مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 2510
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْخَطَّابِيَّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ :" أَنَّ رَجُلًا خَرَجَ فَتَبِعَهُ رَجُلَانِ، وَرَجُلٌ يَتْلُوهُمَا، يَقُولُ ارْجِعَا، قَالَ: فَرَجَعَا، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: إِنَّ هَذَيْنِ شَيْطَانَانِ، وَإِنِّي لَمْ أَزَلْ بِهِمَا حَتَّى رَدَدْتُهُمَا، فَإِذَا أَتَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ، وَأَعْلِمْهُ أَنَّا فِي جَمْعِ صَدَقَاتِنَا، وَلَوْ كَانَتْ تَصْلُحُ لَهُ، لَأَرْسَلْنَا بِهَا إِلَيْهِ , قَالَ: فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ عَنِ الْخَلْوَةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص سفر پر روانہ ہوا تو اس کے پیچھے دو آدمی لگ گئے، ان دو آدمیوں کے پیچھے بھی ایک آدمی تھا جو انہیں واپس لوٹ جانے کے لئے کہہ رہا تھا، وہ ان سے مسلسل کہتا رہا حتی کہ وہ دونوں واپس چلے گئے، اس نے مسافر سے کہا کہ یہ دونوں شیطان تھے، میں مستقل ان کے پیچھے لگا رہا تاآنکہ میں انہیں واپس بھیجنے میں کامیاب ہو گیا، جب آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں تو انہیں میرا سلام پہنچا دیں اور یہ پیغام دے دیں کہ ہمارے پاس کچھ صدقات اکٹھے ہوئے ہیں، اگر وہ ان کے لئے مناسب ہوں تو وہ ہم آپ کی خدمت میں بھجوا دیں، اس کے بعد سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تنہا سفر کرنے سے منع فرما دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2510]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 2511
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ ، قَالَ:" مَا أَدْرَكْنَا أَحَدًا أَقْوَمَ بِقَوْلِ الشِّيعَةِ مِنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ".
مسعودی کا کہنا ہے کہ میں نے عدی بن ثابت سے زیادہ اہل تشیع کے بارے کسی کی بات عمدہ نہیں دیکھی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2511]
الحكم على الحديث:
وهذا أثر عن المسعودي وهو : عبدالرحمن بن عبدالله بن عتبة، عدي بن ثابت ثقة، غالي فى التشيع
حدیث نمبر: 2512
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْخَطَّابِيَّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ" , قَالَ:" فَإِذَا جَاءَكَ يَطْلُبُ ثَمَنَ الْكَلْبِ , فَامْلَأْ كَفَّيْهِ تُرَابًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتے کی قیمت استعمال کرنا حرام ہے، اگر تمہارے پاس کوئی شخص کتے کی قیمت مانگنے کے لئے آئے تو اس کی ہتھیلیاں مٹی سے بھر دو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2512]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 2513
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَلْهُجَيْمٍ يَا أَبَا الْعَبَّاسِ ، مَا هَذِهِ الْفُتْيَا الَّتِي قد تَفَشَّغَتْ بِالنَّاسِ، أَنَّ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ؟ فَقَالَ:" سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ رَغِمْتُمْ".
ابوحسان کہتے ہیں کہ بنو ہجیم کے ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: اے ابوالعباس! لوگوں میں یہ فتوی جو بہت مشہور ہوا ہے اس کی کیا حقیقت ہے کہ جو شخص بیت اللہ کا طواف کر لے وہ حلال ہو جاتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اگرچہ تمہیں ناگوار ہی گزرے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2513]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1244
حدیث نمبر: 2514
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا شَهْرٌ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : حَضَرَتْ عِصَابَةٌ مِنَ الْيَهُودِ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَالُوا: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، حَدِّثْنَا عَنْ خِلَالٍ نَسْأَلُكَ عَنْهُنَّ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ قَالَ:" سَلُونِي عَمَّا شِئْتُمْ، وَلَكِنْ اجْعَلُوا لِي ذِمَّةَ اللَّهِ، وَمَا أَخَذَ يَعْقُوبُ عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى بَنِيهِ، لَئِنْ حَدَّثْتُكُمْ شَيْئًا فَعَرَفْتُمُوهُ، لَتُتَابِعُنِّي عَلَى الْإِسْلَامِ" , قَالُوا: فَذَلِكَ لَكَ , قَالَ:" فَسَلُونِي عَمَّا شِئْتُمْ" , قَالُوا: أَخْبِرْنَا عَنْ أَرْبَعِ خِلَالٍ نَسْأَلُكَ عَنْهُنَّ: أَخْبِرْنَا أَيُّ الطَّعَامِ حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ؟ وَأَخْبِرْنَا كَيْفَ مَاءُ الْمَرْأَةِ، وَمَاءُ الرَّجُلِ؟ كَيْفَ يَكُونُ الذَّكَرُ مِنْهُ؟ وَأَخْبِرْنَا كَيْفَ هَذَا النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ فِي النَّوْمِ؟ وَمَنْ وَلِيُّهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ؟ قَالَ:" فَعَلَيْكُمْ عَهْدُ اللَّهِ وَمِيثَاقُهُ لَئِنْ أَنَا أَخْبَرْتُكُمْ لَتُتَابِعُنِّي؟" , قَالَ: فَأَعْطَوْهُ مَا شَاءَ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ , قَالَ:" فَأَنْشُدُكُمْ بِالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السلاَّمَ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ إِسْرَائِيلَ يَعْقُوبَ عَلَيْهِ السَّلَام، مَرِضَ مَرَضًا شَدِيدًا، وَطَالَ سَقَمُهُ، فَنَذَرَ لِلَّهِ نَذْرًا لَئِنْ شَفَاهُ اللَّهُ تَعَالَى مِنْ سَقَمِهِ، لَيُحَرِّمَنَّ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ، وَأَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ، وَكَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ لُحْمَانُ الْإِبِلِ، وَأَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ أَلْبَانُهَا؟" , قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ , قَالَ:" اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ، فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ مَاءَ الرَّجُلِ أَبْيَضُ غَلِيظٌ، وَأَنَّ مَاءَ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ رَقِيقٌ، فَأَيُّهُمَا عَلَا كَانَ لَهُ الْوَلَدُ وَالشَّبَهُ بِإِذْنِ اللَّهِ، إِنْ عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ عَلَى مَاءِ الْمَرْأَةِ كَانَ ذَكَرًا بِإِذْنِ اللَّهِ، وَإِنْ عَلَا مَاءُ الْمَرْأَةِ عَلَى مَاءِ الرَّجُلِ كَانَ أُنْثَى بِإِذْنِ اللَّهِ؟" , قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ , قَالَ:" اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ، فَأَنْشُدُكُمْ بِالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ هَذَا النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ؟" , قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ , قَالَ:" اللَّهُمَّ اشْهَدْ" , قَالُوا: وَأَنْتَ الْآنَ فَحَدِّثْنَا، مَنْ وَلِيُّكَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ؟ فَعِنْدَهَا نُجَامِعُكَ أَوْ نُفَارِقُكَ , قَالَ:" فَإِنَّ وَلِيِّيَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، وَلَمْ يَبْعَثْ اللَّهُ نَبِيًّا قَطُّ إِلَّا وَهُوَ وَلِيُّهُ" , قَالُوا: فَعِنْدَهَا نُفَارِقُكَ، لَوْ كَانَ وَلِيُّكَ سِوَاهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ لَتَابَعْنَاكَ وَصَدَّقْنَاكَ , قَالَ:" فَمَا يَمْنَعُكُمْ مِنْ أَنْ تُصَدِّقُوهُ؟" , قَالُوا: إِنَّهُ عَدُوُّنَا , قَالَ:" فَعِنْدَ ذَلِكَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ كِتَابَ اللَّهِ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لا يَعْلَمُونَ سورة البقرة آية 97 - 101 فَعِنْدَ ذَلِكَ بَاءُوا بِغَضَبٍ عَلَى غَضَبٍ سورة البقرة آية 90.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہودیوں کا ایک وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ سے چند سوالات پوچھنا چاہتے ہیں جنہیں کسی نبی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، آپ ہمیں ان کا جواب دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جو چاہو مجھ سے سوال پوچھو، لیکن مجھ سے اللہ کے نام پر اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے اس وعدے کے مطابق جو انہوں نے اپنے بیٹوں سے لیا تھا، وعدہ کرو کہ میں تمہیں جو جواب دوں گا اگر تم نے اسے صحیح سمجھا تو تم اسلام پر مجھ سے بیعت کرو گے؟“ انہوں نے کہا کہ ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب پوچھو، کیا پوچھنا چاہتے ہو۔“ انہوں نے کہا کہ ہم آپ سے چار چیزوں کے متعلق سوال کرتے ہیں، ایک تو آپ ہمیں یہ بتائیے کہ وہ کون سا کھانا تھا جو حضرت یعقوب علیہ السلام نے تورات نازل ہونے سے پہلے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا؟ دوسرا یہ بتائیے کہ عورت اور مرد کا پانی کیسا ہوتا ہے اور بچہ نر کیسے ہوتا ہے؟ تیسرا یہ بتائیے اس نبی امی کی نیند میں کیا کیفیت ہوتی ہے؟ اور چوتھا یہ کہ ان کے پاس وحی لانے والا فرشتہ کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”تم مجھ سے اللہ کو سامنے رکھ کر وعدہ کرتے ہو کہ اگر میں نے تمہیں ان سوالوں کے جواب دے دیئے تو تم میری اتباع کرو گے؟“ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑے مضبوط عہد و پیمان کر لیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسی علیہ السلام پر تورات کو نازل کیا، کیا تم جانتے ہو کہ ایک مرتبہ حضرت یعقوب علیہ السلام بہت سخت بیمار ہوگئے تھے، ان کی بیماری نے طول پکڑا تو انہوں نے اللہ کے نام پر یہ منت مان لی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کی اس بیماری سے شفا عطا فرما دی تو وہ اپنا سب سے مرغوب مشروب اور سب سے مرغوب کھانا اپنے اوپر حرام کر لیں گے، اور انہیں کھانوں میں اونٹ کا گوشت اور مشروبات میں اونٹنی کا دودھ سب سے زیادہ مرغوب تھا؟“ انہوں نے اس کی تصدیق کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ رہ۔“ پھر فرمایا: ”میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور اسی نے حضرت موسی علیہ السلام پر تورات نازل کی، کیا تم جانتے ہو کہ مرد کا پانی سفید گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد پتلا ہوتا ہے، ان دونوں میں سے جس کا پانی غالب آ جائے، اللہ کے حکم سے بچہ اسی کے مشابہہ ہوتا ہے، چنانچہ اگر مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آجائے تو اللہ کے حکم سے وہ لڑکا ہوتا ہے، اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آ جائے تو اللہ کے حکم سے لڑکی ہوتی ہے؟“ انہوں نے اس کی بھی تصدیق کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ رہ۔“ پھر فرمایا: ”میں تمہیں اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسی علیہ السلام پر تورات نازل کی، کیا تم جانتے ہو کہ اس نبی امی کی آنکھیں تو سوتی ہیں لیکن دل نہیں سوتا؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ رہ۔“ وہ یہودی کہنے لگے کہ اب آپ یہ بتائیے کہ کون سا فرشتہ آپ کا دوست ہے؟ اس پر ہم آپ سے مل جائیں گے یا جدا ہوجائیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے دوست جبرئیل امین ہیں اور اللہ نے جس نبی کو بھی مبعوث فرمایا ہے وہی اس کے دوست رہے ہیں۔“ یہ سن کر وہ یہودی کہنے لگے کہ اب ہم آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتے، اگر ان کے علاوہ کوئی اور فرشتہ آپ کا دوست ہوتا تو ہم آپ کی اتباع ضرور کرتے اور آپ کی تصدیق کرتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جبرئیل امین کی موجودگی میں تمہیں اس تصدیق سے کیا چیز روکتی ہے؟“ وہ کہنے لگے کہ وہ ہمارا دشمن ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ . . . . . كَأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ﴾ [البقرة: 97-101] » ”کہہ دیجئے جو کوئی جبریل کا دشمن ہو . . . . . جیسے وہ نہیں جانتے۔“ اور اس وقت وہ اللہ کے غضب پر غضب کو لے کر لوٹے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2514]
الحكم على الحديث:
حسن، وهذا إسناد ضعيف، عبدالحميد بن بهرام تكلم فى روايته عن شهر، وشهر بن حوشب ضعيف
حدیث نمبر: 2515
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ ، حَدَّثَنَا شَهْرٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، بِنَحْوِهِ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2515]
الحكم على الحديث:
حسن، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2516
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ يَأْكُلُ رُمَّانًا بِعَرَفَةَ، وَحَدَّثَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَفْطَرَ بِعَرَفَةَ، بَعَثَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ، فَشَرِبَ".
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ میدان عرفات میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اس وقت انار کھا رہے تھے، فرمانے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی میدان عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا، سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا نے ان کے پاس دودھ بھیجا تھا جو انہوں نے پی لیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2516]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لجهالة الواسطة بين أيوب وبين سعيد بن جبير
حدیث نمبر: 2517
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَفْطَرَ بِعَرَفَةَ , قَالَ: بَعَثَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ، فَشَرِبَهُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا، سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا نے ان کے پاس دودھ بھیجا تھا جو انہوں نے پی لیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2517]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2518
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ: حَجَجْتُ أَنَا وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ، وَمَعَ سِنَانٍ بَدَنَةٌ، فَأَزْحَفَتْ عَلَيْهِ، فَعَيَّ بِشَأْنِهَا، فَقُلْتُ: لَئِنْ قَدِمْتُ مَكَّةَ لَأَسْتَبْحِثَنَّ عَنْ هَذَا، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ، قُلْتُ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، وَعِنْدَهُ جَارِيَةٌ، فكَانَ لِي حَاجَتَانِ , وَلِصَاحِبِي حَاجَةٌ، فَقَالَ: أَلَا أُخْلِيكَ؟ قُلْتُ: لَا , فَقُلْتُ: كَانَتْ مَعِي بَدَنَةٌ فَأَزْحَفَتْ عَلَيْنَا، فَقُلْتُ: لَئِنْ قَدِمْتُ مَكَّةَ، لَأَسْتَبْحِثَنّ عَنْ هَذَا , فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبُدْنِ مَعَ فُلَانٍ، وَأَمَرَهُ فِيهَا بِأَمْرِهِ، فَلَمَّا قَفَّا رَجَعَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَصْنَعُ بِمَا أَزْحَفَ عَلَيَّ مِنْهَا؟ قَالَ:" انْحَرْهَا وَاصْبُغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، وَاضْرِبْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا، وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ، وَلَا أَحَدٌ مِنْ أهل رُفْقَتِكَ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: أَكُونُ فِي هَذِهِ الْمَغَازِي، فَأُغْنَمُ فَأُعْتِقُ عَنْ أُمِّي، أَفَيُجْزِئُ عَنْهَا أَنْ أُعْتِقَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: أَكُونُ فِي هَذِهِ الْمَغَازِي، فَأُغْنَمُ فَأُعْتِقُ عَنْ أُمِّي، أَفَيُجْزِئُ عَنْهَا أَنْ أُعْتِقَ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَمَرَتْ امْرَأَةُ سنَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيَّ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أُمِّهَا تُوُفِّيَتْ وَلَمْ تَحْجُجْ، أَيُجْزِئُ عَنْهَا أَنْ تَحُجَّ عَنْهَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّهَا دَيْنٌ، فَقَضَتْهُ عَنْهَا، أَكَانَ يُجْزِئُ عَنْ أُمِّهَا؟" , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ:" فَلْتَحْجُجْ عَنْ أُمِّهَا". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَسَأَلَهُ عَنْ مَاءِ الْبَحْرِ، فَقَالَ:" مَاءُ الْبَحْرِ طَهُورٌ".
موسی بن سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور سنان بن سلمہ حج کے لئے روانہ ہوئے، سنان کے پاس ایک اونٹنی تھی، وہ راستے میں تھک گئی اور وہ اس کی وجہ سے عاجز آ گئے، میں نے سوچا کہ مکہ مکرمہ پہنچ کر اس کے متعلق ضرور دریافت کروں گا، چنانچہ جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو میں نے سنان سے کہا کہ آؤ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس چلتے ہیں، ہم وہاں چلے گئے، وہاں پہنچے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک بچی بیٹھی ہوئی تھی، مجھے ان سے دو کام تھے اور میرے ساتھی کو ایک، وہ کہنے لگا کہ میں باہر چلا جاتا ہوں، آپ تنہائی میں اپنی بات کر لیں؟ میں نے کہا ایسی کوئی بات ہی نہیں (جو تخلیہ میں پوچھنا ضروری ہو)۔ پھر میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ میرے پاس ایک اونٹنی تھی جو راستے میں تھک گئی، میں نے دل میں سوچا تھا کہ میں مکہ مکرمہ پہنچ کر اس کے متعلق ضرور دریافت کروں گا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہاتھ کچھ اونٹنیاں کہیں بھجوائیں اور جو حکم دینا تھا وہ دے دیا، جب وہ شخص جانے لگا تو پلٹ کر واپس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر ان میں سے کوئی اونٹ تھک جائے تو کیا کروں؟ فرمایا: ”اسے ذبح کر کے اس کے نعل کو اس کے خون میں رنگ دینا اور اسے اس کی پیشانی پر لگا دینا، نہ خود اسے کھانا اور نہ تمہارا کوئی ساتھی اسے کھائے۔“ میں نے دوسرا سوال یہ پوچھا کہ میں غزوات میں شرکت کرتا ہوں، مجھے اس میں مال غنیمت کا حصہ ملتا ہے، میں اپنی والدہ کی طرف سے کسی غلام یا باندی کو آزاد کر دیتا ہوں تو کیا میرا ان کی طرف سے کسی کو آزاد کرنا ان کے لئے کفایت کرے گا؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ سنان بن عبداللہ جہنی کی اہلیہ نے ان سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھیں کہ ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، وہ حج نہیں کر سکی تھیں، کیا ان کی طرف سے میرا حج کرنا ان کے لئے کفایت کر جائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ ”اگر ان کی والدہ پر کوئی قرض ہوتا اور وہ اسے ادا کر دیتیں تو کیا وہ ادا ہوجاتا یا نہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: ”پھر اسے اپنی والدہ کی طرف سے حج کر لینا چاہیے۔“ انہوں نے سمندر کے پانی کے بارے بھی سوال کیا، تو فرمایا: سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2518]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1325
حدیث نمبر: 2519
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيمَا رَوَى عَنْ رَبِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رَحِيمٌ، مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا، كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشَرَاً، إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ، إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا، كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ وَاحِدَةً، أَوْ يَمْحُوهَا اللَّهُ، وَلَا يَهْلِكُ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى إِلَّا هَالِكٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا رب بڑا رحیم ہے، اگر کوئی شخص نیکی کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گزرتا ہے تو اس کے لئے دس نیکیوں سے سات سو تک بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ثواب لکھا جاتا ہے، اور اگر وہ نیکی نہ بھی کرے تو صرف ارادے پر ہی ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے، اور اگر کوئی شخص گناہ کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گزرتا ہے تو اس پر ایک گناہ کا بدلہ لکھا جاتا ہے اور اگر ارادے کے بعد گناہ نہ کرے تو اس کے لئے ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کے متعلق صرف وہی شخص ہلاک ہو سکتا ہے جو ہلاک ہونے والا ہو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2519]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح