🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2411
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ , قَالَ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْعَظِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ، وَرَبُّ الْأَرْضِ , وَرَبُّ، الْعَرْشِ الْكَرِيمِ" ثُمَّ يَدْعُو.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ الْحَلِيمُ الْعَظِيمُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» ”اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور برد بار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔“ اس کے بعد دعا فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2411]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6345، م: 2730
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2412
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَعْضِ بَنَاتِهِ وَهِيَ فِي السَّوْقِ، فَأَخَذَهَا وَوَضَعَهَا فِي حِجْرِهِ حَتَّى قُبِضَتْ، فَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ، فَبَكَتْ أُمُّ أَيْمَن، فَقِيلَ لَهَا: أَتَبْكِينَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: أَلَا أَبْكِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي؟ قَالَ:" إِنِّي لَمْ أَبْكِ، وَهَذِهِ رَحْمَةٌ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ تَخْرُجُ نَفْسُهُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیٹی (کی بیٹی یعنی نواسی) کے پاس تشریف لائے، اس وقت وہ نزع کے عالم میں تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑ کر اپنی گود میں رکھ لیا، اسی حال میں اس کی روح قبض ہو گئی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا بھی رونے لگیں، کسی نے ان سے کہا: کیا تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں رو رہی ہو؟ انہوں نے کہا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی رو رہے ہیں تو میں کیوں نہ روؤں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں رو نہیں رہا، یہ تو رحمت ہے، مومن کی روح جب اس کے دونوں پہلوؤں سے نکلتی ہے تو وہ اللہ کی تعریف کر رہا ہوتا ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2412]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، عطاء بن السائب مختلط، لكن رواه الثوري عن ابن السائب فى موضع آخر، ورواية الثوري عنه قبل الاختلاط
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2413
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ الْمَعْنَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" قُمْتُ أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَقَالَ بِيَدِهِ مِنْ وَرَائِهِ، حَتَّى أَخَذَ بِعَضُدِي أَوْ بِيَدِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے کسی حصے میں نماز پڑھنے لگے، میں نے بھی اسی طرح کیا اور آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہاتھ سے پکڑ کر گھما کر اپنی دائیں طرف کر لیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2413]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 728، م: 763
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2414
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ يَحْيَى الْمَعَافِرِيِّ ، حَدَّثَنِي حَنَشٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ سورة البقرة آية 223 , فِي أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائْتِهَا عَلَى كُلِّ حَالٍ، إِذَا كَانَ فِي الْفَرْجِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ آیت: « ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ﴾ [البقرة: 223] » ”تمہاری بیویاں تمہارے لئے بمنزلہ کھیتی کے ہیں“، کچھ انصاری لوگوں کے بارے نازل ہوئی تھی جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اس کے متعلق سوال کیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب میں فرمایا تھا: ”تم اپنی بیوی کے پاس ہر طرح آ سکتے ہو بشرطیکہ فرج میں ہو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2414]

الحكم على الحديث:
حسن، وهذا إسناد ضعيف، لضعف رشدين بن سعد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2415
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا قَزَعَةُ يَعْنِي ابْنَ سُوَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَى مَا أَتَيْتُكُمْ بِهِ مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى أَجْرًا، إِلَّا أَنْ تَوَدُّوا اللَّهَ، وَأَنْ تَقَرَّبُوا إِلَيْهِ بِطَاعَتِهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہارے پاس جو واضح آیات اور ہدایت لے کر آیا ہوں، اس پر میں تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا، البتہ اتنا ضرور کہتا ہوں کہ اللہ سے محبت کرو، اور اس کی اطاعت کر کے اس کا قرب حاصل کرو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2415]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، لضعف قزعة ابن سويد الباهلي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2416
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ بِلَالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ :" أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ فَتَمَضْمَضَ بِهَا، وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً فَجَعَلَ بِهَا هَكَذَا يَعْنِي أَضَافَهَا إِلَى يَدِهِ الْأُخْرَى فَغَسَلَ بِهَا وَجْهَهُ، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ، فَغَسَلَ بِهَا يَدَهُ الْيُمْنَى، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاء، فَغَسَلَ بِهَا يَدَهُ الْيُسْرَى، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ رَشَّ عَلَى رِجْلِهِ الْيُمْنَى حَتَّى غَسَلَهَا، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً أُخْرَى، فَغَسَلَ بِهَا رِجْلَهُ الْيُسْرَى، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے وضو کیا، اس میں اپنا چہرہ دھویا، ایک چلو پانی لے کر کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، پھر ایک اور چلو پانی لیا اور دوسرے ہاتھ کو اس کے ساتھ ملا کر چہرہ دھویا، پھر ایک چلو پانی لے کر داہنا ہاتھ دھویا، پھر ایک چلو پانی لے کر بایاں ہاتھ دھویا، سر کا مسح کیا پھر ایک چلو پانی لے کر دائیں پاؤں پر ڈالا اور اسے دھویا، پھر ایک اور چلو پانی لے کر بایاں پاؤں دھویا، پھر فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2416]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 140
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2417
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، نَحْوَ هَذَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2417]

الحكم على الحديث:
صحيح كسابقه، وفي هذا الإسناد إشكال ليس فيمن روي عن ابن عباس من يسمي يعقوب بن إبراهيم، إن كان هو : يعقوب ابن إبراهيم بن سعد بن أبى وقاص لا يبعد أن يكون أدرك ابن عباس. وإن كان هو: يعقوب بن إبراهيم ابن عبدالله بن حنين مولى ابن عباس فروايته عن ابن عباس منقطعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2418
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا، فَقَالَتْ: إِنَّ ابْنِي هَذَا بِهِ جُنُونٌ يَأْخُذُهُ عِنْدَ غَدَائِنَا وَعَشَائِنَا، فَيَخْبُثُ عَلَيْنَا" فَمَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَهُ وَدَعَا" , فَثَعَّ ثَعَّةً يَعْنِي: سَعَل، فَخَرَجَ مِنْ جَوْفِهِ مِثْلُ الْجَرْوِ الْأَسْوَدِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت اپنا بچہ لے کر حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! اسے کوئی تکلیف ہے، کھانے کے دوران جب اسے وہ تکلیف ہوتی ہے تو یہ ہمارا سارا کھانا خراب کر دیتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور اس کے لئے دعا فرمائی، اچانک اس بچے کو قئی ہوئی اور اس کے منہ سے ایک کالے بلے جیسی کوئی چیز نکلی اور بھاگ گئی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2418]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، لضعف فرقد السبخي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2419
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عنْ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، أَوَاجِبٌ هُوَ؟ قَالَ: لَا , وَمَنْ شَاءَ اغْتَسَلَ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ بَدْءِ الْغُسْلِ: كَانَ النَّاسُ مُحْتَاجِينَ، وَكَانُوا يَلْبَسُونَ الصُّوفَ، وَكَانُوا يَسْقُونَ النَّخْلَ عَلَى ظُهُورِهِمْ، وَكَانَ مَسْجِدُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَيِّقًا مُتَقَارِبَ السَّقْفِ، فَرَاحَ النَّاسُ فِي الصُّوفِ فَعَرِقُوا، وَكَانَ مِنْبَرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصِيرًا، إِنَّمَا هُوَ ثَلَاثُ دَرَجَاتٍ، فَعَرِقَ النَّاسُ فِي الصُّوفِ فَثَارَتْ أَرْوَاحُهُمْ، أَرْوَاحُ الصُّوفِ، فَتَأَذَّى بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ، حَتَّى بَلَغَتْ أَرْوَاحُهُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ , إِذَا جِئْتُمْ الْجُمُعَةَ، فَاغْتَسِلُوا، وَلْيَمَسَّ أَحَدُكُمْ مِنْ أَطْيَبِ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی نے پوچھا کہ کیا غسل جمعہ واجب ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، جو چاہے غسل کر لے (اور نہ چاہے تو نہ کرے)، میں تمہیں بتاتا ہوں کہ جمعہ کے دن غسل کا آغاز کس طریقے سے ہوا تھا؟ لوگ غریب ہوا کرتے تھے، اون کا لباس پہنا کرتے تھے، باغات کو سیراب کرنے کے لئے اپنی کمر پر پانی لاد کر لایا کرتے تھے، اور مسجد نبوی تنگ تھی، اس کی چھت بھی نیچی تھی، لوگ جب اون کے کپڑے پہن کر کام کرتے تو انہیں پسینہ آتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر بھی چھوٹا تھا اور اس میں صرف تین سیڑھیاں تھیں، ایک مرتبہ جمعہ کے دن لوگوں کو اپنے اونی کپڑوں میں پسینہ آیا ہوا تھا، جس کی بو پھیل رہی تھی اور کچھ لوگ اس کی وجہ سے تنگ ہو رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی - جبکہ وہ منبر پر تھے - اس کی بو محسوس ہوئی تو فرمایا: ”لوگو! جب تم جمعہ کے لئے آیا کرو تو غسل کر کے آیا کرو اور جس کے پاس جو خوشبو سب سے بہترین ہو، وہ لگا کر آیا کرے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2419]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2420
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ، فَاقْتُلُوهُ، وَاقْتُلُوا الْبَهِيمَةَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی جانور سے بدفعلی کرے، اس شخص کو بھی قتل کر دو اور اس جانور کو بھی قتل کر دو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2420]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن، لكن هذا الحديث من منكرات عمرو بن أبى عمرو
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں