🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2441
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيجٌ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ أبي مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَطَبَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ , فَجَعَلَتْ أَمْرَهَا إِلَى الْعَبَّاسِ , فَزَوَّجَهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام بھیجا، انہوں نے اپنے معاملے کا اختیار سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو دے دیا اور انہوں نے ان کا نکاح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2441]

الحكم على الحديث:
حسن، وهذا إسناد ضعيف، لتدليس الحجاج
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2442
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ , عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَتَلَ الْمُسْلِمُونَ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَأَرْسَلُوا رَسُولًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْرَمُونَ الدِّيَةَ بِجِيفَتِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَخَبِيثٌ، خَبِيثُ الدِّيَةِ، خَبِيثُ الْجِيفَةِ" , فَخَلَّى بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مسلمانوں نے مشرکین کا ایک آدمی قتل کر دیا، مشرکین اس کی لاش حاصل کرنے کے لئے مال و دولت کی پیشکش کرنے لگے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں اس کی لاش اسی طرح حوالے کر دو، یہ خبیث لاش ہے اور اس کی دیت بھی ناپاک ہے۔“ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کے عوض کچھ بھی نہیں لیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2442]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعنه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2443
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَتَبَ كِتَابًا بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ , وَالْأَنْصَارِ:" أَنْ يَعْقِلُوا مَعَاقِلَهُمْ، وَأَنْ يَفْدُوا عَانِيَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ، وَالْإِصْلَاحِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے درمیان یہ تحریر لکھ دی کہ ”اپنی دیت ادا کیا کریں، اپنے قیدیوں کا بھلے طریقے سے فدیہ ادا کریں اور مسلمانوں میں اصلاح کی کوشش کیا کریں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2443]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لتدليس الحجاج، وهذا الحديث من مسند عبدالله بن عمرو بن العاص
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2444
حَدَّثَنِي سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2444]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، لتدليس الحجاج
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2445
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْأَعْمَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: تَنَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ، وَهُوَ الَّذِي رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ:" رَأَيْتُ فِي سَيْفِي ذِي الْفَقَارِ فَلًّا، فَأَوَّلْتُهُ، فَلًّا يَكُونُ فِيكُمْ، وَرَأَيْتُ أَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا، فَأَوَّلْتُهُ، كَبْشَ الْكَتِيبَةِ، وَرَأَيْتُ أَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ، فَأَوَّلْتُهَا: الْمَدِينَةَ، وَرَأَيْتُ بَقَرًا تُذْبَحُ، فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ" , فَكَانَ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار - جس کا نام ذوالفقار تھا - غزوہ بدر کے دن (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو) بطور انعام کے عطا فرمائی تھی، یہ وہی تلوار تھی جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے موقع پر خواب دیکھا تھا اور فرمایا تھا کہ ”میں نے اپنی تلوار ذوالفقار میں کچھ شکستگی کے آثار دیکھے، جس کی تعبیر میں نے یہ لی کہ تمہارے اندر شکستگی کے آثار ہوں گے، نیز میں نے دیکھا کہ میں اپنے پیچھے ایک مینڈھے کو سوار کئے ہوئے ہوں، میں نے اس کی تعبیر لشکر کے مینڈھے سے کی ہے، پھر میں نے اپنے آپ کو ایک مضبوط قلعے میں دیکھا جس کی تاویل میں نے مدینہ منورہ سے کی، نیز میں نے ایک گائے کو ذبح ہوتے ہوئے دیکھا، واللہ! گائے خیر ہے، واللہ! گائے خیر ہے۔“ چنانچہ ایساہی ہوا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2445]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2446
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ قَدْرَ مَا يَسْمَعُهُ مَنْ فِي الْحُجْرَةِ، وَهُوَ فِي الْبَيْتِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اپنے گھر میں صرف اتنی آواز سے تلاوت فرماتے تھے کہ حجرہ میں اگر کوئی موجود ہو تو وہ سن لے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2446]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2447
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَخْبَرَ مُوسَى بِمَا صَنَعَ قَوْمُهُ فِي الْعِجْلِ، فَلَمْ يُلْقِ الْأَلْوَاحَ، فَلَمَّا عَايَنَ مَا صَنَعُوا، أَلْقَى الْأَلْوَاحَ فَانْكَسَرَتْ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سنی سنائی بات دیکھی ہوئی بات کی طرح نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بتایا کہ ان کی قوم نے بچھڑے کی پوجا شروع کر دی تو انہوں نے تختیاں نہیں پھینکیں، لیکن جب انہوں نے اپنی قوم کو اپنی آنکھوں سے اس طرح کرتے ہوئے دیکھ لیا تو انہوں نے تورات کی تختیاں پھینک دیں اور وہ ٹوٹ گئیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2447]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، دلس فيه هشيم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2448
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: أَيُّكُمْ رَأَى الْكَوْكَبَ الَّذِي انْقَضَّ الْبَارِحَةَ؟ قُلْتُ: أَنَا، ثُمَّ قُلْتُ: أَمَا إِنِّي لَمْ أَكُنْ فِي صَلَاةٍ وَلَكِنِّي لُدِغْتُ , قَالَ: وَكَيْفَ فَعَلْتَ؟ قُلْتُ: اسْتَرْقَيْتُ , قَالَ: وَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ قُلْتُ: حَدِيثٌ حَدَّثَنَاهُ الشَّعْبِيُّ ، عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَقَالَ فَقَالَ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ جُبَيْرٍ : قَدْ أَحْسَنَ مَنْ انْتَهَى إِلَى مَا سَمِعَ، ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّهْطَ، وَالنَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّجُلَ والرجلين، وَالنَّبِيَّ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، إِذْ رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ، فَقُلْتُ: هَذِهِ أُمَّتِي، فَقِيلَ: هَذَا مُوسَى وَقَوْمُهُ، وَلَكِنْ انْظُرْ إِلَى الْأُفُقِ، فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ، ثُمَّ قِيلَ لي: انْظُرْ إِلَى هَذَا الْجَانِبِ الْآخَرِ، فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ، فَقِيلَ: هَذِهِ أُمَّتُكَ، وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا، يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ" , ثُمَّ نَهَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ، فَخَاضَ الْقَوْمُ فِي ذَلِكَ، فَقَالُوا: مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَعَلَّهُمْ الَّذِينَ صَحِبُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَعَلَّهُمْ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ، وَلَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا قَطُّ، وَذَكَرُوا أَشْيَاءَ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا هَذَا الَّذِي كُنْتُمْ تَخُوضُونَ فِيهِ؟" , فَأَخْبَرُوهُ بِمَقَالَتِهِمْ، فَقَالَ:" هُمْ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ" , فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيُّ، فَقَالَ: أَنَا مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ:" أَنْتَ مِنْهُمْ" , ثُمَّ قَامَ الْآخَرُ، فَقَالَ: أَنَا مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ".
حصین بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے پاس موجود تھا، انہوں نے فرمایا: تم میں سے کسی نے رات کو ستارہ ٹوٹتے ہوئے دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے دیکھا ہے، میں اس وقت نماز میں نہیں تھا، البتہ مجھے ایک بچونے ڈس لیا تھا، انہوں نے پوچھا: پھر تم نے کیا کیا؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے اسے جھاڑ لیا، انہوں نے پوچھا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ میں نے عرض کیا: اس حدیث کی وجہ سے جو ہمیں امام شعبی رحمہ اللہ نے سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سنائی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نظر بد یا ڈنک کے علاوہ کسی اور چیز کی جھاڑ پھونک صحیح نہیں ہے۔“ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہنے لگے کہ جو شخص اپنی سنی ہوئی روایات کو اپنا منتہی بنا لے، یہ سب سے اچھی بات ہے، پھر فرمایا کہ ہم سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیا ہے کہ ”مجھ پر مختلف امتیں پیش کی گئیں، میں نے کسی نبی کے ساتھ پورا گروہ دیکھا، کسی نبی کے ساتھ ایک دو آدمیوں کو دیکھا اور کسی نبی کے ساتھ ایک آدمی بھی نہ دیکھا، اچانک میرے سامنے ایک بہت بڑا جم غفیر پیش کیا گیا، میں سمجھا کہ یہ میری امت ہے لیکن مجھے بتایا گیا کہ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم ہے، البتہ آپ افق کی طرف دیکھئے، وہاں ایک بڑی جمعیت نظر آئی، پھر مجھے دوسری طرف دیکھنے کا حکم دیا گیا، وہاں بھی ایک بہت بڑا جم غفیر دکھائی دیا، مجھ سے کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے، ان میں ستر ہزار آدمی ایسے ہیں جو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور اپنے گھر میں داخل ہو گئے اور لوگ یہ بحث کرنے لگے کہ بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہونے والے یہ لوگ کون ہوں گے؟ بعض کہنے لگے کہ ہو سکتا ہے، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہوں، بعض نے کہا کہ شاید اس سے مراد وہ لوگ ہوں جو اسلام کی حالت میں پیدا ہوئے ہوں اور انہوں نے اللہ کے ساتھ کبھی شرک نہ کیا ہو، اسی طرح کچھ اور آراء بھی لوگوں نے دیں۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو فرمایا کہ ”تم لوگ کس بحث میں پڑے ہوئے ہو؟“ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بحث کے بارے بتایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہوں گے جو داغ کر علاج نہیں کرتے، جھاڑ پھونک اور منتر نہیں کرتے، بد شگونی نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔“ یہ سن کر سیدنا عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر پوچھنے لگے: یا رسول اللہ! کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! تم ان میں شامل ہو“، پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! کیا میں بھی ان میں شامل ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2448]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6541، م : 220
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2449
حَدَّثَنَا عبد الله , حدثنا شُجَاعٌ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھری مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2449]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6541، م: 220
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2450
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ، غَيْرَ رَمَضَانَ، وَإِنْ كَانَ لَيَصُومُ إِذَا صَامَ، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ: وَاللَّهِ لَا يُفْطِرُ، وَإِنْ كَانَ لَيُفْطِرُ إِذَا أَفْطَرَ، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ: وَاللَّهِ لَا يَصُومُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے علاوہ کبھی بھی کسی پورے مہینے کے روزے نہیں رکھتے تھے، البتہ بعض اوقات اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ ہم لوگ کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے، اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ ہم کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2450]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1971، م: 1157
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں