🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2500
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ الْفَتْحُ فِي ثَلَاثَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کا عظیم الشان واقعہ رمضان کی تیرہ تاریخ کو پیش آیا تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2500]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2501
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ، فَقَالُوا: إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ: ك ف ر , قَالَ: مَا تَقُولُونَ؟ قَالَ: يَقُولُونَ: مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ: ك ف ر , قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَمْ أَسْمَعْهُ قَالَ ذَلِكَ، وَلَكِنْ قَالَ:" أَمَّا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ، وَأَمَّا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ، عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِذَا انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي".
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، لوگوں نے دجال کا تذکرہ چھیڑ دیا اور کہنے لگے کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان والی جگہ پر «ك ف ر» لکھا ہوگا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: کیا باتیں ہو رہی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان «ك ف ر» لکھا ہوگا، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ تو نہیں سنا البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ضرور فرمایا ہے کہ ”اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھنا ہو تو اپنے پیغمبر کو (مجھے) دیکھ لو، رہے حضرت موسیٰ علیہ السلام تو وہ گندمی رنگ کے گھنگھریالے بالوں والے آدمی ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک سرخ اونت پر سوار ہیں جس کی لگام کھجور کی چھال کی بٹی ہوئی رسی سے بنی ہوئی ہے اور گویا میں اب بھی انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ تلبیہ کہتے ہوئے وادی میں اتر رہے ہیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2501]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1555، م: 166
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2502
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: ذَكَرُوهُ يَعْنِي الدَّجَّالَ، فَقَالَ: مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ: ك ف ر , فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَمْ أَسْمَعْهُ يَقُولُ ذَاكَ، وَلَكِنْ قَالَ:" أَمَّا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ، قَالَ يَزِيدُ: يَعْنِي نَفْسَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، , وَأَمَّا مُوسَى فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ طُوَالٌ، عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، وَقَدْ انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي" , قَالَ أَبِي: قَالَ هُشَيْمٌ: الْخُلْبَةُ: اللِّيفُ.
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، لوگوں نے دجال کا تذکرہ چھیڑ دیا اور کہنے لگے کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان والی جگہ پر «ك ف ر» لکھا ہو گا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: کیا باتیں ہو رہی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان «ك ف ر» لکھا ہو گا، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ تو نہیں سنا البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ضرور فرمایا ہے کہ ”اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھنا ہو تو اپنے پیغمبر کو (مجھے) دیکھ لو، رہے حضرت موسیٰ علیہ السلام تو وہ گندمی رنگ کے گھنگھریالے بالوں والے آدمی ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک سرخ اونٹ پر سوار ہیں جس کی لگام کھجور کی چھال کی بٹی ہوئی رسی سے بنی ہوئی ہے، اور گویا میں اب بھی انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ تلبیہ کہتے ہوئے وادی میں اتر رہے ہیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2502]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، راجع ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2503
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ , قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: أَظُنُّهُ قَدْ رَفَعَهُ، قَالَ: أَمَرَ مُنَادِيًا، فَنَادَى فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ أَنْ" صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ جب کہ بہت بارش ہو رہی تھی، منادی کو حکم دیا، چنانچہ اس نے یہ اعلان کر دیا کہ اپنی اپنی جگہوں پر نماز پڑھ لو۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2503]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 616، م: 699
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2504
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ نَافِعٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّهُ مَاتَتْ شَاةٌ فِي بَعْضِ بُيُوتِ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِمَسْكِهَا؟".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی ایک بکری مر گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2504]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1492، م: 363
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2505
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ نَافِعٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مِينَاسٍ الْعَدَنِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ السُّجُودَ بَعْدَ الرَّكْعَةِ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب وہ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے اور جب سجدے میں جانے کا ارادہ کرتے تو فرماتے: «اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو آسمان کو پر کر دیں اور زمین کو، اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں، بھر دیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2505]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهب بن ميناس، مستور، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2506
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: وُلِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَاسْتُنْبِئَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وخَرَجَ مُهاجراً من مكة إِلى المدينة يومَ الاثنينِ، وقَدِمَ المدينةَ يومَ الاثنينِ، َتُوُفِّيَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَرَفَعَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش پیر کے دن ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت پیر کے دن ملی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت بھی پیر کے دن فرمائی، مدینہ منورہ تشریف آوری پیر کے دن ہوئی، وفات پیر کے دن ہوئی، اور حجر اسود کو اٹھا کر اس کی جگہ پر بھی پیر کے دن ہی رکھا تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2506]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، لضعف عبدالله بن لهيعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2507
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ وَاقِفًا، وَقَدْ أَرْدَفَ الْفَضْلَ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَوَقَفَ قَرِيبًا وَأَمَةٌ خَلْفَهُ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا، فَفَطِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَصْرِفُ وَجْهَهُ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَلَا الْإِبِلِ، فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ" , قَالَ: ثُمَّ أَفَاضَ، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَهَا عَادِيَةً حَتَّى أَتَى جَمْعًا، قَالَ: فَلَمَّا وَقَفَ بِجَمْعٍ أَرْدَفَ أُسَامَةَ، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ، فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ" , قَالَ: ثُمَّ أَفَاضَ، فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَهَا عَادِيَةً، حَتَّى أَتَتْ مِنًى، فَأَتَانَا بسَوَادَ ضَعْفَى بَنِي هَاشِمٍ عَلَى حُمُرَاتٍ لَهُمْ، فَجَعَلَ يَضْرِبُ أَفْخَاذَنَا، وَيَقُولُ:" يَا بَنِيَّ، أَفِيضُوا، وَلَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میدان عرفات میں کھڑے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو سوار کر رکھا تھا، ایک دیہاتی آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کھڑا ہو گیا، اس کے پیچھے اس کی بیٹی بیٹھی ہوئی تھی، سیدنا فضل رضی اللہ عنہ اسے دیکھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے اور ان کا چہرہ موڑنے لگے، پھر فرمایا: ”لوگو! اونٹ اور گھوڑے تیز دوڑانا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے، اس لئے تم سکون کو اپنے اوپر لازم کر لو۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے تو میں نے کسی سواری کو اپنے ہاتھ اٹھائے تیزی کے ساتھ دوڑتے ہوئے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ پہنچ گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں وقوف کیا تو اپنے پیچھے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو بٹھا لیا، پھر فرمایا: ”لوگو! اونٹ اور گھوڑے تیز دوڑانا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے، اس لئے سکون سے چلو“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے تو میں نے کسی سواری کو تیزی کے ساتھ دوڑتے ہوئے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ منیٰ آ پہنچے۔ مزدلفہ ہی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنو ہاشم کے ہم کمزوروں یعنی عورتوں اور بچوں کی جماعت کے پاس آئے جو اپنے گدھوں پر سوار تھے اور ہماری رانوں پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمانے لگے: ”پیارے بچو! تم روانہ ہو جاؤ، لیکن طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2507]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2508
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ دَخَلَ الْبَيْتَ وَجَدَ فِيهِ صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ، وَصُورَةَ مَرْيَمَ، فَقَالَ:" أَمَّا هُمْ، فَقَدْ سَمِعُوا أَنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ، هَذَا إِبْرَاهِيمُ مُصَوَّرًا، فَمَا بَالُهُ يَسْتَقْسِمُ؟!".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے تو وہاں حضرت ابراہیم اور حضرت مریم علیہما السلام کی تصویریں دیکھیں، انہیں دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”یہ سن چکے تھے کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کوئی تصویر ہو (پھر بھی انہوں نے یہ تصویریں بنا رکھی ہیں)، یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تصویر ہے، ان کا کیا حال بنا رکھا ہے کہ یہ پانسے کے تیر پکڑے ہوئے ہیں؟“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2508]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3351
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2509
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ ، قَالَ: أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أخبرني أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ مَاتَ ابْنٌ لَهُ بِقُدَيْدٍ، أَوْ بِعُسْفَانَ، فَقَالَ: يَا كُرَيْبُ، انْظُرْ مَا اجْتَمَعَ لَهُ مِنَ النَّاسِ , قَالَ: فَخَرَجْتُ، فَإِذَا نَاسٌ قَدْ اجْتَمَعُوا لَهُ، فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: يَقُولُ: هُمْ أَرْبَعُونَ؟ قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: أَخْرِجُوهُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ، فَيَقُومُ عَلَى جِنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلًا لَا يُشْرِكُونَ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا شَفَّعَهُمْ اللَّهُ فِيهِ".
کریب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ایک بیٹا مقام قدید یا عسفان میں فوت ہو گیا، انہوں نے مجھ سے فرمایا: کریب! دیکھ کر آؤ کتنے لوگ اکٹھے ہوئے ہیں؟ میں نے باہر نکل کر دیکھا تو کچھ لوگ جمع ہو چکے تھے، میں نے انہیں آ کر بتا دیا، انہوں نے پوچھا کہ ان کی تعداد چالیس ہوگی؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: پھر جنازے کو باہر نکالو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”اگر کوئی مسلمان فوت ہو جائے اور اس کے جنازے میں چالیس ایسے افراد شریک ہو جائیں جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوں تو اللہ ان کی سفارش مردے کے حق میں ضرور قبول فرما لیتا ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2509]

الحكم على الحديث:
إسناده جيد، م: 948
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں