مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 2471
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ : حَضَرَتْ عِصَابَةٌ مِنَ الْيَهُودِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، حَدِّثْنَا عَنْ خِلَالٍ نَسْأَلُكَ عَنْهُا، لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ , فَكَانَ فِيمَا سَأَلُوهُ، أَيُّ الطَّعَامِ حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ قَبْلَ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ؟ قَالَ:" فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ إِسْرَائِيلَ يَعْقُوبَ عَلَيْهِ السَّلَام مَرِضَ مَرَضًا شَدِيدًا فَطَالَ سَقَمُهُ، فَنَذَرَ لِلَّهِ نَذْرًا لَئِنْ شَفَاهُ اللَّهُ مِنْ سَقَمِهِ، لَيُحَرِّمَنَّ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ، وَأَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ، فَكَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ لُحْمَانُ الْإِبِلِ، وَأَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ أَلْبَانُهَا؟" فَقَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہودیوں کا ایک وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ سے چند باتیں پوچھنا چاہتے ہیں، آپ ہمیں ان کا جواب دیجئے کیونکہ انہیں کوئی نبی ہی جان سکتا ہے، اس کے بعد انہوں نے جو سوالات کئے، ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ تورات کے نازل ہونے سے پہلے حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے اوپر کون سا کھانا حرام کر لیا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات کو نازل کیا تھا، کیا تم نہیں جانتے کہ ایک مرتبہ حضرت یعقوب علیہ السلام بہت شدید بیمار ہوگئے تھے، ان کی بیماری نے جب طول پکڑا تو انہوں نے اللہ کے نام کی منت مان لی کہ اگر اللہ نے انہیں ان کی اس بیماری سے شفا عطا فرما دی تو وہ اپنی سب سے محبوب پینے کی چیز اور سب سے محبوب کھانے کی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لیں گے، اور انہیں کھانوں میں سب سے زیادہ اونٹ کا گوشت پسند تھا، اور پینے کی چیزوں میں اس کا دودھ سب سے مرغوب تھا؟“ انہوں نے کہا: واللہ! ایسا ہی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2471]
الحكم على الحديث:
حسن، وهذا إسناد ضعيف، عبدالحميد بن بهرام تكلم فى روايته عن شهر، وشهر بن حوشب مختلف فيه، والأكثر على تضعيفه
حدیث نمبر: 2472
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى عَلَى بِسَاطٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2472]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف زمعة
حدیث نمبر: 2473
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا، وَإِنَّ مِنَ الْقَوْلِ سِحْرًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں، اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2473]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف شريك، وسماك روايته عن عكرمة فيها اضطراب
حدیث نمبر: 2474
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: مَرَّ ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى أُنَاسٍ قَدْ وَضَعُوا حَمَامَةً يَرْمُونَهَا، فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ يُتَّخَذَ الرُّوحُ غَرَضًاً".
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جنہوں نے ایک کبوتر کو پکڑا ہوا تھا اور وہ اس پر اپنا نشانہ صحیح کر رہے تھے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2474]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة خاصة مضطربة
حدیث نمبر: 2475
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بْنَتاً لَهُ تَقْضِي فَاحْتَضَنَهَا، فَوَضَعَهَا بَيْنَ ثَدْيَيْهِ , فَمَاتَتْ وَهِيَ بَيْنَ ثَدْيًيْه، فَصَاحَتْ أُمُّ أَيْمَنَ، فَقِيلَ: أَتَبْكِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: أَلَسْتُ أَرَاكَ تَبْكِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" لَسْتُ أَبْكِي، إِنَّمَا هِيَ رَحْمَةٌ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ بِكُلِّ خَيْرٍ عَلَى كُلِّ حَالٍ، إِنَّ نَفْسَهُ تَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیٹی (کی بیٹی یعنی نواسی) کے پاس تشریف لائے، اس وقت وہ نزع کے عالم میں تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑ کر اپنی گود میں رکھ لیا، اسی حال میں اس کی روح قبض ہوگئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا بھی رونے لگیں، کسی نے ان سے کہا: کیا تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں رو رہی ہو؟ انہوں نے کہا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی رو رہے ہیں تو میں کیوں نہ روؤں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں رو نہیں رہا، یہ تو رحمت ہے، مومن کی روح جب اس کے دونوں پہلوؤں سے نکلتی ہے تو وہ اللہ کی تعریف کر رہا ہوتا ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2475]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 2476
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ حَبْتَرٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْجَرِّ الْأَبْيَضِ، وَالْجَرِّ الْأَخْضَرِ، وَالْجَرِّ الْأَحْمَرِ؟ فَقَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ، فَقَالُوا: إِنَّا نُصِيبُ مِنَ الثُّفْلِ، فَأَيُّ الْأَسْقِيَةِ؟ َقَالَ:" لَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ , وَالْمُزَفَّتِ , وَالنَّقِيرِ , وَالْحَنْتَمِ، وَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ" , ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيَّ، أَوْ حَرَّمَ الْخَمْرَ , وَالْمَيْسِرَ , وَالْكُوبَةَ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ" , قَالَ سُفْيَانُ: قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ: مَا الْكُوبَةُ؟ قَالَ: الطَّبْلُ.
قیس بن حبتر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سفید، سبز اور سرخ مٹکے کے بارے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے پہلے بنو عبدالقیس کے وفد نے سوال کیا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں یہ تلچھٹ حاصل ہوتا ہے، ہمارے لئے کون سے برتن حلال ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دباء، مزفت، نقیر اور حنتم میں کچھ بھی نہ پیو، البتہ مشکیزوں میں پی سکتے ہو۔“ پھر فرمایا کہ ”اللہ نے شراب، جوا اور کوبہ کو حرام قرار دیا ہے، اسی طرح ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ سفیان کہتے ہیں کہ میں نے علی بن بذیمہ سے ”کوبہ“ کا معنی پوچھا تو انہوں نے اس کا معنی ”طبل“ بتایا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2476]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، وقصة وفد عبدالقيس عند خ: 53، م: 17
حدیث نمبر: 2477
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْعَيْنُ حَقٌّ، تَسْتَنْزِلُ الْحَالِقَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نظر کا لگ جانا برحق ہے، اور یہ حلق کرانے والے کو بھی نیچے اتار لیتی ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2477]
الحكم على الحديث:
قوله : العين حق صحيح، وبقيته حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لإبهام الراوي عن جابر بن زيد
حدیث نمبر: 2478
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ دُوَيْدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2478]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، دويد البصري لين وإسماعيل مجهول
حدیث نمبر: 2479
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ عِنْدَ النَّوْمِ، يُنْبِتُ الشَّعْرَ، وَيَجْلُو الْبَصَرَ، وَخَيْرُ ثِيَابِكُمْ الْبَيَاضُ، فَالْبَسُوهَا، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا بہترین سرمہ اثمد ہے جو سوتے وقت لگانے سے بینائی کو تیز کرتا ہے اور پلکوں کے بال اگاتا ہے، سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ سب سے بہترین ہوتے ہیں اور ان ہی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2479]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
حدیث نمبر: 2480
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ يُتَّخَذَ شَيْءٌ فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2480]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي، م: 1957