مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 8216
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا قَرْيَةٍ أَتَيْتُمُوهَا فَأَقَمْتُمْ فِيهَا، فَسَهْمُكُمْ فِيهَا، وَأَيُّمَا قَرْيَةٍ عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَإِنَّ خُمُسَهَا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ، ثُمَّ هِيَ لَكُمْ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس بستی میں تم داخل ہوئے اور وہاں کچھ عرصہ اقامت کی اس کی فتح کے بعد مال غنیمت میں تمہارا حصہ ہے اور جو بستی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو اس کا خمس اللہ اور اس کے رسول کا ہے پھر تمہارا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8216]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1756
حدیث نمبر: 8217
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَحْسَنَ أَحَدُكُمْ إِسْلَامَهُ، فَكُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، وَكُلُّ سَيِّئَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ لَهُ بِمِثْلِهَا حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے اسلام میں حسن پیدا ہوجائے تو ہر وہ نیکی جو وہ کرتا ہے اس کے بدلے میں دس سے لے کر سات سو گنا تک ثواب لکھا جاتا ہے اور ہر وہ گناہ جو اس سے سرزد ہوتا ہے وہ صرف اتنا ہی لکھا جاتا ہے۔ تاآنکہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8217]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 42، م: 129
حدیث نمبر: 8218
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَا قَامَ أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ، فَلْيُخَفِّفْ الصَّلَاةَ، فَإِنَّ فِيهِمْ الْكَبِيرَ وَفِيهِمْ الضَّعِيفَ وَفِيهِمْ السَّقِيمَ، وَإِذَا قَامَ وَحْدَهُ، فَلْيُطِلْ صَلَاتَهُ مَا شَاءَ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم امام بن کر نماز پڑھایا کرو تو ہلکی نماز پڑھایا کرو کیونکہ نمازیوں میں عمر رسیدہ کمزور اور بیمار سب ہی ہوتے ہیں البتہ جب تنہا نماز پڑھا کرو تو جتنی مرضی طویل کرلیا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8218]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 703، م: 467
حدیث نمبر: 8219
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَتْ الْمَلَائِكَةُ: رَبِّ ذَاكَ عَبْدُكَ يُرِيدُ أَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً، وَهُوَ أَبْصَرُ بِهِ، فَقَالَ: " ارْقُبُوهُ، فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا لَهُ بِمِثْلِهَا، وَإِنْ تَرَكَهَا فَاكْتُبُوهَا لَهُ حَسَنَةً، إِنَّمَا تَرَكَهَا مِنْ جَرَّايَ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرشتے عرض کرتے ہیں پروردگار آپ کا فلاں بندہ گناہ کرنے کا ارادہ کر رہا ہے اللہ باوجودیکہ اسے خوب دیکھ رہا ہوتا ہے فرشتے سے فرماتا ہے کہ اس کی نگرانی کرتے رہوا گر یہ گناہ کر بیٹھے تو صرف اتنا ہی لکھنا جتنا اس نے کیا اور اگر گناہ چھوڑ دے تو اس کے لئے نیکی لکھ دینا کیونکہ اس نے گناہ میری وجہ سے چھوڑا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8219]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7501، م: 129
حدیث نمبر: 8220
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " كَذَّبَنِي عَبْدِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، وَشَتَمَنِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ أَنْ يَقُولَ: فَلَنْ يُعِيدَنَا كَمَا بَدَأَنَا، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ يَقُولُ: اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا، وَأَنَا الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفُوًا أَحَدٌ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرا بندہ میری ہی تکذیب کرتا ہے حالانکہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہئے اور مجھے ہی برا بھلا کہتا ہے حالانکہ یہ اس کا حق نہیں تکذیب تو اس طرح کہ وہ کہتا ہے اللہ نے ہمیں جس طرح پیدا کیا ہے دوبارہ اس طرح کبھی پیدا نہیں کرے گا اور برا بھلا کہنا اس طرح کہ وہ کہتا ہے اللہ نے اولاد بنا رکھی ہے حالانکہ میں تو وہ صمد (بےنیاز) ہوں جس نے کسی کو جنا اور نہ اسے کسی نے جنم دیا اور نہ ہی کوئی میرا ہمسر ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8220]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 4975
حدیث نمبر: 8221
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْرِدُوا مِنَ الْحَرِّ فِي الصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے لہٰذا نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8221]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 533، م: 615
حدیث نمبر: 8222
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو حدث لاحق ہوجائے اللہ اس کی نماز قبول نہیں فرماتا یہاں تک کہ وضو کرلے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8222]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 135، م: 225
حدیث نمبر: 8223
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ، فَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَمْشُونَ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے پکارا جائے تو اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرو جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8223]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 908، م: 602
حدیث نمبر: 8224
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَضْحَكُ اللَّهُ لِرَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، كِلَاهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ"، قَالُوا: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" يَقْتُلُ هَذَا فَيَلِجُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى الْآخَرِ فَيَهْدِيهِ إِلَى الْإِسْلَامِ، ثُمَّ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُسْتَشْهَدُ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو ان دو آدمیوں پر ہنسی آتی ہے جن میں سے ایک نے دوسرے کو شہید کردیا ہو لیکن پھر دونوں ہی جنت میں داخل ہوجائیں لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کس طرح؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی تو شہید ہو کر جنت میں داخل ہوگیا پھر اللہ نے دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر اسے بھی اسلام کی طرف ہدایت دے دی اور وہ بھی اللہ کے راستہ میں جہاد کر کے شہید ہوجائے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8224]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2826، م: 1890
حدیث نمبر: 8225
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَبِعْ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع نہ کرے اور کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیج دے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8225]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2140، م: 1413