🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7326
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَضْحَكُ مِنَ الرَّجُلَيْنِ قَتَلَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، يَدْخُلَانِ الْجَنَّةَ جَمِيعًا" يَقُولُ:" كَانَ كَافِرًا قَتَلَ مُسْلِمًا، ثُمَّ إِنَّ الْكَافِرَ أَسْلَمَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ، فَأَدْخَلَهُمَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان دو آدمیوں پر ہنسی آتی ہے جن میں سے ایک نے دوسرے کو شہید کر دیا ہو لیکن پھر دونوں ہی جنت میں داخل ہو جائیں اس کی وضاحت یہ ہے کہ ایک آدمی کافر تھا اس نے کسی مسلمان کو شہید کر دیا پھر اپنی موت سے پہلے اس کافر نے بھی اسلام قبول کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو جنت میں داخلہ نصیب فرما دیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7326]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2826، م: 1890.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7327
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَعَمْرٌو ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ :" إِنَّ نَارَكُمْ هَذِهِ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ، وَضُرِبَتْ بِالْبَحْرِ مَرَّتَيْنِ، وَلَوْلَا ذَلِكَ مَا جَعَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْفَعَةً لِأَحَدٍ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری یہ دنیا کی آگ جہنم کی آگ کا سترواں جزء ہے اور دو مرتبہ اس پر سمندر کا پانی لگایا گیا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو اس میں اللہ بندوں کا کوئی فائدہ نہ رکھتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7327]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وله إسنادان، الأول: متصل، والثاني: مرسل، خ: 3265، م: 2843.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7328
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا فَيُقِيمَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ آمُرَ فِتْيَانِي، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: فِتْيَانًا، فَيُخَالِفُونَ إِلَى قَوْمٍ لَا يَأْتُونَهَا، فَيُحَرِّقُونَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ، وَلَوْ عَلِمَ أَحَدُكُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَظْمًا سَمِينًا، أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ، إِذًا لَشَهِدَ الصَّلَوَاتِ". وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً:" الْعِشَاءَ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرادل چاہتا ہے کہ ایک آدمی کو حکم دوں اور وہ نماز کھڑی کر دے پھر اپنے نوجوانوں کو حکم دوں اور وہ ان لوگوں کے پاس جائیں جو نماز باجماعت میں شرکت نہیں کرتے اور لکڑیوں کے گٹھوں سے ان کے گھروں میں آگ لگا دیں اگر تم میں سے کسی کو یقین ہو کہ اسے خوب موٹی تازی ہڈی یا دو عمدہ گھر ملیں گے تو وہ ضرور نماز میں (دوسری روایت کے مطابق نماز عشاء میں بھی) شرکت کرے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7328]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2420، م: 651.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7329
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَخْنَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، رَجُلٌ تَسَمَّى بِمَلِكِ الْأَمْلَاكِ". قال عبدُ الله: قال أبى: سَأَلْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ عَنْ" أَخْنَعِ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ"، فَقَالَ: أَوْضَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن بارگاہ الٰہی میں سب سے حقیر نام اس شخص کا ہو گا جو اپنے آپ کو شہنشاہ کہلواتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7329]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6206، م: 2143.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7330
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تُوَاصِلُ! قَالَ:" إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي، وَيَسْقِينِي".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس معاملے میں تم میری طرح نہیں ہو میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ اس لئے تم اپنے اوپر عمل کا اتنا بوجھ ڈالو جسے برداشت کرنے کی تم میں طاقت موجود ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7330]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1966، م: 1103
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7331
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا تَعْجَبُونَ كَيْفَ يُصْرَفُ عَنِّي شَتْمُ قُرَيْشٍ! كَيْفَ يَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا، وَيَشْتُمُونَ مُذَمَّمًا، وَأَنَا مُحَمَّدٌ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں اس بات پر تعجب نہیں ہوتا کہ کس عجیب طریقے سے قریش کی دشنام طرازیوں کو مجھ سے دور کر دیا جاتا ہے؟ وہ کس طرح مذمم پر لعنت اور سب و شتم کرتے ہیں جبکہ میرا نام تو محمد ہے (مذمم نہیں) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7331]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3533.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7332
(حديث مرفوع) قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ أَبَا الزِّنَادِ يُحَدِّثُ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ: أَنْصِتْ، فَقَدْ لَغَيْتَ". قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: وهِيَ لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام جس وقت جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے ساتھی کو صرف یہ کہو کہ خاموش رہو تو تم نے لغو کام کیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7332]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 934، م: 851.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7333
(حديث مرفوع) قُرئَ عَلَى سُفْيَانَ أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَأَرَى خُشُوعَكُمْ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارا خشوع و خضوع دیکھتا ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7333]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 418، م: 423.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7334
(حديث مرفوع) قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ أَبَا الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْتُ سُفْيَانَ، يَقُولُ:" مَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي، فَقَدْ أَطَاعَنِي، وَمَنْ أَطَاعَنِي، فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلّ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میرے امیر کی اطاعت کرتا ہے وہ میری اطاعت کرتا ہے اور جو میری اطاعت کرتا ہے گویا وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7334]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2957، م: 1835.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7335
(حديث مرفوع) وقَالَ سُفْيَانُ فِي حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ : عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَبَغَتْ الدِّرْعُ، أَوْ أُمِرَّتْ، تُجِنُّ بَنَانَهُ، وَتَعْفُو أَثَرَهُ يُوَسِّعُهَا". قَالَ أَبُو الزِّنَادِ:" يُوَسِّعُهَا، وَلَا تَتَّسِعُ"، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ:" وَلَا يَتَوَسَّعُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قمیص بعض اوقات کشادہ ہوتی ہے اور بعض اوقات تنگ (مراد آدمی کی سخاوت اور کنجوسی ہے) وہ اس کی انگلیوں کو ڈھانپ لیتی ہے اور اس کے نشانات کو مٹادیتی ہے اور کنجوس آدمی کشادگی حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن اسے کشادگی حاصل نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7335]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، له إسنادان: الأول: صحيح، والثاني: فيه جريج مدلس وقد عنعنه، لكنه قد توبع، خ: 1443، م: 1021.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں