🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8752
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَطْفِئُوا السُّرُجَ، وَأَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ، وَخَمِّرُوا الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کو سوتے وقت چراغ بجھا دیا کرو دروازے بند کردیا کرو اور کھانے پینے کی چیزیں ڈھانپ دیا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8752]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبى هريرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8753
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ یوں کہا کرو لا قوۃ الا باللہ۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8753]

الحكم على الحديث:
صحيح دون قوله: تحت العرش ، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8754
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ , عن أبيه ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ السَّنَةُ أَنْ لَا يَكُونَ مَطَرٌ، وَلَكِنَّ السَّنَةَ أَنْ تُمْطِرَ السَّمَاءُ وَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قحط سالی یہ نہیں ہے کہ بارشیں نہ ہوں قحط سالی یہ ہے کہ آسمان سے بارشیں تو خوب برسیں لیکن زمین سے پیداوار نہ نکلے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8754]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2904
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8755
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُحْشَرُ النَّاسُ ثَلَاثَةَ أَصْنَافٍ صِنْفًا مُشَاةً، وَصِنْفًا رُكْبَانًا، وَصِنْفًا عَلَى وُجُوهِهِمْ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ يَمْشُونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ؟ فَقَالَ:" إِنَّ الَّذِي أَمْشَاهُمْ عَلَى أَقْدَامِهِمْ، قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُمْ عَلَى وُجُوهِهِمْ، أَمَا إِنَّهُ يَتَّقُونَ بِكُلِّ حَدَبٍ وَشَوْكٍ" ، قَالَ عَفَّانُ:" يَتَّقُونَ بِوُجُوهِهِمْ كُلَّ حَدَبٍ وَشَوْكٍ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن تین اصناف کی صورت میں جمع ہوں گے ایک قسم پیدل چلنے والوں کی ہوگی ایک قسم سواروں کی ہوگی اور ایک قسم چہروں کے بل چلنے والوں کی ہوگی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! لوگ اپنے چہروں کے بل کیسے چلیں گے؟ فرمایا جو ذات انہیں پاؤں پر چلاتی ہے وہ انہیں چہروں کے بل چلانے پر بھی قاد رہے اس لئے انہیں ہر پھسلن اور کانٹے سے اپنے چہروں کو بچانا چاہئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8755]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على وجهالة أوس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8756
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَقْتَصُّ الْخَلْقُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ، حَتَّى الْجَمَّاءُ مِنَ الْقَرْنَاءِ، وَحَتَّى للذَّرَّةُ مِنَ الذَّرَّةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن مخلوقات کو ایک دوسرے سے قصاص دلایا جائے گا حتیٰ کہ بےسینگ بکری کو سینگ والی بکری سے اور چیونٹی کو چیونٹی سے بھی قصاص دلوایا جائے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8756]

الحكم على الحديث:
صحيح دون قوله: و حتى للذرة من الذرة ، وهذا إسناد حسن، م: 2582
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8757
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الصَّلْتِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " انْتَهَيْتُ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَنَظَرْتُ، فَإِذَا أَنَا فَوْقِي بِرَعْدٍ وَصَوَاعِقَ، ثُمَّ أَتَيْتُ عَلَى قَوْمٍ بُطُونُهُمْ كَالْبُيُوتِ، فِيهَا الْحَيَّاتُ، تُرَى مِنْ خَارِجِ بُطُونِهِمْ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ أَكَلَةُ الرِّبَا، فَلَمَّا نَزَلْتُ وَانْتَهَيْتُ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا، فَإِذَا أَنَا بِرَهْجٍ وَدُخَانٍ وَأَصْوَاتٍ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: الشَّيَاطِينُ يَحْرِفُونَ عَلَى أَعْيُنِ بَنِي آدَمَ أَنْ لَا يَتَفَكَّرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَوْلَا ذَلِكَ لَرَأَتْ الْعَجَائِبَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شب معراج کے موقع پر جب ہم ساتویں آسمان پر پہنچے تو میری نگاہ اوپر کو اٹھ گئی وہاں بادل کی گرج چمک اور کڑک تھی پھر میں ایسی قوم کے پاس پہنچا جن کے پیٹ کمروں کی طرح تھے جن میں سانپ وغیرہ ان کے پیٹ کے باہر سے نظر آرہے تھے میں نے پوچھا جبرائیل علیہ السلام یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ سود خور ہیں۔ پھر جب میں آسمان دنیا پر واپس آیا تو میری نگاہیں نیچے پڑگئیں وہاں چیخ و پکار، دھواں اور آوازیں سنائی دیں میں نے پوچھا جبرائیل یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ شیاطین ہیں جو بنی آدم کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں تاکہ وہ آسمان اور زمین کی شہنشاہی میں غور فکر نہ کرسکیں اگر ایسا نہ ہوتا تو لوگوں کو بڑے عجائبات نظر آتے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8757]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف على وجهالة الصلت
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8758
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْقِنْطَارُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفَ أُوقِيَّةٍ، كُلُّ أُوقِيَّةٍ خَيْرٌ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک قنطار میں بارہ ہزار اوقیہ ہوتے ہیں اور ہر اوقیہ زمین و آسمان کے درمیان کی تمام چیزوں سے بہتر ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8758]

الحكم على الحديث:
حديث مضطرب سندا ومتنا، فقد اختلف فى رفعه، ووقفه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8759
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: نَهَى أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پکنے سے پہلے پھل کی خریدو فروخت سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8759]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 1538، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمر بن راشد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8760
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَكَيمِ قَائِدُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَصَمُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَبِعَ جَنَازَةً، قَالَ: " انْبَسِطُوا بِهَا، وَلَا تَدِبُّوا دَبِيبَ الْيَهُودِ بِجَنَائِزِهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جنازے میں شرکت کرتے تو فرماتے کشادگی کے ساتھ چلو اس طرح مت چلو جیسے یہودی اپنے جنازوں کے ساتھ چلتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8760]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جداً، عبدالحكيم متروك
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8761
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مَرْيَمَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُلْكُ فِي قُرَيْشٍ، وَالْقَضَاءُ فِي الْأَنْصَارِ، وَالْأَذَانُ فِي الْحَبَشَةِ، وَالسُّرْعَةُ فِي الْيَمَن" وَقَالَ زَيْدٌ مَرَّةً يَحْفَظُهُ:" وَالْأَمَانَةُ فِي الْأَزْدِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حکومت کی صلاحیت قریش میں ہے عہدہ قضا کی صلاحیت انصار میں ہے اذان کی صلاحیت حبشہ میں ہے اور تیز رفتاری اہل یمن میں ہے (راوی حدیث زید نے ایک مرتبہ یہ بھی کہا کہ امانت اہل ازد میں ہے) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8761]

الحكم على الحديث:
رجاله رجال الصحيح، واختلف فى وقفه ورفعه والموقوف أصح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں