مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 7946
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِخَمْسِ مِائَةِ عَامٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فقراء مومنین مالدار مسلمانوں کی نسبت پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7946]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7947
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَانَ زَكَرِيَّا عَلَيْهِ السَّلَام نَجَّارًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت زکریا علیہ السلام پیشے کے اعتبار سے بڑھئی تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7947]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2379.
حدیث نمبر: 7948
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إنَّ رَجُلًا أَذْنَبَ ذَنْبًا، فَقَالَ: رَبِّ، إِنِّي أَذْنَبْتُ ذَنْبًا أَوْ قَالَ: عَمِلْتُ عَمَلًا ذَنْبًا، فَاغْفِرْهُ. فَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ: " عَبْدِي عَمِلَ ذَنْبًا، فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ، قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي". ثُمَّ عَمِلَ ذَنْبًا آخَرَ أَوْ قال: أَذْنَبَ ذَنْبًا آخَرَ، فَقَالَ: رَبِّ، إِنِّي عَمِلْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْهُ. فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى:" عَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ، قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي". ثُمَّ عَمِلَ ذَنْبًا آخَرَ أَوْ أَذْنَبَ ذَنْبًا آخَرَ، فَقَالَ: رَبِّ، إِنِّي عَمِلْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْهُ. فَقَالَ:" عَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ، قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي". ثُمَّ عَمِلَ ذَنْبًا آخَرَ أَوْ قال: أَذْنَبَ ذَنْبًا آخَرَ، فَقَالَ: رَبِّ، إِنِّي عَمِلْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْهُ. قال:" عَبْدي عَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ: أُشهِدُكم أني قد غَفَرْتُ لِعَبْدي، فَلْيَعْمَلْ مَا شَاءَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی گناہ کرتا ہے پھر کہتا ہے کہ پروردگار مجھ سے گناہ کا ارتکاب ہوا مجھے معاف فرمادے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے گناہ کا کام کیا اور اسے یقین ہے کہ اس کا کوئی رب بھی ہے جو گناہوں کو معاف فرماتا یا ان پر مواخذہ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے کو معاف کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو تین مرتبہ مزید دہرایا کہ بندہ پھر گناہ کرتا ہے اور حسب سابق اعتراف کرتا ہے اور اللہ حسب سابق جواب دیتا ہے چوتھی مرتبہ آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں گواہ رہو میں نے اپنے بندے کو معاف کردیا اب وہ جو چاہے کرے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7948]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7507، م: 2758.
حدیث نمبر: 7949
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، وَحُسَيْنٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي قَحْذَمٍ ، قَالَ: " وُجِدَ فِي زَمَنِ زِيَادٍ أَوْ ابْنِ زِيَادٍ صُرَّةٌ فِيهَا حَبٌّ أَمْثَالُ النَّوَى عَلَيْهِ مَكْتُوبٌ: هَذَا نَبَتَ فِي زَمَانٍ كَانَ يُعْمَلُ فِيهِ بِالْعَدْلِ" .
ابوقحذم کہتے ہیں کہ زیاد یا ابن زیاد کے دور حکومت میں کہیں سے ایک تھیلی ملی جس میں کھجور کی گٹھلی جیسا ایک دانہ تھا اور اس پر لکھا ہوا تھا کہ یہ اس زمانے میں اگا تھا جب عدل و انصاف کا معاملہ کیا جاتا تھا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7949]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، لا يثبت، وليس هو بحديث، أبو قحذم مجهول.
حدیث نمبر: 7950
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ وَهُوَ الْأَزْرَقُ ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كَانَ الْعِلْمُ بِالثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهُ أُنَاسٌ مِنْ أَبْنَاءِ فَارِسَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر علم ثریا ستارے پر بھی ہوا تو ابناء فارس کے کچھ لوگ اسے وہاں سے بھی حاصل کرلیں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7950]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف شهر.
حدیث نمبر: 7951
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اطَّلَعْتُ فِي النَّارِ، فَوَجَدْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ، وَاطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ، فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو وہاں خواتین کی اکثریت دکھائی دی اور جنت میں جھانک کر دیکھا تو وہاں فقراء کی اکثریت دکھائی دی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7951]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر.
حدیث نمبر: 7952
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَذْنَبَ كَانَتْ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ فِي قَلْبِهِ، فَإِنْ تَابَ وَنَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ، صُقِلَ قَلْبُهُ، وَإِنْ زَادَ زَادَتْ، حَتَّى يَعْلُوَ قَلْبَهُ ذَاكَ الرَّيْنُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ: كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ سورة المطففين آية 14" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسی مسلمان سے کوئی گناہ سرزد ہوتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ دھبہ پڑجاتا ہے اگر وہ توبہ و استغفار کرلے تو اس کا دل پھر سے صاف روشن ہوجاتا ہے ورنہ جتنے گناہ بڑھتے جاتے ہیں اتنے ہی سیاہ دھبے بڑھتے جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کے دل پر وہ زنگ چھا جاتا ہے جس کا ذکر اللہ نے قرآن کریم میں ان الفاظ کے ساتھ کیا ہے۔ کلا بل ران علی قلوبہم ما کانوا یکسبون۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7952]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي.
حدیث نمبر: 7953
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا يَجِدُ الشَّهِيدُ مِنْ مَسِّ الْقَتْلِ، إِلَّا كَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ مَسِّ الْقَرْصَةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شہید کو شہادت کی وجہ سے اتنی بھی تکلیف محسوس نہیں ہوتی جتنی تم میں سے کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7953]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي.
حدیث نمبر: 7954
حَدَّثَنِي صَفْوَانُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الدِّينُ النَّصِيحَةُ" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَنْ؟ قَالَ:" لِلَّهِ، وَلِكِتَابِهِ، ولِرَسولِه، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا دین سراسر خیر خواہی کا نام ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ کس کے لئے؟ فرمایا اللہ کے لئے اس کی کتاب کے لئے اس کے پیغمبر کے لئے اور مسلمانوں کے حکمرانوں کے لئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7954]
الحكم على الحديث:
متن الحديث صحيح، وأما الإسناد فقد وقع فيه الاختلاف.
حدیث نمبر: 7955
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عن عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: ذُكِرَ الشَّهِيدُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا تَجِفُّ الْأَرْضُ مِنْ دَمِ الشَّهِيدِ حَتَّى يَبْتَدِرَهُ زَوْجَتَاهُ، كَأَنَّهُمَا ظِئْرَانِ، أَظَلَّتَا أَوْ أَضَلَّتَا، فَصِيلَيْهِمَا بِبَرَاحٍ مِنَ الْأَرْضِ، بِيَدِ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا حُلَّةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں شہید کا تذکرہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمین پر شہید کا خون خشک نہیں ہونے پاتا کہ اس کے پاس اس کی دو جنتی بیویاں سبقت کر کے پہنچ جاتی ہیں اور وہ اس ہرن کی طرح چوکڑیاں بھرتی ہوئی آتی ہیں جنہوں نے زمین کے کسی حصے میں اپنے بچوں کو سایہ لینے کے لئے چھوڑ دیا ہو ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک ایک جوڑا ہوتا ہے جو دنیا ومافیہا سے بہتر ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7955]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة هلال ولضعف شهر.