🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2569
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ حَرْمَلَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: أَهْدَتْ خَالَتِي أُمُّ حُفَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا، وَلَبَنًا، وَأَضُبًّا، فَأَمَّا الْأَضُبُّ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَفَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: قَذِرْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ أَوْ أَجَلْ" , وَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّبَنَ فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ عَنْ يَمِينِهِ:" أَمَا إِنَّ الشَّرْبَةَ لَكَ، وَلَكِنْ أَتَأْذَنُ أَنْ أَسْقِيَ عَمَّكَ؟" , فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قُلْتُ: لَا، وَاللَّهِ مَا أَنَا بِمُؤْثِرٍ عَلَى سُؤْرِكَ أَحَدًا , قَالَ: فَأَخَذْتُهُ، فَشَرِبْتُ، ثُمَّ أَعْطَيْتُهُ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَعْلَمُ شَرَابًا يُجْزِئُ عَنِ الطَّعَامِ غَيْرَ اللَّبَنِ، فَمَنْ شَرِبَهُ مِنْكُمْ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ، وَزِدْنَا مِنْهُ، وَمَنْ طَعِمَ طَعَامًا، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ، وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری خالہ ام حفیق نے ہدیہ کے طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی، دودھ اور گوہ بھیجی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گوہ کو دیکھ کر ایک طرف تھوک پھینکا، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ شاید آپ اسے ناپسند فرماتے ہیں؟ فرمایا: ”ہاں!“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا برتن پکڑا اور اسے نوش فرمایا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب تھا اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بائیں جانب، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پینے کا حق تو تمہارا ہے، لیکن اگر تم اجازت دو تو میں تمہارے چچا کو پینے کے لئے دے دوں؟“ میں نے عرض کیا کہ میں آپ کے پس خوردہ پر کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ چنانچہ میں نے اس دودھ کا برتن پکڑا اور اسے پی لیا، اس کے بعد سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اللہ کھانا کھلائے، وہ یہ دعا کرے: «اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ» ”اے اللہ! ہمارے لئے اس میں برکت عطا فرما اور اس سے بہترین کھلا“، اور جس شخص کو اللہ دودھ پلائے، وہ یہ دعا کرے: «اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ» ”اے اللہ! ہمارے لئے اس میں برکت عطا فرما اور اس میں مزید اضافہ فرما“، کیونکہ میرے علم کے مطابق کھانے اور پینے دونوں کی کفایت دودھ کے علاوہ کوئی چیز نہیں کر سکتی۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2569]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد ولجهالة عمر بن حرملة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2570
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" تَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ رَجَعَ، فَأُتِيَ بِعَرْقٍ، فَلَمْ يَتَوَضَّأْ، فَأَكَلَ مِنْهُ" , وَزَادَ عَمْرٌو عَلَيَّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ لَمْ تَتَوَضَّأْ! قَالَ:" مَا أَرَدْتُ الصَّلَاةَ فَأَتَوَضَّأَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء تشریف لے گئے، پھر باہر آئے، کھانا منگوایا اور کھانے لگے، کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ وضو نہیں کریں گے؟ فرمایا: ”کیوں، میں کوئی نماز پڑھ رہا ہوں جو وضو کروں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2570]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 374
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2571
(حديث مرفوع) قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ , وَجَدْتُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا شَرِبَ تَنَفَّسَ مَرَّتَيْنِ فِي الشَّرَابِ" , وَكَتَبَ أَبِي فِي أَثَرِ هَذَا الْحَدِيثِ، لَا أُرَى عَبْدَ اللَّهِ سَمِعَ هَذَا الْحَدِيثَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی مشروب پیتے تو اسے پینے کے دوران دو مرتبہ سانس لیتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2571]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف سعيد بن محمد بن الوراق ورشدين بن كريب، وعندهما مناكير
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2572
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ الْعَصَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" تَضَيَّفْتُ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ خَالَتِي، وَهِيَ لَيْلَةَ إِذْ لَا تُصَلِّي، فَأَخَذَتْ كِسَاءً فَثَنَتْهُ، وَأَلْقَتْ عَلَيْهِ نُمْرُقَةً، ثُمَّ رَمَتْ عَلَيْهِ بِكِسَاءٍ آخَرَ، ثُمَّ دَخَلَتْ فِيهِ، وَبَسَطَتْ لِي بِسَاطًا إِلَى جَنْبِهَا، وَتَوَسَّدْتُ مَعَهَا عَلَى وِسَادِهَا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، فَأَخَذَ خِرْقَةً فَتَوَزَرَ بِهَا، وَأَلْقَى ثَوْبَهُ، وَدَخَلَ مَعَهَا لِحَافَهَا، وَبَاتَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، قَامَ إِلَى سِقَاءٍ مُعَلَّقٍ فَحَرَّكَهُ، فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ فَأَصُبَّ عَلَيْهِ، فَكَرِهْتُ أَنْ يَرَى أَنِّي كُنْتُ مُسْتَيْقِظًا، قَالَ: فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ أَتَى الْفِرَاشَ، فَأَخَذَ ثَوْبَيْهِ، وَأَلْقَى الْخِرْقَةَ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ، فَقَامَ فِيهِ يُصَلِّي، وَقُمْتُ إِلَى السِّقَاءِ، فَتَوَضَّأْتُ، ثُمَّ جِئْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَتَنَاوَلَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى وَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ قَعَدَ، وَقَعَدْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَوَضَعَ مِرْفَقَهُ إِلَى جَنْبيِ، وَأَصْغَى بِخَدِّهِ إِلَى خَدِّي، حَتَّى سَمِعْتُ نَفَسَ النَّائِمِ، فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ بِلَالٌ، فَقَالَ: الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَسَارَ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَاتَّبَعْتُهُ، فَقَامَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ، وَأَخَذَ بِلَالٌ فِي الْإِقَامَةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں رات گزاری، انہوں نے ایک چادر لے کر اسے تہہ کیا، اس پر تکیہ رکھا اور دوسری چادر بچھا کر اسے اوڑھ کر لیٹ گئیں، میرے لئے انہوں نے اپنے ساتھ ایک بستر بچھا دیا تھا اور میں ان ہی کے تکیے پر سر رکھ کر لیٹ گیا، عشا کی نماز پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے اور کپڑے اتار کر تہبند باندھ لیا اور ان کے ساتھ لحاف اوڑھ لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، جب آدھی رات ہوئی، یا اس سے کچھ پہلے، یا اس سے کچھ بعد کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو کر بیٹھ گئے، پھر کھڑے ہو کر ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف گئے، پہلے میں نے سوچا کہ میں اٹھ کر جاؤں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کراؤں لیکن پھر مجھے یہ مناسب معلوم نہ ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میری بیداری کا علم ہو، بہرحال! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور تہبند اتار کر کپڑے پہن لئے اور مسجد آ کر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے بھی کھڑے ہو کر اسی طرح کیا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور مجھے اپنی دائیں جانب کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور ان کے ساتھ میں نے بھی کل تیرہ رکعتیں پڑھیں، پھر بیٹھ گئے، میں بھی ان کے پہلو میں بیٹھ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کہنی میرے پہلو پر رکھ دی اور اپنا رخسار میرے رخسار کے قریب کر دیا حتی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز سنی، کچھ ہی دیر بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آ گئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نماز، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف چل پڑے، میں بھی پیچھے تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر دو رکعتیں ہلکی سی پڑھیں اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اقامت کہنے لگے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2572]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، محمد بن ثابت ضعيف، وراية إسحاق بن عبدالله عن ابن عباس مرسلة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2573
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَذَكَرَ شَيْئًا، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُكْثِرُ السِّوَاكَ"، قَالَ: حَتَّى ظَنَنَّا أَوْ رَأَيْنَا أَنَّهُ سَيُنْزَلُ عَلَيْهِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی کثرت کے ساتھ مسواک فرماتے تھے کہ ہمیں یہ اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں اس بارے میں قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہو جائے (اور امت اس حکم کو پورا نہ کر سکے)۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2573]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لجهالة التميمي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2574
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ خَطَبَ، وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ , وَعُثْمَانُ، فِي الْعِيدِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ" , قَالَ أَبِي: قَدْ سَمِعَهُ عَبْدُ اللَّهِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے عید کی نماز پڑھایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2574]

الحكم على الحديث:
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2575
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي , حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ شُفَيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُمْ جَعَلُوا يَسْأَلُونَهُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا خَرَجَ مِنْ أَهْلِهِ لَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يَرْجِعَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے ان سے سفر میں نماز کے متعلق پوچھنا شروع کر دیا، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے نکلنے کے بعد گھر واپس آنے تک دو رکعت نماز (قصر) ہی پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2575]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2576
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّهِ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ الْأَحْمَرُ ، عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَصْلُحُ قِبْلَتَانِ فِي مِصْرٍ وَاحِدٍ، وَلَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ جِزْيَةٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک شہر میں دو قبلے نہیں ہو سکتے، اور مسلمان پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2576]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، لضعف قابوس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2577
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، رَفَعَهُ أَيْضًا , قَالَ:" لَا تَصْلُحُ قِبْلَتَانِ فِي أَرْضٍ، وَلَيْسَ عَلَى مُسْلِمٍ جِزْيَةٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک زمین میں دو قبلے نہیں ہو سکتے، اور مسلمان پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2577]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2578
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ رِشْدِينٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ مَرَّتَيْنِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی مشروب پیتے تو اسے پینے کے دوران دو مرتبہ سانس لیتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2578]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف رشدين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں