مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 8226
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ، وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلَ فِي مِعًى وَاحِدٍ" .
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5396، م: 2062
حدیث نمبر: 8227
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْت أَبِي يَقُولُ: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّزَّاقِ: يَا أَبَا بَكْرٍ أُفَصِّلُ، يَعْنِي هَذَا الْحَدِيثَ، كَأَنَّهُ أَعْجَبَهُ حُسْنُ هَذَا الْحَدِيثِ وَجَوْدَتُهُ. قَالَ: نَعَمْ.
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے اور مسلمان ایک آنت میں کھاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8227]
حدیث نمبر: 8228
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمْ يُسَمَّ خَضِرًا إِلَّا أَنَّهُ جَلَسَ عَلَى فَرْوَةٍ بَيْضَاءَ فَإِذَا هِيَ تَهْتَزُّ خَضْرَاءَ" . الْفَرْوَةُ: الْحَشِيشُ الْأَبْيَضُ وَمَا أَشْبِهُهُ. قَالَ عَبْد اللَّهِ: أَظُنُّ هَذَا تَفْسِيرًا مِنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خضر علیہ السلام کے متعلق فرمایا کہ انہیں خضر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک سفید گھاس پر بیٹھے تو وہ نیچے سے سبز رنگ میں تبدیل ہو کر لہلہانے لگی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8228]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3402
حدیث نمبر: 8229
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى الْمُسْبِلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ ٹخنوں سے نیچے شلوار لٹکانے والے پر نظر رحم نہیں فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8229]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، وهو بلفظ آخر فى البخاري: 5788
حدیث نمبر: 8230
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قِيلَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ نَغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ سورة البقرة آية 58، فَبَدَّلُوا، فَدَخَلُوا الْبَابَ يَزْحَفُونَ عَلَى أَسْتَاهِهِمْ، وَقَالُوا: حَبَّةٌ فِي شَعْرَةٍ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد باری تعالیٰ ادخلوا الباب سجدا کی تفسیر میں فرمایا کہ بنی اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ اپنی سرینوں کے بل گھستے ہوئے اس شہر میں داخل ہوں اور یوں کہیں حطۃ (الہٰی معاف فرما) لیکن انہوں نے اس لفظ کو بدل دیا اور کہنے لگے حبۃ فی شعرۃ (جو کے دانے درکار ہیں) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8230]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3403، م: 3015
حدیث نمبر: 8231
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ، فَاسْتَعْجَمَ الْقُرْآنُ عَلَى لِسَانِهِ فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ، فَلْيَضْطَجِعْ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص رات کو بیدار ہو اور اس کی زبان پر قرآن نہ چڑھ رہاہو اور اسے یہ پتہ ہی نہ چل رہا ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے (نیند کا اتنا اثر ہو) تو اسے دوبارہ لیٹ جانا چاہئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8231]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 787
حدیث نمبر: 8232
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُلُ ابْنُ آدَمَ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ، إِنِّي أَنَا الدَّهْرُ، أُرْسِلُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، فَإِذَا شِئْتُ قَبَضْتُهُمَا" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ فرماتا ہے کہ ابن آدم یہ نہ کہے کہ زمانے کی تباہی کیونکہ میں ہی زمانے کو پیدا کرنے والا ہوں میں ہی اس کے رات دن کو الٹ پلٹ کرتا ہوں اور جب چاہوں گا ان دونوں کو اپنے پاس کھینچ لوں گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8232]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6181، م: 2246
حدیث نمبر: 8233
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نِعِمَّا لِلْمَمْلُوكِ أَنْ يُتَوَفَّى بِحُسْنِ عِبَادَةِ اللَّهِ وَصَحَابَةِ سَيِّدِهِ، نِعِمَّا لَهُ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی غلام کے لئے کیا ہی خوب ہے کہ اللہ اسے اپنی بہترین عبادت اور اس کے آقا کی اطاعت کے ساتھ موت دے دے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8233]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2549، م: 1667
حدیث نمبر: 8234
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ الصَّلَاةِ فَلَا يَبْصُقْ أَمَامَهُ، فَإِنَّهُ مُنَاجٍ لِلَّهِ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، فَإِنَّ عَنْ يَمِينِهِ مَلَكًا، وَلَكِنْ لِيَبْصُقْ عَنْ شِمَالِهِ أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ فَيَدْفِنُهُ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہو تو سامنے کی طرف نہ تھوکے کیونکہ جب تک وہ اپنے مصلی پر رہتا ہے اللہ سے مناجات کرتا رہتا ہے اور نہ ہی دائیں جانب تھوکے کیونکہ اس کی دائیں جانب فرشتہ ہوتا ہے بلکہ اسے بائیں جانب یا پاؤں کی طرف تھوکنا چاہئے اور بعد میں اسے مٹی میں ملا دے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8234]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 416، م: 550
حدیث نمبر: 8235
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قُلْتَ لِلنَّاسِ: أَنْصِتُوا، وَهُمْ يَتَكَلَّمُونَ، فَقَدْ أَلْغَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام جب وقت جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے ساتھی کو صرف یہ کہو کہ خاموش رہو تو تم نے لغو کام کیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8235]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 934، م: 851