مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 2381
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ، فَذَكَرَهُ مُخْتَصَرًا.
گزشتہ حدیث اختصار کے ساتھ اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2381]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 2382
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَا كَانَتْ صَلَاةُ الْخَوْفِ إِلَّا كَصَلَاةِ أَحْرَاسِكُمْ , هؤلاء الْيَوْمَ خَلْفَ أَئِمَّتِكُمْ، إِلَّا أَنَّهَا كَانَتْ عُقْبًا، قَامَتْ طَائِفَةٌ وَهُمْ جَمْعٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَجَدَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَجَدَ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، وَقَامُوا مَعَهُ جَمِيعًا، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعُوا مَعَهُ جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ، فَسَجَدَ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ قِيَامًا أَوَّلَ مَرَّةٍ، وَقَامَ الْآخَرُونَ الَّذِينَ كَانُوا سَجَدُوا مَعَهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ، فَلَمَّا جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِينَ سَجَدُوا مَعَهُ فِي آخِرِ صَلَاتِهِمْ، سَجَدَ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ جَلَسُوا، فَجَمَعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّلَامِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ صلوۃ الخوف اسی طرح ہوتی تھی جیسے آج کل تمہارے چوکیدار تمہارے ائمہ کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں، البتہ ہوتا یہ تھا کہ فوج گھاٹیوں میں ہوتی تھی، لوگوں کا ایک گروہ کھڑا ہو جاتا، ہوتے وہ سب ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ایک گروہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب سجدہ کر چکتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے اور جو گروہ کھڑا ہوتا وہ خود سجدہ کر لیتا، پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے تو سب ہی کھڑے ہو جاتے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے، تمام لوگ بھی رکوع کرتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ میں وہ لوگ شریک ہو جاتے جو پہلی مرتبہ کھڑے ہوئے تھے اور پہلی مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کرنے والے کھڑے ہو جاتے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ جاتے اور وہ لوگ بھی جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آخر میں سجدہ کیا ہوتا، تو وہ لوگ سجدہ کر لیتے جو کھڑے تھے، پھر وہ بیٹھ جاتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کو اکٹھا لے کر سلام پھیرتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2382]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 2383
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ يَزْعُمُونَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اغْتَسِلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَاغْسِلُوا رُءُوسَكُمْ، وَإِنْ لَمْ تَكُونُوا جُنُبًا، وَمَسُّوا مِنَ الطِّيبِ" , قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَمَّا الطِّيبُ، فَلَا أَدْرِي، وَأَمَّا الْغُسْلُ، فَنَعَمْ.
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم اگرچہ حالت جنابت میں نہ ہو پھر بھی جمعہ کے دن غسل کیا کرو، اور اپنا سر دھویا کرو، اور خوشبو لگایا کرو“؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ خوشبو کا تو مجھے علم نہیں ہے البتہ غسل کی بات صحیح ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2383]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 2384
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ الْحَضْرَمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ، كِلَاهُمَا حَدَّثَنِي، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فِي بُرْدٍ لَهُ حَضْرَمِيٍّ مُتَوَشِّحَاً به، مَا عَلَيْهِ غَيْرُهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے وقت ایک حضرمی چادر میں اچھی طرح لپٹ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر اس کے علاوہ کچھ اور نہ تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2384]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، محمد بن الوليد لم يرو عنه غير ابن إسحاق، وقد توبع
حدیث نمبر: 2385
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ وَهُوَ" يَتَّقِي الطِّينَ إِذَا سَجَدَ بِكِسَاءٍ عليه، يَجْعَلُهُ دُونَ يَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ إِذَا سَجَدَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ بارش کے دن دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جاتے تو زمین کے کیچڑ سے بچنے کے لئے اپنی چادر کو زمین پر بچھا لیتے، پھر اس پر ہاتھ رکھتے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2385]
الحكم على الحديث:
حسن، وهذا إسناد ضعيف، لضعف حسين بن عبدالله
حدیث نمبر: 2386
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيْهِ قَبْلَ الْفَجْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَالْآيَتَيْنِ مِنْ خَاتِمَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، وَفِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ بِفَاتِحَةِ الْقُرْآنِ، وَبِالْآيَةِ مِنْ آلِ عِمْرَانَ: قُلْ يَأَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ سورة آل عمران آية 64 , حَتَّى يَخْتِمَ الْآيَةَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ پہلی رکعت میں سورہ بقرہ کی آخری دو آیتوں کی تلاوت فرماتے تھے، اور دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے ساتھ سورہ آل عمران کی یہ آیت تلاوت فرماتے: « ﴿قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ . . . . .﴾ [آل عمران: 64] » یہاں تک کہ اس آیت کو مکمل فرما لیتے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2386]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، لجهالة الراوي عن ابن عباس
حدیث نمبر: 2387
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: طَلَّقَ رُكَانَةُ بْنُ عَبْدِ يَزِيدَ أَخُو بني مُطَّلِبِ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ، فَحَزِنَ عَلَيْهَا حُزْنًا شَدِيدًا، قَالَ: فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ طَلَّقْتَهَا؟" , قَالَ: طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا , قَالَ: فَقَالَ:" فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ؟" , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ:" فَإِنَّمَا تِلْكَ وَاحِدَةٌ فَارْجِعْهَا إِنْ شِئْتَ" , قَالَ: فَرَجَعَهَا , فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَرَى أَنَّمَا الطَّلَاقُ عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رکانہ بن عبد یزید - جن کا تعلق بنو مطلب سے تھا - نے ایک ہی مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، بعد میں انہیں اس پر انتہائی غم ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”تم نے کس طرح طلاق دی تھی؟“ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اسے تین طلاقیں دے دی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”کیا ایک ہی مجلس میں تینوں طلاقیں دے دی تھیں؟“ عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: ”پھر یہ ایک ہوئی، اگر چاہو تو تم اس سے رجوع کر سکتے ہو۔“ چنانچہ انہوں نے رجوع کر لیا، اسی وجہ سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رائے یہ تھی کہ طلاق ہر طہر کے وقت ہوتی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2387]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، رواية داود بن الحصين عن عكرمة فيها شيء
حدیث نمبر: 2388
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمَّا أُصِيبَ إِخْوَانُكُمْ بِأُحُدٍ، جَعَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَرْوَاحَهُمْ فِي أَجْوَافِ طَيْرٍ خُضْرٍ تَرِدُ أَنْهَارَ الْجَنَّةِ، تَأْكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا، وَتَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مِنْ ذَهَبٍ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ، فَلَمَّا وَجَدُوا طِيبَ مَشْرَبِهِمْ وَمَأْكَلِهِمْ، وَحُسْنَ مُنْقَلَبِهِمْ، قَالُوا: يَا لَيْتَ إِخْوَانَنَا يَعْلَمُونَ بِمَا صَنَعَ اللَّهُ لَنَا، لِئَلَّا يَزْهَدُوا فِي الْجِهَادِ، وَلَا يَنْكُلُوا عَنِ الْحَرْبِ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:" أَنَا أُبَلِّغُهُمْ عَنْكُمْ" , فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ عَلَى رَسُولِهِ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا سورة آل عمران آية 169.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب غزوہ احد کے موقع پر تمہارے بھائی شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ارواح کو سبز رنگ کے پرندوں کے پیٹوں میں رکھ دیا جو جنت کی نہروں پر اترتے، اس کے پھلوں کو کھاتے اور عرش کے سائے میں سونے کی قندیلوں میں رہتے تھے، جب انہوں نے اپنے کھانے پینے کی چیزوں کی یہ عمدگی، اور آرام کے لئے ایسا بہترین ٹھکانہ دیکھا تو وہ کہنے لگے کہ کاش! ہمارے بھائیوں کو بھی کسی طریقے سے پتہ چل جاتا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے کیا کچھ تیار کر رکھا ہے، تاکہ وہ بھی جہاد سے بےرغبتی نہ کریں اور لڑائی سے منہ نہ پھیریں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”تمہارا یہ پیغام ان تک میں پہنچاؤں گا“، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر پر سورہ آل عمران کی یہ آیات نازل فرما دیں: « ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾ [آل عمران: 169] » ۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2388]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، أبو الزبير المكي لم يسمع من أبن عباس، وبينهما فى هذا الحديث سعيد بن جبير
حدیث نمبر: 2389
حَدَّثَنَا عبد الله، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2389]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 2390
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشُّهَدَاءُ عَلَى بَارِقِ نَهَرٍ بِبَابِ الْجَنَّةِ، فِي قُبَّةٍ خَضْرَاءَ، يَخْرُجُ عَلَيْهِمْ رِزْقُهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ بُكْرَةً وَعَشِيًّا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شہداء کرام باب جنت پر موجود ایک نہر کے کنارے پر سبز رنگ کے خیمے میں رہتے ہیں، جہاں صبح و شام جنت سے ان کے پاس رزق پہنچتا رہتا ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2390]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن