🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2481
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" الْأَيِّمُ أَمْلَكُ بِأَمْرِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا، وَصُمَاتُهَا إِقْرَارُهَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2481]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 1421، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2482
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ الْجِنُّ يَسْمَعُونَ الْوَحْيَ فَيَسْتَمِعُونَ الْكَلِمَةَ فَيَزِيدُونَ فِيهَا عَشْرًا، فَيَكُونُ مَا سَمِعُوا حَقًّا، وَمَا زَادُوهُ بَاطِلًا، وَكَانَتْ النُّجُومُ لَا يُرْمَى بِهَا قَبْلَ ذَلِكَ، فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحَدُهُمْ لَا يَأْتِي مَقْعَدَهُ إِلَّا رُمِيَ بِشِهَابٍ يُحْرِقُ مَا أَصَابَ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى إِبْلِيسَ، فَقَالَ: مَا هَذَا إِلَّا مِنْ أَمْرٍ قَدْ حَدَثَ , فَبَثَّ جُنُودَهُ، فَإِذَا هُمْ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بَيْنَ جَبَلَيْ نَخْلَةَ , فَأَتَوْهُ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: هَذَا الْحَدَثُ الَّذِي حَدَثَ فِي الْأَرْضِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ گزشتہ زمانے میں جنات آسمانی خبریں سن لیا کرتے تھے، وہ ایک بات سن کر اس میں دس اپنی طرف سے لگاتے اور کاہنوں کو پہنچا دیتے، وہ ایک بات جو انہوں نے سنی ہوتی وہ ثابت ہو جاتی اور جو وہ اپنی طرف سے لگاتے تھے وہ غلط ثابت ہو جاتیں، اور اس سے پہلے ان پر ستارے بھی نہیں پھینکے جاتے تھے، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو جنات میں سے جو بھی اپنے ٹھکانہ پر پہنچتا، اس پر شہاب ثاقب کی برسات شروع ہو جاتی اور وہ جل جاتا، انہوں نے ابلیس سے اس چیز کی شکایت کی، اس نے کہا: اس کی وجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ کوئی نئی بات ہو گئی ہے، چنانچہ اس نے اپنے لشکروں کو پھیلا دیا، ان میں سے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے بھی گزرے جو جبل نخلہ کے درمیان نماز پڑھا رہے تھے، انہوں نے ابلیس کے پاس آ کر اسے یہ خبر سنائی، اس نے کہا کہ یہ ہے اصل وجہ، جو زمین میں پیداہوئی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2482]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 773، م:449
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2483
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعِجْلِيُّ ، وَكَانَتْ لَهُ هَيْئَةٌ، رَأَيْنَاهُ عِنْدَ حَسَنٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَقْبَلَتْ يَهُودُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، إِنَّا نَسْأَلُكَ عَنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ فَإِنْ أَنْبَأْتَنَا بِهِنَّ عَرَفْنَا أَنَّكَ نَبِيٌّ، وَاتَّبَعْنَاكَ , فَأَخَذَ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ إِسْرَائِيلُ عَلَى بَنِيهِ، إِذْ قَالُوا: اللَّهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ , قَالَ:" هَاتُوا" , قَالُوا: أَخْبِرْنَا عَنْ عَلَامَةِ النَّبِيِّ , قَالَ:" تَنَامُ عَيْنَاهُ، وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ" , قَالُوا: أَخْبِرْنَا كَيْفَ تُؤَنِّثُ الْمَرْأَةُ وَكَيْفَ تُذْكِرُ؟ قَالَ:" يَلْتَقِي الْمَاءَانِ، فَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ أَذْكَرَتْ، وَإِذَا عَلَا مَاءُ الْمَرْأَةِ آنَثَتْ" , قَالُوا: أَخْبِرْنَا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ؟ قَالَ:" كَانَ يَشْتَكِي عِرْقَ النَّسَا، فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا يُلَائِمُهُ إِلَّا أَلْبَانَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ أَبِي: قَالَ بَعْضُهُمْ: يَعْنِي الْإِبِلَ، فَحَرَّمَ لُحُومَهَا" , قَالُوا: صَدَقْتَ , قَالُوا: أَخْبِرْنَا مَا هَذَا الرَّعْدُ؟ قَالَ:" مَلَكٌ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مُوَكَّلٌ بِالسَّحَابِ، بِيَدِهِ أَوْ فِي يَدِهِ مِخْرَاقٌ مِنْ نَارٍ، يَزْجُرُ بِهِ السَّحَابَ، يَسُوقُهُ حَيْثُ أَمَرَ اللَّهُ" , قَالُوا: فَمَا هَذَا الصَّوْتُ الَّذِي يُسْمَعُ؟ قَالَ:" صَوْتُهُ" , قَالُوا: صَدَقْتَ، إِنَّمَا بَقِيَتْ وَاحِدَةٌ وَهِيَ الَّتِي نُبَايِعُكَ إِنْ أَخْبَرْتَنَا بِهَا، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا لَهُ مَلَكٌ يَأْتِيهِ بِالْخَبَرِ، فَأَخْبِرْنَا مَنْ صَاحِبكَ؟ قَالَ:" جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام" قَالُوا: جِبْرِيلُ ذَاكَ الَّذِي يَنْزِلُ بِالْحَرْبِ، وَالْقِتَالِ، وَالْعَذَابِ عَدُوُّنَا، لَوْ قُلْتَ: مِيكَائِيلَ الَّذِي يَنْزِلُ بِالرَّحْمَةِ، وَالنَّبَاتِ، وَالْقَطْرِ، لَكَانَ , فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ سورة البقرة آية 97 , إِلَى آخِرِ الْآيَةَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرتبہ کچھ یہودی آئے اور کہنے لگے کہ اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ سے پانچ سوالات پوچھنا چاہتے ہیں، اگر آپ نے ہمیں ان کا جواب دے دیا تو ہم سمجھ جائیں گے کہ آپ واقعی نبی ہیں اور ہم آپ کی اتباع کرنے لگیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس بات پر اسی طرح وعدہ لیا جیسے حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے لیا تھا، جب وہ یہ کہہ چکے کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں، اللہ اس پر وکیل ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب اپنے سوالات پیش کرو“، انہوں نے پہلا سوال یہ پوچھا کہ نبی کی علامت کیا ہوتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی آنکھیں تو سوتی ہیں لیکن اس کا دل نہیں سوتا۔“ انہوں نے دوسرا سوال یہ پوچھا کہ یہ بتائیے کہ بچہ مؤنث اور مذکر کس طرح بنتا ہے؟ فرمایا: ”دو پانی ملتے ہیں، اگر مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آ جائے تو بچہ مذکر ہو جاتا ہے، اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آ جائے تو بچی پیدا ہوتی ہے۔“ انہوں نے تیسرا سوال پوچھا کہ یہ بتائیے، حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے اوپر کس چیز کو حرام کیا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”انہیں عرق النساء نامی مرض کی شکایت تھی، انہوں نے محسوس کیا کہ انہیں اونٹ کا دودھ سب سے زیادہ پسند ہے اس لئے انہوں نے اس کے (دودھ اور) گوشت کو اپنے اوپر حرام کر لیا۔“ وہ کہنے لگے کہ آپ نے سچ فرمایا۔ پھر انہوں نے چوتھا سوال یہ پوچھا کہ یہ رعد (بادلوں کی گرج چمک) کیا چیز ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے، جسے بادلوں پر مقرر کیا گیا ہے، اس کے ہاتھ میں لو ہے کا ایک گرز ہوتا ہے جس سے یہ بادلوں کو مارتا ہے اور اللہ نے جہاں لے جانے کا حکم دیا ہوتا ہے انہیں وہاں ہانک کر لے جاتا ہے۔“ وہ کہنے لگے کہ ہم جو آواز سنتے ہیں وہ کہاں سے آتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس کی آواز ہوتی ہے۔“ انہوں نے اس پر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی اور کہنے لگے کہ اب ایک سوال باقی رہ گیا ہے، اگر آپ نے اس کا جواب دے دیا تو ہم آپ کی بیعت کرلیں گے، ہر نبی کے ساتھ ایک فرشتہ ہوتا ہے جو ان کے پاس وحی لے کر آتا ہے، آپ کے پاس کون سا فرشتہ آتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرئیل!“ وہ کہنے لگے کہ وہی جبرئیل جو جنگ، لڑائی اور سزا لے کر آ تا ہے؟ وہ تو ہمارا دشمن ہے، اگر آپ میکائیل کا نام لیتے جو رحمت، نباتات اور بارش لے کر آتا ہے تب بات بن جاتی، اس پر اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ کی یہ آیت نازل فرمائی: « ﴿قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ . . . . .﴾ [البقرة: 97] » ”(اے نبی!) آپ کہہ دیجیئے کہ جو جبریل کا دشمن ہو . . . . .۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2483]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، قصة الرعد منكرة، فقد تفرد بها بكير بن شهاب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2484
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَحَضَرَ النَّحْرُ، فَذَبَحْنَا الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَعِيرَ عَنْ عَشَرَةٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے کہ قربانی کا موقع آ گیا، چنانچہ ہم نے سات آدمیوں کی طرف سے گائے، اور اونٹ کو دس آدمیوں کی طرف سے ذبح کیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2484]

الحكم على الحديث:
في سنده الحسن بن يحيى فيه نظر، لكنه توبع، والحسين بن واقد عنده بعض ما ينكر، وقد تفرد برواية حديث ابن عباس هذا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2485
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، وَالطَّالَقَانِيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي يَلْتَفِتُ يَمِينًا وَشِمَالًا، وَلَا يَلْوِي عُنُقَهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوئے کن اکھیوں سے دائیں بائیں دیکھ لیا کرتے تھے لیکن گردن موڑ کر پیچھے نہیں دیکھتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2485]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2485M
قَالَ الطَّالَقَانِيُّ : حَدَّثَنِي ثَوْرٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2485M]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2486
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ عِكْرِمَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَلْحَظُ فِي صَلَاتِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَلْوِيَ عُنُقَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوئے کن اکھیوں سے دائیں بائیں دیکھ لیا کرتے تھے لیکن گردن موڑ کر پیچھے نہیں دیکھتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2486]

الحكم على الحديث:
هذا مرسل، رواية عكرمة عن النبى مرسلة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2487
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ، فَلْيَصْبِرْ، فَإِنَّهُ مَنْ خَالَفَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَمَاتَ، فَمِيتَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اپنے حکمران میں کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو اسے صبر کرنا چاہیے، اس لئے کہ جو شخص ایک بالشت کے برابر بھی جماعت کی مخالفت کرے اور اس حال میں مرجائے تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2487]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7053، م: 1849
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2488
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَ: أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ" فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَخَرَجَ فَنَظَرَ فِي السَّمَاءِ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي آلِ عِمْرَانَ: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سورة البقرة آية 190 حَتَّى بَلَغَ سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ سورة آل عمران آية 191 , ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْبَيْتِ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، ثُمَّ اضْطَجَعَ، ثُمَّ رَجَعَ أَيْضًا فَنَظَرَ فِي السَّمَاءِ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ، ثُمَّ رَجَعَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، ثُمَّ اضْطَجَعَ، ثُمَّ رَجَعَ أَيْضًا فَنَظَرَ فِي السَّمَاءِ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ، ثُمَّ رَجَعَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں رات گزاری، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوئے، باہر نکل کر آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا، پھر سورہ آل عمران کی یہ آیتیں تلاوت فرمائی: « ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ . . . . . سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ [آل عمران: 190-191] » تک، پھر گھر میں داخل ہو کر مسواک کی، وضو کیا اور نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے، پھر تھوڑی دیر کے لئے لیٹ گئے، کچھ دیر بعد دوبارہ باہر نکل کر آسمان کی طرف دیکھا اور مذکورہ عمل دو مرتبہ مزید دہرایا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2488]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 117، م: 256
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2489
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ ، أَوْ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، شَكَّ مَنْصُورٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" , قَالَ:" اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ" , قَالَ: وَقَالَ مَنْصُورٌ : وَحَدَّثَنِي عَوْنٌ ، عَنْ أَخِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے غالبا مرفوعا مروی ہے کہ جب وہ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تھے تو «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہنے کے بعد فرماتے: «اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو آسمان کو پر کردیں اور زمین کو اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں بھر دیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2489]

الحكم على الحديث:
صحيح، حجاج هو: حجاج بن أرطاة بن دينار، وروايتهما عن سعد بن جبير منقطعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں