مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 8256
وَبِإِسْنَادِه، وَبِإِسْنَادِه، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَال: " لَيَنْتَهِيَنَّ رِجَالٌ مِنْ حَوْلِ الْمَسْجِدِ لَا يَشْهَدُونَ الْعِشَاَء، أَوْ لَّا حَرِّقَنَّ حَوْلَ بُيُوتِهِمْ بِحُزَمِ الْحَطَب" .
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد کے ارد گرد رہنے والے جو لوگ نماز عشاء میں نہیں آتے وہ نماز ترک کرنے سے باز آجائیں ورنہ میں ان کے گھروں کے پاس لکڑیوں کے گٹھے جمع کر کے انہیں آگ لگا دوں گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8256]
الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2420، م: 651
حدیث نمبر: 8257
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الَّأَسْوَدِ بْنِ الََْعَلَاءِ الثَّقَفِيّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَال: " مِنْ حِينِ يَخْرُجُ أَحَدُكُمْ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى مَسْجِدِهِ فَرِجْلٌ تَكْتُبُ حَسَنَةً، وَالْأُخْرَى تَمْحُو سَيِّئَة" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص اپنے گھر سے میری مسجد کے لئے نکلے تو اس کے ایک قدم پر نیکی لکھی جاتی ہے اور دوسرا قدم اس کے گناہ مٹاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8257]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 477، م: 666
حدیث نمبر: 8258
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ يَعْنِي الزَّيَّاتَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ اْلأَغَرِّ أَبِي مُسْلِم ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، وأبي سعيدٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَال:" فَيُنَادِي مَعَ ذَلِك: إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا , وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلاَ تَسْقَمُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشُبُّوا فَلاَ تَهْرَمُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا" قَال: َيَتَنَادَوْنَ بِهَذِهِ الْأَرْبَعَةِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اہل جنت میں یہ منادی کردی جائے گی کہ تم زندہ رہو گے کبھی نہ مرو گے ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہو گے ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے کبھی غم نہ دیکھو گے یہ چار انعامات منادی کر کے سنائیں جائیں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8258]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8259
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، وَقَالَ لَنَا: وَاللَّهِ مَا خَلَقَ اللَّهُ مُؤْمِنًا يَسْمَعُ بِي ولَا يَرَانِي إِلَا أَحَبَّنِي، قُلْت: وَمَا عِلْمُكَ بِذَلِكَ يَا أَبَا هُرَيْرَة؟ قَالََ: إِنَّ أُمِّي كَانَتْ امْرَأَةً مُشْرِكَة، وَإِنِّي كُنْتُ أَدْعُوهَا إِلَى الَّأْسْلام، وَكَانَتْ تَأْبَى عَلَيَّ، فَدَعَوْتُهَا يَوْمًا، فَأَسْمَعَتْنِي فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَكْرَهُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَى الْإسْلام، وَكَانَتْ تَأْبَى عَلَيّ، وَإِنِّي دَعَوْتُهَا الْيَوْمَ فَأَسْمَعَتْنِي فِيكَ مَا أَكْرَهُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَهْدِيَ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ اهْدِ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ". فَخَرَجْتُ أَعْدُو أُبَشِّرُهَا بِدُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَتَيْتُ الْبَابَ إِذَا هُوَ مُجَافٍ، وَسَمِعْتُ خَضْخَضَةَ الْمَاءِ، وَسَمِعْتُ خَشْفَ رِجْلٍ يَعْنِي وَقْعَهَا، فَقَالَتْ: يَا أَبَا هُرَيْرَة، كَمَا أَنْتَ، ثُمَّ فَتَحَتْ الْبَابَ وَقَدْ لَبِسَتْ دِرْعَهَا وَعَجِلَتْ عَنْ خِمَارِهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْكِي مِنَ الْفَرَحِ كَمَا بَكَيْتُ مِنَ الْحُزْنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَبْشِرْ، فَقَدْ اسْتَجَابَ اللَّهُ دُعَاءَكَ، وَقَدْ هَدَى أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُحَبِّبَنِي أَنَا وَأُمِّي إِلَى عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ وَيُحَبِّبُهُمْ إِلَيْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ حَبِّبْ عُبَيْدَكَ هَذَا وَأُمَّهُ إِلَى عِبَادِكَ الْمُؤْمِنِينَ وَحَبِّبْهُمْ إِلَيْهِمَا"، فَمَا خَلَقَ اللَّهُ مُؤْمِنًا يَسْمَعُ بِي ولَا يَرَانِي، أَوْ يَرَى أُمِّي إِلّا وَهُوَ يُحِبُّنِي .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ واللہ اللہ جس مومن کو پیدا کرتا ہے اور وہ میرے متعلق سنتا ہے یا مجھے دیکھتا ہے تو مجھ سے محبت کرنے لگتا ہے راوی نے پوچھا کہ اے ابوہریرہ آپ کو اس کا علم کیسے ہوا؟ فرمایا دراصل میری والدہ مشرک عورت تھیں میں انہیں اسلام کی طرف دعوت دیتا تھا لیکن وہ ہمیشہ انکار کردیتی تھیں ایک دن میں نے انہیں دعوت دی تو میرے کانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایسی بات سننا پڑی جو مجھے ناگوار گذری میں روتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یارسول اللہ میں اپنی والدہ کو اسلام کی طرف دعوت دیتا تھا اور وہ ہمیشہ انکار کردیتی تھیں آج میں نے انہیں دعوت دی تو میرے کانوں کو آپ کے متعلق ایسی بات سننا پڑی جو مجھے ناگوار گذری آپ اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ماں کو ہدایت عطاء فرما دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرما دی کہ اے اللہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ماں کو ہدایت عطاء فرما میں دوڑتا ہوا نکلا تاکہ اپنی والدہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی بشارت دوں جب میں گھر کے دروازے پر پہنچا تو وہ اندر سے بند تھا مجھے پانی گرنے کی آواز آئی اور پاؤں کی آہٹ محسوس ہوئی والدہ نے اندر سے کہا کہ ابوہریرہ تھوڑی دیر رکے رہوتھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا تو وہ اپنی قمیض پہن چکی تھیں اور جلدی سے دوپٹہ اوڑھ لیا تھا مجھے دیکھتے ہی کہنے لگیں انی اشہد ان لا الہ الا اللہ و ان محمدا عبدہ و رسولہ یہ سنتے ہی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوبارہ خوشی کے آنسو لئے حاضر ہوا جیسے پہلے غم کے مارے رو رہا تھا اور عرض کیا یا رسول اللہ! مبارک ہو اللہ نے آپ کی دعا قبول کرلی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ماں کو ہدایت نصیب فرما دی۔ پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ مومن بندوں کے دل میں میری اور میری والدہ کی محبت پیدا فرما دے اور ان کی محبت ان دونوں کے دلوں میں ڈال دے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرما دی کہ اے اللہ اپنے مومن بندوں کے دل میں اپنے اس بندے اور اس کی والدہ کی محبت پیدا فرما اور ان کی محبت ان کے دلوں میں پیدا فرما اس کے بعد اللہ نے جو مومن بھی پیدا کیا اور وہ میرے بارے سنتا یا مجھے دیکھتا ہے یا میری والدہ کو دیکھتا ہے تو وہ مجھ سے محبت کرنے لگتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8259]
الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2491
حدیث نمبر: 8260
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، وابن لهيعة ، قالا: حَدَّثَنَا أَبُو اْْلَأسْوَدِ يَتِيمُ عُرْوَةَ , أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَة هَلْ صَلَّيْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْخَوْف؟ فَقَالَ: أَبُو هُرَيْرَةَ : نَعَمْ، فَقَالَ: مَتَى؟ قَالَ: عَامَ غَزْوَةِ نَجْدٍ، " قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلاةِ الْعَصْرِ، وَقَامَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ، وَطَائِفَةٌ أُخْرَى مُقَابِلَةَ الْعَدُوِّ ظُهُورُهُمْ إِلَى الْقِبْلَةِ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرُوا جَمِيعًا الَّذِينَ مَعَهُ وَالَّذِينَ يُقَابِلُونَ الْعَدُوَّ، ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ رَكَعَتْ مَعَهُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيهِ، ثُمَّ سَجَدَ، وَسَجَدَتْ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيهِ، وَالآخَرُونَ قِيَامٌ مُقَابِلَةَ الْعَدُوّ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَامَتْ الطَّائِفَةُ الَّتِي مَعَهُ، فَذَهَبُوا إِلَى الْعَدُوِّ فَقَابَلُوهُمْ، وَأَقْبَلَتْ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابِلَةَ الْعَدُوِّ، فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ كَمَا هُوَ، ثُمَّ قَامُوا، فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً أُخْرَى، وَرَكَعُوا مَعَهُ، وَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَتْ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ تُقَابِلُ الْعَدُوَّ فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ وَمَنْ تَبِعَهُ، ثُمَّ كَانَ التَّسْلِيمُ، فَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمُوا جَمِيعًا، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ، وَلِكُلِّ رَجُلٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ" .
ایک مرتبہ مروان بن حکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! مروان نے پوچھا کب؟ انہوں نے فرمایا غزوہ نجد کے سال اور وہ اس طرح کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عصر کے لئے کھڑے ہوئے ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہوگیا اور دوسرا دشمن کے مد مقابل جس کی پشت قبلہ کی طرف تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور سب لوگوں نے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک تھے یا دشمن سے قتال کر رہے تھے۔ تکبیر کہی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکوع کیا پیچھے والے گروہ نے بھی رکوع کیا پھر سجدہ کیا تو پیچھے والے گروہ نے بھی سجدہ کیا دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ساتھ والا گروہ بھی کھڑا ہوگیا یہ لوگ دشمن سے جا کر لڑنے لگے اور دشمن کے مد مقابل جو گروہ لڑ رہا تھا وہ یہاں آگیا انہوں نے سب سے پہلے رکوع سجدہ کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہے جب وہ کھڑے ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکوع سجدہ کیا پھر دشمن کا مد مقابل گروہ بھی آگیا اور اس نے پہلے رکوع سجدہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر مقتدی بیٹھے رہے پھر سلام پھیر دیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو سب نے اکٹھے ہی سلام پھیر دیا اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی دو رکعتیں ہوئیں اور ہر گروہ کی بھی دو دو رکعتیں ہوئیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8260]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8261
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَن ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو هَانِئٍ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْغِفَارِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَة ، يَقُول: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتْبَعُ الْحَرِيرَ مِنَ الثِّيَابِ فَيَنْزِعُهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ریشمی کپڑوں کا پیچھا کرتے تھے اور انہیں اتار دیتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8261]
الحكم على الحديث:
صحيح، وإسناده قوي، خ: 6419
حدیث نمبر: 8262
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَن ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَتَتْ عَلَيْهِ سِتُّونَ سَنَةً، فَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَيْهِ فِي الْعُمُرِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو اللہ نے ساٹھ سال تک زندگی عطاء فرمائی ہو اللہ اس کا عذر پورا کردیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8262]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
حدیث نمبر: 8263
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَن ، حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ ، قال: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُول: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شَرُّ مَا فِي رَجُلٍ شُحٌّ هَالِعٌ، وَجُبْنٌ خَالِعٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انسان میں سب سے بدترین چیز بےصبرے پن کے ساتھ بخل اور حد سے زیادہ بزدل ہونا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8263]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8264
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَال: " مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ طِيبٌ فَلاَ يَرُدَّهُ، فَإِنَّهُ خَفِيفُ الْمَحْمَلِ، طَيِّبُ الرَّائِحَةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے سامنے خوشبو پیش کی جائے اسے وہ رد نہیں کرنی چاہئے کیونکہ اس کا بوجھ ہلکا اور مہک عمدہ ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8264]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2253
حدیث نمبر: 8265
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَة ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، قَال: كَتَبَ إِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُرْمُزْ مَوْلًى مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ يُذْكَر، َعنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَال: " مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَحَمَلَ مِنْ عُلُوِّهَا، وَحَمَلَ فِي قَبْرِهَا، وَقَعَدَ حَتَّى يُؤْذَنَ لَهُ، آبَ بِقِيرَاطَيْنِ مِنَ الَأجْرِ، كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی جنازہ کے ساتھ شریک ہو اسے کندھا دے قبر میں مٹی ڈالے اور دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہے اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا جن میں سے ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8265]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة عبدالله بن هرمز، وأما أصل الحديث فصحيح، انظر فى خ: 1325 و م: 945