🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2540
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ أَبُو خُشَيْنَةَ أَخُو عِيسَى النَّحْوِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ ، قَالَ:" جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ عِنْدَ بِئْرِ زَمْزَمَ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ، وَكَانَ نِعْمَ الْجَلِيسُ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ عَاشُورَاءَ؟ فَقَالَ: عَنْ أَيِّ بَالِهِ تَسْأَلُ؟ قُلْتُ: عَنْ صِيَامِهِ , قَالَ:" إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ، فَإِذَا أَصْبَحْتَ مِنْ تَاسِعِهِ، فَصُمْ ذَلِكَ الْيَوْمَ" , قُلْتُ: أَهَكَذَا كَانَ يَصُومُهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ.
حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ چاہ زمزم کے قریب اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے، میں بھی ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا، وہ بہترین ہم نشین تھے، میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے یوم عاشورہ کے متعلق کچھ بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ تم اس کے متعلق کس حوالے سے پوچھنا چاہ رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ روزے کے حوالے سے، یعنی کس دن کا روزہ رکھوں؟ فرمایا: جب محرم کا چاند دیکھ لو تو اس کی تاریخ شمار کرتے رہو، جب نویں تاریخ کی صبح ہو تو روزہ رکھ لو، میں نے عرض کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے؟ فرمایا: ہاں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2540]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2541
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ طَاوُسًا قَالَ , حَدَّثَنِي مَنْ هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْهُمْ، يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَأَنْ يَمْنَحَ الرَّجُلُ أَخَاهُ أَرْضَهُ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مروی ہے کہ ”تم میں سے کسی شخص کا اپنی زمین اپنے بھائی کو بطور ہدیہ کے پیش کر دینا اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اس پر کوئی معین کرایہ وصول کرے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2541]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2330، م: 155
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2542
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُسَمَّى مُغِيثًا، قَالَ: فَكُنْتُ أَرَاهُ يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ، يَعْصِرُ عَيْنَيْهِ عَلَيْهَا، قَالَ: وَقَضَى فِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ قَضِيَّاتٍ: إِنَّ مَوَالِيَهَا اشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ، فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ" , وَخَيَّرَهَا، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، فَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ , قَالَ: وَتُصُدِّقَ عَلَيْهَا بِصَدَقَةٍ، فَأَهْدَتْ مِنْهَا إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَإِلَيْنَا هَدِيَّةٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر ایک سیاہ فام حبشی غلام تھا جس کا نام مغیث تھا، میں اسے دیکھتا تھا کہ وہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے پیچھے مدینہ منورہ کی گلیوں میں پھر رہا ہوتا تھا اور اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے ہوتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے متعلق چار فیصلے فرمائے تھے، سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے آقاؤں نے اس کی فروخت کو اپنے لئے ولاء کے ساتھ مشروط کیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرما دیا تھا کہ ”ولاء آزاد کرنے والے کا حق ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خیار عتق دیا، انہوں نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عدت گذارنے کا حکم دیا، اور یہ کہ ایک مرتبہ کسی نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ میں کوئی چیز دی، انہوں نے اس میں سے کچھ حصہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بطور ہدیہ کے بھیج دیا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔“ (کیونکہ ملکیت تبدیل ہو گئی ہے)۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2542]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5280
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2543
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ لَاحِقِ بْنِ حُمَيْدٍ ، وَعِكْرِمَةَ , قَالَا: قَالَ عُمَرُ: مَنْ يَعْلَمُ مَتَى لَيْلَةُ الْقَدْرِ؟ قَالَا: فقال بن عباس : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هِيَ فِي الْعَشْرِ، فِي سَبْعٍ يَمْضِينَ، أَوْ سَبْعٍ يَبْقَيْنَ".
ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پوچھا: لیلۃ القدر کے بارے کون جانتا ہے کہ وہ کب ہوتی ہے؟ اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”شب قدر رمضان کے عشرہ اخیرہ میں ہوتی ہے، سات راتیں گزرنے پر (ستائیسویں شب) یا سات راتیں باقی رہ جانے پر (تئیسویں شب)۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2543]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2022
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2544
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا الصَّفَا , فَقَالَ:" يَا صَبَاحَاهْ، يَا صَبَاحَاهْ" , قَالَ: فَاجْتَمَعَتْ إِلَيْهِ قُرَيْشٌ، فَقَالُوا لَهُ: مَا لَكَ؟ فَقَالَ:" أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ الْعَدُوَّ مُصَبِّحُكُمْ أَوْ مُمَسِّيكُمْ، أَمَا كُنْتُمْ تُصَدِّقُونِي؟" , فَقَالُوا: بَلَى , قَالَ: فَقَالَ:" إِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ" , قَالَ: فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ: أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا؟ تَبًّا لَكَ , قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ سورة المسد آية 1 , إِلَى آخِرِ السُّورَةِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پہاڑی پر چڑھ کر اس وقت کے رواج کے مطابق لوگوں کو جمع کرنے کے لئے «يا صباحاه» کہہ کر آواز لگائی، جب قریش کے لوگ جمع ہو گئے تو انہوں نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ، اگر میں تمہیں خبر دوں کہ دشمن تم پر صبح یا شام میں کسی وقت حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟“ سب نے کہا: کیوں نہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میں تمہیں ایک سخت عذاب آنے سے پہلے ڈراتا ہوں“، ابولہب کہنے لگا کہ کیا تم نے ہمیں اسی لئے جمع کیا تھا، تم ہلاک ہو (العیاذ باللہ)، اس پر سورہ لہب نازل ہوئی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2544]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4801، م: 208
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2545
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وَهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْكُلُ عَرْقًا مِنْ شَاةٍ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يُمَضْمِضْ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی والا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور پانی کو چھوا تک نہیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2545]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 354، 359
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2546
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ، فقَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا لَهُ دَعْوَةٌ قَدْ تَنَجَّزَهَا فِي الدُّنْيَا، وَإِنِّي قَدْ اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي، وَأَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ، وَلَا فَخْرَ، وَبِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ، وَلَا فَخْرَ، آدَمُ فَمَنْ دُونَهُ تَحْتَ لِوَائِي، وَلَا فَخْرَ , وَيَطُولُ يَوْمُ الْقِيَامَةِ عَلَى النَّاسِ، فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى آدَمَ أَبِي الْبَشَرِ، فَْيَشْفَعْ إِلَى رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَيَأْتُونَ آدَمَ عَلَيْهِ السَلاَمَ، فَيَقُولُونَ: يَا آدَمُ , أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي قَدْ أُخْرِجْتُ مِنَ الْجَنَّةِ بِخَطِيئَتِي، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَكِنْ ائْتُوا نُوحًا رَأْسَ النَّبِيِّينَ , فَيَأْتُونَ نُوحًا، فَيَقُولُونَ: يَا نُوحُ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي دَعَوْتُ بِدَعْوَةٍ أَغْرَقَتْ أَهْلَ الْأَرْضِ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَكِنْ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ اللَّهِ , فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَيَقُولُونَ: يَا إِبْرَاهِيمُ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي كَذَبْتُ فِي الْإِسْلَامِ ثَلَاثَ كِذْبَاتٍ، وَاللَّهِ إِنْ حَاوَلَ بِهِنَّ إِلَّا عَنْ دِينِ اللَّهِ: قَوْلُهُ: إِنِّي سَقِيمٌ سورة الصافات آية 89 , وَقَوْلُهُ: بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا فَاسْأَلُوهُمْ إِنْ كَانُوا يَنْطِقُونَ سورة الأنبياء آية 63 , وَقَوْلُهُ لِامْرَأَتِهِ حِينَ أَتَى عَلَى الْمَلِكِ: أُخْتِي، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَكِنْ ائْتُوا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، الَّذِي اصْطَفَاهُ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَكَلَامِهِ , فَيَأْتُونَهُ، فَيَقُولُونَ: يَا مُوسَى، أَنْتَ الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَكَلَّمَكَ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي قَتَلْتُ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَكِنْ ائْتُوا عِيسَى رُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ , فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُونَ: اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي اتُّخِذْتُ إِلَهًا مِنْ دُونِ اللَّهِ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَكِنْ أَرَأَيْتُمْ لَوْ كَانَ مَتَاعٌ فِي وِعَاءٍ مَخْتُومٍ عَلَيْهِ، أَكَانَ يُقْدَرُ عَلَى مَا فِي جَوْفِهِ حَتَّى يُفَضَّ الْخَاتَمُ؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: لَا , قَالَ: فَيَقُولُ: إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، وَقَدْ حَضَرَ الْيَوْمَ وَقَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ" , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَيَأْتُونِي فَيَقُولُونَ: يَا مُحَمَّدُ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَأَقُولُ: أَنَا لَهَا، حَتَّى يَأْذَنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، لِمَنْ شَاءَ وَيَرْضَى، فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يَصْدَعَ بَيْنَ خَلْقِهِ نَادَى مُنَادٍ: أَيْنَ أَحْمَدُ وَأُمَّتُهُ؟ فَنَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ، نَحْنُ آخِرُ الْأُمَمِ، وَأَوَّلُ مَنْ يُحَاسَبُ، فَتُفْرَجُ لَنَا الْأُمَمُ عَنْ طَرِيقِنَا، فَنَمْضِي غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الطُّهُورِ، فَتَقُولُ الْأُمَمُ: كَادَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ أَنْ تَكُونَ أَنْبِيَاءَ كُلُّهَا، فَنَأْتِي بَابَ الْجَنَّةِ، فَآخُذُ بِحَلْقَةِ الْبَابِ، فَأَقْرَعُ الْبَابَ، فَيُقَالُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَأَقُولُ: أَنَا مُحَمَّدٌ، فَيُفْتَحُ لِي، فَآتِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ عَلَى كُرْسِيِّهِ أَوْ سَرِيرِهِ، شَكَّ حَمَّادٌ، فَأَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَأَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي، وَلَيْسَ يَحْمَدُهُ بِهَا أَحَدٌ بَعْدِي، فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ , فَأَرْفَعُ رَأْسِي , فَأَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أُمَّتِي، أُمَّتِي , فَيَقُولُ: أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ كَذَا وَكَذَا، لَمْ يَحْفَظْ حَمَّادٌ، ثُمَّ أُعِودُ , فَأَسْجُدُ، فَأَقُولُ مَا قُلْتُ، فَيُقَالُ: ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ , فَأَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أُمَّتِي، أُمَّتِي , فَيَقُولُ: أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ كَذَا وَكَذَا، دُونَ الْأَوَّلِ، ثُمَّ أُعِودُ، فَأَسْجُدُ، فَأَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَيُقَالُ لِيَ: ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ , فَأَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أُمَّتِي، أُمَّتِي , فيَقولَ: أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ كَذَا وَكَذَا، دُونَ ذَلِكَ".
ابونضرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جامع بصرہ کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نبی کی کم از کم ایک دعا ایسی ضرور تھی جو انہوں نے دنیا میں پوری کروا لی، لیکن میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے ذخیرہ کر لیا ہے، میں قیامت کے دن تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور میں اس پر فخر نہیں کرتا، میں ہی وہ پہلا شخص ہوں گا جس سے زمین کو ہٹایا جائے گا اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا، میرے ہی ہاتھ میں لواء الحمد (حمد کا جھنڈا) ہوگا اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا، حضرت آدم علیہ السلام اور ان کے علاوہ سب لوگ میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا۔ قیامت کا دن لوگوں کو بہت لمبا محسوس ہوگا، وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ آؤ، حضرت آدم علیہ السلام کے پاس چلتے ہیں، وہ ابوالبشر ہیں کہ وہ ہمارے پروردگار کے سامنے سفارش کر دیں تاکہ وہ ہمارا حساب کتاب شروع کر دے، چنانچہ سب لوگ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے کہ اے آدم! آپ وہی تو ہیں جنہیں اللہ نے اپنے دست مبارک سے پیدا فرمایا، اپنی جنت میں ٹھہرایا، اپنے فرشتوں سے سجدہ کرایا، آپ پروردگار سے سفارش کر دیں کہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ کہیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، مجھے میری ایک خطا کی وجہ سے جنت سے نکال دیا گیا تھا، آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم حضرت نوح علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ جو تمام انبیاء علیہم السلام کی جڑ ہیں۔ چنانچہ ساری مخلوق اور تمام انسان حضرت نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے کہ اے نوح! آپ ہمارے پروردگار سے سفارش کر دیں تاکہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ فرمائیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، میں نے ایک دعا مانگی تھی جس کی وجہ سے زمین والوں کو غرق کر دیا گیا تھا، آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ۔ چنانچہ سب لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ اے ابراہیم! آپ ہمارے رب سے سفارش کریں تاکہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ فرمائیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، میں نے زمانہ اسلام میں تین مرتبہ ذو معنی لفظ بولے تھے جن سے مراد واللہ! دین ہی تھا (ایک تو اپنے آپ کو بیمار بتایا تھا، دوسرا یہ فرمایا تھا کہ ان بتوں کو ان کے بڑے نے توڑا ہے، اور تیسرا یہ کہ بادشاہ کے پاس پہنچ کر اپنی اہلیہ کو اپنی بہن قرار دیا تھا) آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم حضرت موسی علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، جنہیں اللہ نے اپنی پیغامبری اور اپنے کلام کے لئے منتخب فرمایا تھا۔ اب سارے لوگ حضرت موسی علیہ السلام کے پاس پہنچیں گے اور ان سے کہیں گے کہ اے موسی! آپ ہی تو ہیں جنہیں اللہ نے اپنی پیغمبری کے لئے منتخب کیا اور آپ سے بلا واسطہ کلام فرمایا، آپ اپنے پروردگار سے سفارش کر کے ہمارا حساب شروع کروا دیں، وہ فرمائیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، میں نے ایک شخص کو بغیر کسی نفس کے بدلے کے قتل کر دیا تھا، اس لئے آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ جو روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہیں، چنانچہ سب لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور ان سے عرض کریں گے کہ آپ اپنے پروردگار سے سفارش کر دیں تاکہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ فرمائیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر مجھے معبود بنا لیا تھا، اس لئے آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ یہ بتاؤ کہ اگر کوئی چیز کسی ایسے برتن میں پڑی ہوئی ہو جس پر مہر لگی ہوئی ہو، کیا مہر توڑے بغیر اس برتن میں موجود چیز کو حاصل کیا جا سکتا ہے؟ لوگ کہیں گے: نہیں، اس پر حضرت عیسی علیہ السلام فرمائیں گے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء علیہم السلام کی مہر ہیں، آج وہ یہاں موجود بھی ہیں اور ان کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف بھی ہو چکے ہیں (لہذا تم ان کے پاس جاؤ)۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ سب میرے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے رب سے سفارش کر کے ہمارا حساب شروع کروا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ہاں! میں اس کا اہل ہوں، یہاں تک کہ اللہ ہر اس شخص کو اجازت دے دے جسے چاہے اور جس سے خوش ہو، جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے درمیان فیصلہ کرنے کا ارادہ فرمائیں گے تو ایک منادی اعلان کرے گا کہ احمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت کہاں ہے؟ ہم سب سے آخر میں آئے اور سب سے آگے ہوں گے، ہم سب سے آخری امت ہیں لیکن سب سے پہلے ہمارا حساب ہوگا اور ساری امتیں ہمارے لئے راستہ چھوڑ دیں گی اور ہم اپنے وضو کے اثرات سے روشن پیشانیوں کے ساتھ روانہ ہو جائیں گے، دوسری امتیں یہ دیکھ کر کہیں گی کہ اس امت کے تو سارے لوگ ہی نبی محسوس ہوتے ہیں۔ بہرحال! میں جنت کے دروازے پر پہنچ کر دروازے کا حلقہ پکڑ کر اسے کھٹکھٹاؤں گا، اندر سے پوچھا جائے گا کہ آپ کون ہیں؟ میں کہوں گا کہ میں محمد ہوں ( صلی اللہ علیہ وسلم ) چنانچہ دروازہ کھول دیا جائے گا، میں اپنے پروردگار کے حضور حاضر ہوں گا جو اپنے تخت پر رونق افروز ہوگا، میں اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤں گا اور اس کی ایسی تعریف کروں گا کہ مجھ سے پہلے کسی نے ایسی تعریف کی ہوگی اور نہ بعد میں کوئی کر سکے گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ ”اے محمد! سر تو اٹھایئے، آپ جو مانگیں گے آپ کو ملے گا، جو بات کہیں گے اس کی شنوائی ہوگی اور جس کی سفارش کریں گے قبول ہوگی“، میں اپنا سر اٹھا کر عرض کروں گا کہ پروردگار! میری امت، میری امت۔ ارشاد ہوگا کہ ”جس کے دل میں اتنے مثقال (راوی اس کی مقدار یاد نہیں رکھ سکے) کے برابر ایمان ہو، اسے جہنم سے نکال لیجئے“، ایسا کر چکنے کے بعد میں دوبارہ واپس آؤں گا اور اللہ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو کر حسب سابق اس کی تعریف کروں گا اور مذکورہ سوال جواب کے بعد مجھ سے کہا جائے گا کہ ”جس کے دل میں اتنے مثقال (پہلے سے کم مقدار میں) ایمان موجود ہو، اسے جہنم سے نکال لیجئے“، تیسری مرتبہ بھی اسی طرح ہوگا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2546]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، دون قول عيسى عليه السلام: إني اتخذت إلها من دون الله، فإنه مخالف لما فى الصحيح من أن عيسى لم يذكر ذنبة، ثم إن هذا لا يعد ذنبا له، وإسناد هذا الحديث ضعيف لضعف على بن زيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2547
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، فَقَالَ: أَخْبَرَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :" أُتِيتُ وَأَنَا نَائِمٌ فِي رَمَضَانَ، فَقِيلَ لِي: إِنَّ اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ , قَالَ: فَقُمْتُ، وَأَنَا نَاعِسٌ، فَتَعَلَّقْتُ بِبَعْضِ أَطْنَابِ فُسْطَاطِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي، قال: فَنَظَرْتُ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ، فَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رمضان کے مہینے میں سو رہا تھا، خواب میں کسی نے مجھ سے کہا کہ آج کی رات شب قدر ہے، میں اٹھ بیٹھا، اس وقت مجھ پر اونگھ کا غلبہ تھا، میں اسے دور کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے کی ایک چوب سے لٹک گیا، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، میں نے جب غور کیا تو وہ تئیسویں رات تھی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2547]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2548
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ، فَقَالَ:" مَنْ أَسْلَفَ فَلَا يُسْلِفْ إِلَّا فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو پتہ چلا کہ یہاں کے لوگ ادھار پر کھجوروں کا معاملہ کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کھجور میں بیع سلم کرے، اسے چاہئے کہ اس کی ماپ معین کرے اور اس کا وزن معین کرے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2548]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2239، م: 1604
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2549
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ، فَأُتِيَ بِطَعَامٍ فَقِيلَ لَهُ: أَلَا تَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ:" إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے باہر نکلے، آپ کے پاس کھانا لایا گیا، کسی نے عرض کیا کہ جناب والا وضو نہیں فرمائیں گے؟ فرمایا: ”مجھے وضو کا حکم اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز پڑھنے کا ارادہ کروں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2549]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 374
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں