🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2421
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ فِي التَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ فِي الرَّمْيِ , وَالذَّبْحِ , وَالْحَلْقِ:" لَا حَرَجَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قربانی، رمی اور حلق یا تربیت میں کوئی اور تبدیلی ہو جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2421]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1734، م: 1307
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2422
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اللَّهُمَّ أَعْطِ ابْنَ عَبَّاسٍ الْحِكْمَةَ، وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا: ”اے اللہ! ابن عباس کو دین کی سمجھ عطا فرما اور کتاب کی تاویل و تفسیر سمجھا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2422]

الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف حسين بن عبدالله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2423
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّي هِشَامَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: بَعَثَ الْوَلِيدُ، يَسْأَلُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ؟ فَقَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَبَذِّلًا مُتَخَشِّعًا، فَأَتَى الْمُصَلَّى فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى".
ایک مرتبہ ولید نے ایک آدمی کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس نماز استسقاء کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک پوچھنے کے لئے بھیجا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح (نماز استسقاء پڑھانے کے لئے) باہر نکلے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خشوع و خضوع اور عاجزی وزاری کرتے ہوئے، (کسی قسم کی زیب و زینت کے بغیر، آہستگی اور وقار کے ساتھ چل رہے تھے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دو رکعتیں پڑھائیں جیسے عید میں پڑھاتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2423]

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2424
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا، وَمِنْ الْبَيَانِ سِحْرًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2424]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سماك بن حرب عن عكرمة خاصة مضطرب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2425
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا صَفَرَ وَلَا هَام" , فَذَكَرَ سِمَاكٌ أَنَّ الصَّفَرَ: دَابَّةٌ تَكُونُ فِي بَطْنِ الْإِنْسَانِ , فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَكُونُ فِي الْإِبِلِ الْجَرِبَةُ فِي الْمِئَةِ، فَتُجْرِبُهَا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیماری متعدی ہونے کا نظریہ صحیح نہیں، بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، صفر کا مہینہ یا الو کے منحوس ہونے کی کوئی حقیقت نہیں ہے، (سماک کہتے ہیں کہ ”صفر“ انسان کے پیٹ میں ایک کیڑا ہوتا ہے)، ایک آدمی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سو اونٹوں میں ایک خارش زدہ اونٹ شامل ہو کر ان سب کو خارش زدہ کر دیتا ہے (اور آپ کہتے ہیں کہ بیماری متعدی نہیں ہوتی؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ! اس پہلے اونٹ کو خارش میں کس نے مبتلا کیا؟“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2425]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سماك عن عكرمة مضطرب، قد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2426
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَأَبُو سَعِيدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2426]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سماك عن عكرمة مضطرب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2427
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ، وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ، وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، وَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَالْوَقَارِ، فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْإِبِلِ وَالْخَيْلِ" , فَمَا رَأَيْتُ نَاقَةً رَافِعَةً يَدَهَا عَادِيَةً، حَتَّى بَلَغَتْ جَمْعًا، ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنًى، وَهُوَ يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَالْوَقَارِ، فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْإِبِلِ وَالْخَيْلِ" , فَمَا رَأَيْتُ نَاقَةً رَافِعَةً يَدَهَا عَادِيَةً، حَتَّى بَلَغَتْ مِنًى.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ کے میدان سے واپس روانہ ہوئے تو سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا اور فرمایا: ”سکون سے چلو، گھوڑے اور سواریاں تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے“، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ پھر میں نے اپنے ہاتھ بڑھانے والی کسی سواری کو تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے منی تک سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا اور فرمانے لگے: ”لوگو! سکون اور وقار سے چلو کیونکہ گھوڑے اور اونٹ تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے“، اس کے بعد میں نے کسی سواری کو سرپٹ دوڑتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ منی پہنچ گئے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2427]

الحكم على الحديث:
صحيح، مؤمل بن اسماعيل سيئ الحفظ، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2428
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ مِائَةَ بَدَنَةٍ، فِيهَا جَمَلٌ أَحْمَرُ لِأَبِي جَهْلٍ، فِي أَنْفِهِ بُرَّةٌ مِنْ فِضَّةٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سو اونٹوں کی قربانی دی، جن میں ابوجہل کا ایک سرخ اونٹ بھی شامل تھا، جس کی ناک میں چاندی کا حلقہ پڑا ہوا تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2428]

الحكم على الحديث:
حسن، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل بن إسماعيل سيئ الحفظ وكذا ابن أبي ليلى
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2429
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص قرآن کریم میں بغیر علم کے کوئی بات کہے تو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2429]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، لضعف مؤمل وعبدالأعلى
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2430
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مُغِيبًا أَتَتْ رَجُلًا تَشْتَرِي مِنْهُ شَيْئًا، فَقَالَ: ادْخُلِي الدَّوْلَجَ حَتَّى أُعْطِيَكِ , فَدَخَلَتْ، فَقَبَّلَهَا وَغَمَزَهَا، فَقَالَتْ: وَيْحَكَ، إِنِّي مُغِيبٌ , فَتَرَكَهَا، وَنَدِمَ عَلَى مَا كَانَ مِنْهُ، فَأَتَى عُمَرَ، فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي صَنَعَ، فَقَالَ: وَيْحَكَ، فَلَعَلَّهَا مُغِيبٌ! قَالَ: فَإِنَّهَا مُغِيبٌ , قَالَ: فائْتِ أَبَا بَكْرٍ فَاسْأَلْهُ، فَأَتَى أَبَا بَكْرٍ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَيْحَكَ، لَعَلَّهَا مُغِيبٌ! قَالَ: فَإِنَّهَا مُغِيبٌ , قَالَ: فَائتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ , فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَلَّهَا مُغِيبٌ!" , قَالَ: فَإِنَّهَا مُغِيبٌ , فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِلَى قَوْلِهِ لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114 , قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَهِيَ فِيَّ خَاصَّةً، أَوْ فِي النَّاسِ عَامَّةً؟ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: لَا، وَلَا نَعْمَةَ عَيْنٍ لَكَ، بَلْ هِيَ لِلنَّاسِ عَامَّةً , قَالَ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" صَدَقَ عُمَرُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت کا شوہر اس کے پاس موجود نہ تھا، وہ ایک شخص کے پاس کچھ خریداری کرنے کے لئے آئی، اس نے اس عورت سے کہا کہ گودام میں آ جاؤ، میں تمہیں وہ چیز دے دیتا ہوں، وہ عورت جب گودام میں داخل ہوئی تو اس نے اسے بوسہ دے دیا اور اس سے چھیڑ خانی کی، اس عورت نے کہا کہ افسوس! میرا تو شوہر بھی غائب ہے، اس پر اس نے اسے چھوڑ دیا اور اپنی حرکت پر نادم ہوا، پھر وہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: افسوس! شاید اس کا شوہر اللہ کے راستہ میں جہاد کی وجہ سے موجود نہ ہوگا؟ اس نے اثبات میں جواب دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس مسئلے کا حل تم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ان سے معلوم کرو، چنانچہ اس نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ مسئلہ پوچھا، انہوں نے بھی یہی فرمایا کہ شاید اس کا شوہر اللہ کے راستہ میں جہاد کی وجہ سے موجود نہ ہوگا، پھر انہوں نے اسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا۔ وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ سنایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی فرمایا کہ ”شاید اس عورت کا خاوند موجود نہیں ہوگا؟“ اور اس کے متعلق قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوگئی: «‏‏‏‏ ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ﴾ [هود: 114] » ”دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کیجئے، بیشک نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں، یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لئے۔“ اس آدمی نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا قرآن کریم کا یہ حکم خاص طور پر میرے لئے ہے یا سب لوگوں کے لئے یہ عمومی حکم ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا: تو اتنا خوش نہ ہو، یہ سب لوگوں کے لئے عمومی حکم ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”عمر نے سچ کہا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2430]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف مؤمل وعلي بن زيد ولين يوسف بن مهران
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں