🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8236
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِالْمُؤْمِنِينَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَأَيُّكُمْ مَا تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَادْعُونِي، فَأَنَا وَلِيُّهُ، وَأَيُّكُمْ مَا تَرَكَ مَالًا فَلْيَرِثْ مَالَهُ عُصْبَتُهُ مَنْ كَانَ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں کتاب اللہ کے مطابق تمام مسلمانوں پر ان کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں لہٰذا تم میں سے جو شخص قرض یا بچے چھوڑ کر جائے اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے اور جو شخص مال چھوڑ کر جائے وہ اس کے ورثاء کا ہے خواہ وہ کوئی بھی ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8236]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6731، م: 1619
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8237
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ، وَارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ، وَارْزُقْنِي، لِيَعْزِمْ الْمَسْأَلَةَ، إِنَّهُ يَفْعَلُ مَا شَاءَ لَا مُكْرِهَ لَهُ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص جب دعا کرے تو یوں نہ کہا کرے کہ اے اللہ اگر تو چاہے تو مجھے معاف فرما دے مجھ پر رحم فرما دے یا مجھے رزق دے دے بلکہ پختگی اور یقین کے ساتھ دعا کرے کیونکہ اللہ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8237]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7477، م: 2679
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8238
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، فَقَالَ لِقَوْمِهِ: لَا يَتَّبِعْنِي رَجُلٌ قَدْ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا وَلَمَّا يَبْنِ، وَلَا أَحَدٌ قَدْ بَنَى بُنْيَانًا وَلَمَّا يَرْفَعْ سُقُفَهَا، وَلَا أَحَدٌ قَدْ اشْتَرَى غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَهُوَ يَنْتَظِرُ أَوْلَادَهَا. فَغَزَا فَدَنَا مِنَ الْقَرْيَةِ حِينَ صَلَاةِ الْعَصْرِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لِلشَّمْسِ: أَنْتِ مَأْمُورَةٌ وَأَنَا مَأْمُورٌ، اللَّهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيَّ شَيْئًا، فَحُبِسَتْ عَلَيْهِ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَجَمَعُوا مَا غَنِمُوا، فَأَقْبَلَتْ النَّارُ لِتَأْكُلَهُ، فَأَبَتْ أَنْ تَطْعَمَ، فَقَالَ: فِيكُمْ غُلُولٌ، فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ، فَبَايَعُوهُ، فَلَصِقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيَدِهِ، فَقَالَ: فِيكُمْ الْغُلُولُ، فَلْتُبَايِعْنِي قَبِيلَتُكَ، قال: فَبَايَعَتْهُ قَبِيلَتُهُ، فَلَصِقَ بِيَدِ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ بِيَدِهِ، فَقَالَ: فِيكُمْ الْغُلُولُ، أَنْتُمْ غَلَلْتُمْ، فَأَخْرَجُوا لَهُ مِثْلَ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: فَوَضَعُوهُ فِي الْمَالِ وَهُوَ بِالصَّعِيدِ، فَأَقْبَلَتْ النَّارُ فَأَكَلَتْهُ، فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ مِنْ قَبْلِنَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا، فَطَيَّبَهَا لَنَا" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک نبی جہاد کے لئے روانہ ہوئے انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ میرے ساتھ وہ آدمی نہ جائے جس نے کسی عورت سے نکاح کیا ہو ابھی تک رخصتی نہ ہوئی ہو اور وہ اب رخصتی چاہتا ہو یا وہ آدمی جس نے کوئی عمارت تعمیر کی ہو مگر ابھی تک اس کی چھت نہ ڈالی ہو یا وہ آدمی جس نے بکریاں یا امید کی اونٹنیاں خریدی ہو اور وہ ان کے یہاں بچے پیدا ہونے کے منتظر ہو یہ کہہ کر وہ روانہ ہوئے اور نماز عصر کے وقت یا اس کے قریب قریب اس بستی میں پہنچے (جہاں انہوں نے دشمن سے جنگ کرنا تھی) انہوں نے سورج سے کہا کہ تو بھی اللہ کے حکم کا پابند ہے اور میں بھی اللہ کے حکم کا پابند ہوں اے اللہ اسے کچھ دیر کے لئے اپنی جگہ پر محبوس فرما دے چنانچہ سورج اپنی جگہ ٹھہرا رہا یہاں تک کہ اللہ نے انہیں فتح سے ہمکنار کردیا انہوں نے مال غنیمت اکٹھا کیا آگ اسے جلانے کے لئے آئی لیکن اسے جلایا نہیں پیغمبر وقت نے فرمایا تم میں سے کسی نے مال غنیمت میں خیانت کی ہے اس لئے ہر قبیلے کا ایک ایک آدمی آ کر میرے ہاتھ پر بیعت کرے سب لوگوں نے بیعت کی تو ایک آدمی کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے ساتھ چپک گئے انہوں نے فرمایا کہ تم نے مال غنیمت میں خیانت کی ہے چنانچہ انہوں نے گائے کی سری کے برابر سونا نکالا اور اسے مال غنیمت میں ڈال دیا جو ایک چبوترے پر جمع تھا آگ آئی اور اسے کھا گئی ہم سے پہلے کسی کے لئے مال غنیمت کو استعمال کرنا حلال نہ تھا یہ تو اللہ نے ہماری کمزوری اور عاجزی دیکھی تو ہمارے لئے اسے حلال کردیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8238]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3124، م: 1747
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8239
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَيْتُ أَنِّي أَنْزِعُ عَلَى حَوْضِي أَسْقِي النَّاسَ، فَأَتَانِي أَبُو بَكْرٍ، فَأَخَذَ الدَّلْوَ مِنْ يَدِي لِيُرِفَّهُ، حَتَّى نَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ، وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ، قَالَ: فَأَتَانِي ابْنُ الْخَطَّابِ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، فَأَخَذَهَا مِنِّي، فَلَمْ يَنْزِعْ رَجُلٌ حَتَّى تَوَلَّى النَّاسُ، وَالْحَوْضُ يَتَفَجَّرُ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں سو رہا تھا خواب میں میں نے دیکھا کہ میں اپنے حوض پر ڈول کھینچ کر لوگوں کو پانی پلا رہا ہوں پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور مجھے راحت پہنچانے کے لئے میرے ہاتھ سے ڈول لے لیا اور دو ڈول کھینچے لیکن اس میں کچھ کمزوری کے آثار تھے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اللہ ان کی مغفرت فرمائے انہوں نے وہ ڈول لیا ان کے بعد کسی آدمی کو ڈول کھینچنے کی نوبت نہیں آئی یہاں تک کہ لوگ سیراب ہو کر چلے گئے اور حوض میں سے پانی ابھی بھی ابل رہا تھا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8239]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7022، م: 2392
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8240
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا خُوزَ وَكِرْمَانَ، قَوْمًا مِنَ الْأَعَاجِمِ حُمْرَ الْوُجُوهِ، فُطْسَ الْأُنُوفِ، صِغَارَ الْأَعْيُنِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم خوز اور کرمان جو عجمیوں کی ایک قوم ہے سے جنگ نہ کرلو ان کے چہرے سرخ ناکیں چپٹی ہوئی آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی اور ان کے چہرے چپٹی ہوئی کمان کی مانند ہوں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8240]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3590، م: 2912
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8241
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا أَقْوَامًا نِعَالُهُمْ الشَّعْرُ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم ایسی قوم سے قتال نہ کرو جن کی جوتیاں بالوں سے بنی ہوں گی [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8241]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8242
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخُيَلَاءُ وَالْفَخْرُ فِي أَهْلِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ، وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تکبر اور فخر گھوڑے اور اونٹ والوں میں ہوتا ہے اور سکون و اطمینان بکری والوں میں ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8242]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8243
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الشَّأْنِ، مُسْلِمُهُمْ تَبَعٌ لِمُسْلِمِهِمْ، وَكَافِرُهُمْ تَبَعٌ لِكَافِرِهِمْ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس دین کے معاملے میں تمام لوگ قریش کے تابع ہیں عام مسلمان قریشی مسلمانوں اور عام کافر قریشی کافروں کے تابع ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8243]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3495، م: 1818
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8244
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ، صالحُ نِسَاءُ قُرَيْشٍ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ، وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اونٹ پر سواری کرنے والی عورتوں میں سب سے بہترین عورتیں قریش کی ہیں جو بچپن میں اپنی اولاد پر شفیق اور اپنے شوہر کی اپنی ذات میں سب سے بڑی محافظ ہوتی ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8244]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5082، م: 2527
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8245
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعَيْنُ حَقٌّ"، وَنَهَى عَنِ الْوَشْمِ .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نظر لگنا برحق ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جسم گدوانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8245]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5740، م: 2187
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں