مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 7346
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَعَلَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ غَسَلَاتٍ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ماردے تو اسے چاہئے کہ اس برتن کو سات مرتبہ دھوئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7346]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، والحديث رفعه ثابت دون شك، خ: 172، م: 279.
حدیث نمبر: 7347
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُفْيَانُ: لَعَلَّهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ: «إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ غَسَلَاتٍ»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، وهو مكرر ماقبله.
حدیث نمبر: 7348
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ :" أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ يَعْنِي عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے افضل صدقہ تو دل کے غناء کے ساتھ ہوتا ہے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقات و خیرات میں ان لوگوں سے ابتدا کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7348]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح موقوفا، وهو صحيح مرفوعا، خ: 1426.
حدیث نمبر: 7349
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأُ بِالْيَمِينِ وَ إِذَا خَلَعَ الْيُسْرَى وَإِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدٍ لِيُحْفِهِمَا جَمِيعًا، أَوْ لِيُنْعِلْهُمَا جَمِيعًا»
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے کہ تم میں سے کوئی شخص جوتی پہنے تو دائیں پاؤں سے ابتداء کرے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پاوں کی اتارے نیز یہ کہ اگر تم میں سے کسی کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ صرف ایک جوتی پہن کر نہ پھرے بلکہ دونوں اتار دے یا دونوں پہن لے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7349]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5856، م: 2097.
حدیث نمبر: 7350
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَوْ عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ:" ارْكَبْهَا"، قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ! قَالَ:" ارْكَبْهَا"، قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ! قَالَ:" ارْكَبْهَا". وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ مَرَّةً، فَقَالَ: عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک اونٹ کو ہانک کر لئے جا رہا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کہ اس پر سوار ہو جاؤ اس نے عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: کہ اس پر سوار ہو جاؤ اس نے دوبارہ عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر سوار ہونے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7350]
الحكم على الحديث:
الحديث صحيح، على ما فيه من شك، فإن كان رواه بالإسناد الأول: فهو حسن، وإن كان رواه بالثاني: فهو صحيح، خ: 1689، م: 1322.
حدیث نمبر: 7351
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" بَيْنَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً إِذْ رَكِبَهَا، فَضَرَبَهَا، قَالَتْ: إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهَذَا، إِنَّمَا خُلِقْنَا لِلْحِرَاثَةِ"، فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، بَقَرَةٌ تَتَكَلَّمُ! فَقَالَ:" فَإِنِّي أُومِنُ بِهَذَا أَنَا، وَأَبُو بَكْرٍ غَدًا غَدًا، وَعُمَرُ، وَمَا هُمَا ثَمَّ، وَبَيْنَا رَجُلٌ فِي غَنَمِهِ، إِذْ عَدَا عَلَيْهَا الذِّئْبُ، فَأَخَذَ شَاةً مِنْهَا، فَطَلَبَهُ، فَأَدْرَكَهُ، فَاسْتَنْقَذَهَا مِنْهُ، فَقَالَ: يَا هَذَا، اسْتَنْقَذْتَهَا مِنِّي، فَمَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ، يَوْمَ لَا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي؟" قَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، ذِئْبٌ يَتَكَلَّمُ! فَقَالَ:" إِنِّي أُومِنُ بِذَلِكَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ" وَمَا هُمَا ثَمَّ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور نماز کے بعد ہماری طرف رخ کرکے بیٹھ گئے اور فرمایا: کہ ایک آدمی ایک بیل کو ہانک کر لئے جا رہا تھا راستے میں وہ اس پر سوار ہو گیا اور اسے مارنے لگا وہ بیل قدرت الٰہی سے گویا ہوا اور کہنے لگا ہمیں اس مقصد کے لئے پیدا نہیں کیا گیا ہمیں تو ہل جوتنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے لوگ کہنے لگے سبحان اللہ! کبھی بیل بھی بولتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن میں ابوبکر اور عمر تو اس پر ایمان رکھتے ہیں جبکہ وہ دونوں اس مجلس میں موجود نہ تھے۔ _x000D_ پھر فرمایا: کہ ایک آدمی اپنی بکریوں کے ریوڑ میں تھا کہ ایک بھیڑیے نے ریوڑ پر حملہ کر دیا اور ایک بکری اچک کرلے گیا وہ آدمی بھیڑئیے کے پیچھے بھاگا اور کچھ دور جا کر اسے جا لیا اور اپنی بکری کو چھڑا لیا یہ دیکھ کر وہ بھیڑیا قدرت الٰہی سے گویا ہوا اور کہنے لگا کہ اے فلاں! آج تو تو نے مجھ سے اس بکری کو چھڑا لیا اس دن اسے کون چھڑائے گا جب میرے علاوہ اس کا کوئی چرواہانہ ہو گا؟ لوگ کہنے لگے سبحان اللہ کیا بھیڑیا بھی بولتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن میں ابوبکر اور عمر تو اس پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ دونوں اس مجلس میں موجود نہ تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7351]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3471، م: 2388.
حدیث نمبر: 7352
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : خَيَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا وَامْرَأَةً وَابْنًا لَهُمَا، فَخَيَّرَ الْغُلَامَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا غُلَامُ، هَذَا أَبُوكَ، وَهَذِهِ أُمُّكَ، اخْتَرْ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی اور عورت اور ان دونوں کے بیٹے کو اختیار دیا اور لڑکے کو اختیار دیتے ہوئے فرمایا: اے لڑکے یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں ہے ان میں سے جس کے ساتھ جانے کا ارادہ ہو اسے اختیار کرلے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7352]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7353
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، أَنَا سَأَلْتُهُ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ، فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ اتَّبَعَهَا، حَتَّى يُفْرَغَ مِنْ شَأْنِهَا، فَلَهُ قِيرَاطَانِ، أَصْغَرُهُمَا، أَوْ أَحَدُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہے اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا جن میں سے چھوٹا یا ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہو گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7353]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1325، م: 945.
حدیث نمبر: 7354
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي سُمَيٌّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ، إِلَّا الْجَنَّةُ، وَالْعُمْرَتَانِ، أَوْ الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ تُكَفَّرُ مَا بَيْنَهُمَا".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج مبرور کی جزاء جنت کے علاوہ کچھ نہیں اور دو عمرے اپنے درمیان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7354]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1773، م: 1349.
حدیث نمبر: 7355
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَسْتَعِيذُ مِنْ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثِ: دَرَكِ الشَّقَاءِ، وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ، وَسُوءِ الْقَضَاءِ، أَوْ جَهْدِ الْقَضَاءِ". قَالَ سُفْيَانُ: زِدْتُ أَنَا وَاحِدَةً، لَا أَدْرِي أَيَّتُهُنَّ هِيَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان تین چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے بدنصیبی ملنے سے دشمنوں کے ہنسی اڑانے سے برے فیصلے سے اور مصیبتوں کی مشقت سے راوی حدیث سفیان کہتے ہیں کہ ان میں ایک چیز کا اضافہ مجھ سے ہو گیا ہے معلوم نہیں کہ وہ کون سی چیز ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7355]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6347، م: 2707.