🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8742
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، إِذْ ذَاكَ وَنَحْنُ بِالْمَدِينَة، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَجِيءُ الْأَعْمَالُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَتَجِيءُ الصَّلَاةُ، فَتَقُولُ: يَا رَبِّ، أَنَا الصَّلَاةُ، فَيَقُولُ: إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ، فَتَجِيءُ الصَّدَقَةُ، فَتَقُولُ: يَا رَبِّ، أَنَا الصَّدَقَةُ، فَيَقُولُ: إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ، ثُمَّ يَجِيءُ الصِّيَامُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَنَا الصِّيَامُ، فَيَقُولُ: إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ، ثُمَّ تَجِيءُ الْأَعْمَالُ عَلَى ذَلِكَ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ، ثُمَّ يَجِيءُ الْإِسْلَامُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَأَنَا الْإِسْلَامُ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ، بِكَ الْيَوْمَ آخُذُ، وَبِكَ أُعْطِي" ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي كِتَابِهِ: وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ سورة آل عمران آية 85، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّ الْحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں یہ حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اعمال صالحہ بارگاہ الٰہی میں پیش ہوں گے چنانچہ نماز آکر کہے گی کہ پروردگار میں نماز ہوں ارشاد ہوگا کہ تو بھلائی پر ہے پھر زکوٰۃ آئے گی اور کہے گی کہ پروردگار میں زکوٰۃ ہوں ارشاد ہوگا کہ تو بھلائی پر ہے پھر روزہ آکر کہے گا کہ پروردگار میں روزہ ہوں ارشاد ہوگا کہ تو بھی بھلائی پر ہے اسی طرح سارے اعمال آتے جائیں گے اور اللہ فرماتے جائیں گے کہ تو بھلائی پر ہے پھر اسلام آئے گا اور کہے گا کہ پروردگار تو سلام ہے اور میں اسلام ہوں اللہ فرمائے گا کہ تو بھی بھلائی پر ہے آج میں تیری ہی وجہ سے مواخذہ کروں گا اور تیری ہی وجہ سے عطاء کروں گا ارشاد ربانی ہے جو شخص اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو تلاش کرتا ہے تو وہ اس کی جانب سے قبول نہ ہوگا اور وہ شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8742]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، عباد ضعيف، والحسن لم يسمع من أبى هريرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8743
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ مَوْلَى يَزِيدَ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يقوَلَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ إِنْ تُعْطِ الْفَضْلَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ، وَإِنْ تُمْسِكْهُ فَهُوَ شَرٌّ لَكَ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، وَلَا يَلُومُ اللَّهُ عَلَى الْكَفَافِ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ لَكَ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد نبوی منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے آدم اگر تو اپنی ضرورت سے زائد چیز کسی کو دے دے تو وہ تیرے حق میں بہتر ہے اور اگر اپنے پاس روک کر رکھے تو تیرے حق میں ہی برا ہے اور ان لوگوں سے ابتداء کر جو تیری ذمہ داری میں ہیں اور اللہ بقدر کفایت روکنے پر ملامت نہیں کرتا اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8743]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8744
وَبِإِسْنَادِهِ، وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: مُرْنِي بِأَمْرٍ، وَلَا تُكْثِرْ عَلَيَّ حَتَّى أَعْقِلَهُ، قَالَ: " لَا تَغْضَبْ" فَأَعَادَ عَلَيْهِ، قَالَ:" لَا تَغْضَبْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ مجھے کسی ایک بات پر عمل کرنے کا حکم دے دیجئے زیادہ باتوں کا نہیں تاکہ میں اسے اچھی طرح سمجھ جاؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غصہ نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8744]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6116
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8745
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ فَبَاعُوهَا، وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہودیوں پر اللہ کی لعنت ہو ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا لیکن وہ اسے بیچ کر اس کی قیمت کھانے لگے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8745]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2224، م: 1583
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8746
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي مِرَايَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تُصَلِّي الْمَلَائِكَةُ عَلَى نَائِحَةٍ، وَلَا عَلَى مُرِنَّةٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی نوحہ کرنے والی یا آہ بکاء کرنے والی عورت کے لئے فرشتے دعاء مغفرت نہیں کرتے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8746]

الحكم على الحديث:
إسناده قابل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8747
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَهُوَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بِنَاءُ الْجَنَّةِ لَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، وَلَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت کی عمارت میں ایک اینٹ سونے کی اور ایک اینٹ چاندی کی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8747]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، عمران متابع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8748
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الدُّعَاءِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک دعاء سے زیادہ کوئی چیز معزز نہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8748]

الحكم على الحديث:
إسناده قابل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8749
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ضَمْضَمُ بْنُ جَوْسٍ الْهِفَّانِيُّ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُول: ُسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلَانِ، أَحَدُهُمَا مُجْتَهِدٌ فِي الْعِبَادَةِ، وَالْآخَرُ مُسْرِفٌ عَلَى نَفْسِهِ، وَكَانَا مُتَآخِيَيْنِ، فَكَانَ الْمُجْتَهِدُ لَا يَزَالُ يَرَى عَلَى الْآخَرِ ذَنْبًا، فَيَقُولُ: وَيْحَكَ أَقْصِرْ، فَيَقُولُ: الْمُذْنِب خَلِّنِي وَرَبِّي" فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي عَامِرٍ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بنی اسرائیل میں دو آدمی تھے ان میں سے ایک بڑا عبادت گذار اور دوسرا بہت گناہ گار تھا دونوں میں بھائی چارہ تھا عبادت گذار جب بھی دوسرے شخص کو گناہ کرتے ہوئے دیکھتا تو اس سے کہتا کہ اس سے باز آجا لیکن وہ جواب دیتا کہ تو مجھے اور میرے رب کو چھوڑ دے۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8749]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن، عكرمة صدوق لكن قد روى أحاديث غرائب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8750
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَوْ آمَنَ عَشَرَةٌ مِنْ أَحْبَارِ الْيَهُودِ، آمَنُوا بِي كُلُّهُمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھ پر یہودیوں کے دس بڑے عالم ایمان لے آئیں تو روئے زمین کا ہر یہودی مجھ پر ایمان لے آئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8750]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 3941، م: 2793، أبو هلال وإن كان فيه ضعف، متابع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8751
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي أَبُو الْجُلَاسِ عُقْبَةُ بْنُ سَيَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ شَمَّاخٍ ، قَالَ: شَهِدْتُ مَرْوَانَ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ : كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْجِنَازَةِ؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: " اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّهَا، وَأَنْتَ خَلَقْتَهَا، وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا لِلْإِسْلَامِ، وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِسِرِّهَا وَعَلَانِيَتِهَا، جِئْنَا شُفَعَاءَ فَاغْفِرْ لَهَا" .
عثمان بن شماخ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان نے میری موجودگی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے نماز جنازہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سی دعاء پڑھتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ آپ ہی اس کے رب ہیں آپ ہی نے اسے پیدا کیا آپ ہی نے اسلام کی طرف اس کی رہنمائی فرمائی اور آپ ہی نے اس کی روح قبض فرمائی آپ اس کے پوشیدہ اور ظاہر سب کو جانتے ہیں ہم آپ کے پاس اس کے سفارشی بن کر آئے ہیں آپ اسے معاف فرما دیجئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8751]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، فيه ثلاث علل: اضطراب إسناده ، وجهالة بعض رواته ورواية بعضهم له موقوفا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں