🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2401
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَ مَعْنَاهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2401]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2402
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَتَاهُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ مَلَكَانِ، فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رِجْلَيْهِ، وَالْآخَرُ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَيْهِ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِهِ: اضْرِبْ مَثَلَ هَذَا، وَمَثَلَ أُمَّتِهِ , فَقَالَ: إِنَّ مَثَلَهُ وَمَثَلَ أُمَّتِهِ كَمَثَلِ قَوْمٍ سَفْرٍ، انْتَهَوْا إِلَى رَأْسِ مَفَازَةٍ، فَلَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ مِنَ الزَّادِ مَا يَقْطَعُونَ بِهِ الْمَفَازَةَ، وَلَا مَا يَرْجِعُونَ بِهِ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ، إِذْ أَتَاهُمْ رَجُلٌ فِي حُلَّةٍ حِبَرَةٍ، فَقَالَ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ وَرَدْتُ بِكُمْ رِيَاضًا مُعْشِبَةً، وَحِيَاضًا رُوَاءً، أَتَتَّبِعُونِي؟ فَقَالُوا: نَعَمْ , قَالَ: فَانْطَلَقَ بِهِمْ، فَأَوْرَدَهُمْ رِيَاضًا مُعْشِبَةً، وَحِيَاضًا رُوَاءً، فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا وَسَمِنُوا، فَقَالَ لَهُمْ: أَلَمْ أَلْقَكُمْ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، فَجَعَلْتُمْ لِي إِنْ وَرَدْتُ بِكُمْ رِيَاضًا مُعْشِبَةً، وَحِيَاضًا رُوَاءً، أَنْ تَتَّبِعُونِي؟ فَقَالُوا: بَلَى , قَالَ: فَإِنَّ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ رِيَاضًا أَعْشَبَ مِنْ هَذِهِ، وَحِيَاضًا هِيَ أَرْوَى مِنْ هَذِهِ، فَاتَّبِعُونِي , قَالَ: فَقَالَتْ طَائِفَةٌ: صَدَقَ وَاللَّهِ، لَنَتَّبِعَنَّهُ، وَقَالَتْ طَائِفَةٌ: قَدْ رَضِينَا بِهَذَا نُقِيمُ عَلَيْهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب میں دو فرشتے آئے، ان میں سے ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کی طرف بیٹھ گیا اور دوسرا سر کی طرف، جو فرشتہ پاؤں کی طرف بیٹھا تھا اس نے سر کی طرف بیٹھے ہوئے فرشتے سے کہا کہ ان کی اور ان کی امت کی مثال بیان کرو، اس نے کہا کہ ان کی اور ان کی امت کی مثال اس مسافر قوم کی طرح ہے جو ایک جنگل کے کنارے پہنچی ہوئی ہے، ان کے پاس اتنا زاد سفر نہ ہو کہ وہ اس جنگل کو طے کر سکیں، یا واپس جا سکیں، ابھی یہ لوگ اسی حال میں ہوں کہ ان کے پاس یمنی حلے میں ایک آدمی آئے اور ان سے کہے: دیکھو! اگر میں ایک سرسبز و شاداب باغ اور جاری حوض پر لے کر جاؤں تو کیا تم میری پیروی کرو گے؟ وہ جواب دیں کہ ہاں! چنانچہ وہ شخص انہیں لے کر سرسبز و شاداب باغات اور سیراب کرنے والے جاری حوضوں پر پہنچ جائے اور یہ لوگ کھا پی کر خوب صحت مند ہوجائیں۔ پھر وہ آدمی ایک دن ان سے کہے: کیا تم سے میری ملاقات اس حالت میں نہیں ہوئی تھی کہ تم نے مجھ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر میں تمہیں سرسبز و شاداب باغات اور سیراب کرنے والے جاری حوضوں پر لے کر پہنچ جاؤں تو تم میری پیروی کرو گے؟ وہ جواب دیں: کیوں نہیں، وہ آدمی کہے کہ پھر تمہارے آگے اس سے بھی زیادہ سرسبز و شاداب باغات ہیں اور اس سے زیادہ سیراب کرنے والے حوض ہیں اس لئے اب میری پیروی کرو، اس پر ایک گروہ ان کی تصدیق کرے اور کہے کہ ان شاء اللہ ہم ان کی پیروی کریں گے اور دوسرا گروہ کہے: ہم یہیں رہنے میں خوش ہیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2402]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، لضعف على بن زيد ولين يوسف بن مهران
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2403
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ:" كَانَ الْمَاءُ يسْتَنْقِعُ فِي جُفُونِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ عَلِيٌّ يَحْسُوهُ".
جعفر بن محمد کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیالوں میں پانی جمع کر لیا جاتا تھا، بعد میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اسے تھوڑا تھوڑا کر کے پیتے رہتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2403]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، لانقطاعه، جعفر بن محمد لم يدرك ذلك ولم يسنده. وهذا الحديث من مسند جعفر بن محمد أو على ابن أبى طالب، لا من مسند ابن عباس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2404
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِم ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِذَا لَبَّى يَقُولُ:" لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ" , قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ انْتَهِ إِلَيْهَا، فَإِنَّهَا تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ضحاک بن مزاحم کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما جب تلبیہ پڑھتے تو یوں کہتے: «لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» اور فرماتے تھے کہ یہاں رک جاؤ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہی تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2404]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو إسحاق مختلط، ورواية زهير عنه بعد الاختلاط والضحاك لم يسمع من ابن عباس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2405
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، الَّذِي يُحْدِثُ التَّفْسِيرَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَلْفِهِ، فَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ، وَهُوَ مُجَخٍّ قَدْ فَرَّجَ يَدَيْهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کے پیچھے سے آیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بازو پہلوؤں سے جدا کر کے کھول رکھے تھے، اس لئے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2405]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، التميمي لم يرو عنه غير أبى إسحاق وأبو إسحاق مختلط، ورواية زهير عنه بعد الاختلاط، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2406
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يُعِدْ الْوُضُوءَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شانے کا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2406]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 207، سماك بن حرب فى روايته عن عكرمة خاصة مضطرب، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2407
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ظِلِّ حُجْرَةٍ مِنْ حُجَرِهِ، وَعِنْدَهُ نَفَرٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، قَدْ كَادَ يَقْلِصُ عَنْهُمْ الظِّلُّ، قَالَ: فَقَالَ:" إِنَّهُ سَيَأْتِيكُمْ إِنْسَانٌ يَنْظُرُ إِلَيْكُمْ بِعَيْنَيْ شَيْطَانٍ، فَإِذَا أَتَاكُمْ، فَلَا تُكَلِّمُوهُ" , قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ أَزْرَقُ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَلَّمَهُ، قَالَ: عَلَامَ تَشْتُمُنِي أَنْتَ، وَفُلَانٌ، وَفُلَانٌ؟ نَفَرٌ دَعَاهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ، قَالَ: فَذَهَبَ الرَّجُلُ فَدَعَاهُمْ، فَحَلَفُوا بِاللَّهِ، وَاعْتَذَرُوا إِلَيْهِ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ سورة المجادلة آية 18.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے، کچھ مسلمان بھی وہاں موجود تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ابھی تمہارے پاس ایک ایسا آدمی آئے گا جو شیطان کی آنکھ سے دیکھتا ہے، جب وہ تمہارے پاس آئے تو تم اس سے کوئی بات نہ کرنا۔“ تھوڑی دیر میں نیلی رنگت کا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ اے محمد! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تم نے مجھے برا بھلا کیوں کہا اور اس پر قسم کھانے لگا، اس جھگڑے کے بارے یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ﴾ [المجادلة: 18] » ”یہ جھوٹ پر قسم کھا لیتے ہیں اور انہیں پتہ بھی نہیں ہوتا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2407]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2408
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي ظِلِّ حُجْرَةٍ، قَدْ كَادَ يَقْلِصُ عَنْهُ الظِّلُّ , فَذَكَرَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2408]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، مؤمل سيئ الحفظ، قد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2409
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ قَابُوسَ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ حَاجَتُهُمَا وَاحِدَةٌ، فَتَكَلَّمَ أَحَدُهُمَا، فَوَجَدَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِيهِ إِخْلَافًا، فَقَالَ لَهُ:" أَلَا تَسْتَاكُ؟" , فَقَالَ: إِنِّي لَأَفْعَلُ، وَلَكِنِّي لَمْ أَطْعَمْ طَعَامًا مُنْذُ ثَلَاثٍ , فَأَمَرَ بِهِ رَجُلًا فَآوَاهُ، وَقَضَى لَهُ حَاجَتَهُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی آئے، ان دونوں کی ضرورت ایک جیسی تھی، ان میں سے ایک نے جب اپنی بات شروع کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے منہ سے بدبو محسوس ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تم مسواک نہیں کرتے؟“ اس نے کہا: کرتا ہوں، لیکن مجھے تین دن سے کچھ کھانے کو نہیں ملا (اس کی وجہ سے منہ سے بدبو آرہی ہے)، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا جس نے اسے ٹھکانہ مہیا کر دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ضرورت پوری کر دی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2409]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، قابوس ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2410
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ : أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ سورة الأحزاب آية 4 مَا عَنَى بِذَلِكَ؟ قَالَ:" قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يُصَلِّي، قَالَ: فَخَطَرَ خَطْرَةً، فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ الَّذِينَ يُصَلُّونَ مَعَهُ: أَلَا تَرَوْنَ لَهُ قَلْبَيْنِ؟ قَالَ: قَلْباًًٌ مَعَكُمْ، وَقَلَبٌ مَعَهُمْ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ سورة الأحزاب آية 4".
ابوظبیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ « ﴿مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ﴾ [الأحزاب: 4] » ”اللہ نے کسی انسان کے سینے میں دو دل نہیں بنائے“، اس ارشاد باری تعالیٰ کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوئے، دوران نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی خیال آیا، تو وہ منافق جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، کہنے لگے: کیا تم دیکھتے نہیں کہ ان کے دو دل ہیں، ایک دل تمہارے ساتھ اور ایک دل ان کے ساتھ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2410]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں