجَبَ! فَقَالَ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِذَلِكَ، إِنَّهَا إِنَّمَا كَانَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةً وَاحِدَةً، فَمِنْ هُنَالِكَ اخْتَلَفُوا، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا، فَلَمَّا صَلَّى فِي مَسْجِدِهِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْهِ أَوْجَبَ فِي مَجْلِسِهِ، فَأَهَلَّ بِالْحَجِّ حِينَ فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ، فَسَمِعَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ، فَحَفِظُوا عَنْهُ، ثُمَّ رَكِبَ، فَلَمَّا اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ أَهَلَّ، وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ، وَذَلِكَ أَنَّ النَّاسَ إِنَّمَا كَانُوا يَأْتُونَ أَرْسَالًا، فَسَمِعُوهُ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ يُهِلُّ، فَقَالُوا: إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ , ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ، وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ، فَقَالُوا: إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ , وَايْمُ اللَّهِ، لَقَدْ أَوْجَبَ فِي مُصَلَّاهُ، وَأَهَلَّ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ , وَأَهَلَّ حِينَ عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ , فَمَنْ أَخَذَ بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ , أَهَلَّ فِي مُصَلَّاهُ إِذَا فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ".
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: اے ابوالعباس! مجھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کی بابت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اختلاف پر بڑا تعجب ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اس وقت اس بات کو لوگوں میں سب سے زیادہ میں جانتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری زندگی میں صرف ایک حج کیا تھا، یہیں سے لوگوں میں اختلاف ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم حج کے ارادے سے نکلے، جب ذوالحلیفہ کی مسجد میں دو رکعتیں پڑھ چکے تو وہیں بیٹھے بیٹھے حج کا احرام باندھ لیا، لوگوں نے اسے سن کر اپنے ذہنوں میں محفوظ کر لیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر سوار ہوئے، جب اونٹنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر سیدھی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ احرام کی نیت والے الفاظ کہے، کچھ لوگوں نے یہ الفاط سن لئے کیونکہ لوگ مختلف ٹولیوں کی شکل میں آتے تھے، اکٹھے ہی سارے نہیں آ جاتے تھے، یہ لوگ بعد میں کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت احرام باندھا تھا جب اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر سیدھی ہوگئی تھی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے روانہ ہوئے، جب بیداء کی چوٹی پر چڑھے تو دوبارہ تلبیہ کہا، کچھ لوگوں نے اس وقت کو یاد رکھا اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیداء کی چوٹی پر احرام باندھا ہے، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی نیت تو اپنی جائے نماز پر بیٹھے بیٹھے ہی کر لی تھی، البتہ تلبیہ کا اعادہ اس وقت بھی کیا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری آپ کو لے کر چلنے لگی تھی، اور اس وقت بھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیداء کی چوٹی پر چڑھے تھے، اس لئے جو شخص سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے قول پر عمل کرنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ احرام کی دو رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے ہی احرام کی نیت کر لے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2358]
الحكم على الحديث:
حسن لغير، وهذا إسناد محتمل للتحسين، وخصيف بن عبدالرحمن سيئ الحفظ ، وحديثه يصلح للمتابعات
حدیث نمبر: 2359
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِائَةَ بَدَنَةٍ، نَحَرَ مِنْهَا ثَلَاثِينَ بَدَنَةً بِيَدِهِ، ثُمَّ أَمَرَ عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا بَقِيَ مِنْهَا، وَقَالَ:" اقْسِمْ لُحُومَهَا وَجِلَالَهَا وَجُلُودَهَا بَيْنَ النَّاسِ، وَلَا تُعْطِيَنَّ جَزَّارًا مِنْهَا شَيْئًا، وَخُذْ لَنَا مِنْ كُلِّ بَعِيرٍ حُذْيَةً مِنْ لَحْمٍ، ثُمَّ اجْعَلْهَا فِي قِدْرٍ وَاحِدَةٍ، حَتَّى نَأْكُلَ مِنْ لَحْمِهَا، وَنَحْسُوَ مِنْ مَرَقِهَا" , فَفَعَلَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر سو اونٹوں کی قربانی پیش کی، جن میں سے تیس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے ذبح کئے، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور باقی انہوں نے ذبح کئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ ”ان سب کا گوشت، جھولیں اور کھالیں لوگوں میں تقسیم کر دو، قصاب کو اس میں کوئی چیز بطور اجرت کے نہ دینا، اور ہر اونٹ میں سے گوشت کا ایک لمبا ٹکڑا ہمارے لئے رکھ لینا، پھر ان سب کو ایک ہنڈیا میں پکانا تاکہ ہم بھی اس کا گوشت کھا سکیں اور اس کا شوربہ پی سکیں“، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2359]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، الإبهام شيخ محمد بن إسحاق، ثم متن الحديث مخالف للحديث الصحيح، والصواب : نحر رسول الله بيده ثلاثا وستين بدنة ونحر على ما غبر، وهو سبع وثلاثون بدنة
حدیث نمبر: 2360
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا الْعَبَّاسِ، أَرَأَيْتَ قَوْلَكَ: مَا حَجَّ رَجُلٌ لَمْ يَسُقْ الْهَدْيَ مَعَهُ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ، إِلَّا حَلَّ بِعُمْرَة، وَمَا طَافَ بِهَا حَاجٌّ قَدْ سَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ، إِلَّا اجْتَمَعَتْ لَهُ عُمْرَةٌ وَحَجَّةٌ، وَالنَّاسُ لَا يَقُولُونَ هَذَا , فَقَالَ: وَيْحَكَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ، لَا يَذْكُرُونَ إِلَّا الْحَجَّ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْيُ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَيُحِلَّ بِعُمْرَةٍ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا هُوَ الْحَجُّ , فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَيْسَ بِالْحَجِّ، وَلَكِنَّهَا عُمْرَةٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: اے ابوالعباس! آپ تو یہ فرماتے ہیں کہ ایسا شخص جو اپنے ساتھ ہدی کا جانور لے کر حج پر نہ جا رہا ہو، وہ بیت اللہ کا طواف کرے اور عمرہ کر کے حلال ہو جائے، اور وہ حاجی جو اپنے ساتھ ہدی کا جانور لے کر جا رہا ہو، اس کا حج اور عمرہ اکٹھا ہو جاتا ہے، لیکن لوگ اس طرح نہیں کہتے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم پر افسوس ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب روانہ ہوئے تھے تو انہوں نے احرام باندھتے وقت صرف حج کا ذکر کیا تھا، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ ”جس کے پاس ہدی کا جانور نہ ہو، وہ بیت اللہ کا طواف کرے اور عمرہ کر کے حلال ہوجائے“، ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو حج کا احرام ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حج نہیں ہے بلکہ عمرہ ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2360]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن