مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 9847
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کچھ میں جانتاہوں اگر وہ تمہیں پتہ چل جائے تو تم آہ و بکاء کی کثرت کرنا شروع کردو اور ہنسنے میں کمی کردو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9847]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6485
حدیث نمبر: 9848
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الْمُتَوَفَّى عَلَيْهِ دَيْنٌ، فَيَسْأَلُ:" هَلْ تَرَكَ لِذَلِكَ مِنْ قَضَاءٍ؟". فَإِنْ قَالُوا: نَعَمْ، إِنَّهُ تَرَكَ وَفَاءً صَلَّى عَلَيْهِ، وَإِلَّا قَالَ لِلْمُسْلِمِينَ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ". فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْفُتُوحَ، قَامَ فَقَالَ: " أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَمَنْ تُوُفِّيَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَتَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی جنازہ لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے یہ سوال پوچھتے کہ اس شخص پر کوئی قرض ہے؟ اگر لوگ کہتے جی ہاں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے کہ اسے ادا کرنے کے لئے اس نے کچھ مال چھوڑا ہے؟ اگر لوگ کہتے جی ہاں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھا دیتے اور اگر وہ ناں میں جواب دیتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیتے کہ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی پڑھ لو پھر اللہ نے فتوحات کا دروازہ کھولا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرما دیا کہ میں مؤمنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں اس لئے جو شخص قرض چھوڑ کر جائے اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے اور جو شخص مال چھوڑ کر جائے وہ اس کے ورثاء کا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9848]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2298، م: 1619
حدیث نمبر: 9849
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا طِيَرَةَ , وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْفَأْلُ؟ قَالَ:" كَلِمَةٌ صَالِحَةٌ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے البتہ فال سب سے بہتر ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! فال سے کیا مراد ہے؟ فرمایا اچھا کلمہ جو تم میں سے کوئی سنے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9849]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5755، م: 2223
حدیث نمبر: 9850
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مار ہو یہودیوں پر کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9850]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 437، م: 530
حدیث نمبر: 9851
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، ثُمَّ يَقُولُ: وَهُوَ قَائِمٌ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا، وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے اور رکوع میں جاتے تو تکبیر کہتے اور جب رکوع سے اپنی کمر اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہتے اور کھڑے کھڑے ربنا لک الحمد کہتے پھر سجدے میں جاتے ہوئے سجدے سے سر اٹھاتے ہوئے دوبارہ سجدے میں جاتے ہوئے اور سر اٹھاتے ہوئے تکبیر کہتے تھے پھر ساری نماز میں اسی طرح کرتے تھے یہاں تک کہ نماز مکمل کرلیتے اسی طرح قعدہ کے بعدجب دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تب بھی تکبیر کہتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9851]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 789، م: 392
حدیث نمبر: 9852
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنِ ابْنِ دَارَّةَ مَوْلَى عُثْمَانَ، قَالَ: إِنَّا لَبِالْبَقِيعِ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ إِذْ سَمِعْنَاهُ يَقُولُ: أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ: فَتَدَاكَّ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَقَالُوا: إِيهٍ يَرْحَمُكَ اللَّهُ! قَالَ: يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِكُلِّ عَبْدٍ مُسْلِمٍ لَقِيَكَ يُؤْمِنُ بِي، لَا يُشْرِكُ بِكَ" .
ابن وارہ جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزادہ کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ ہم نے جنت البقیع میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ہم نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگوں میں اس چیز کو سب سے زیادہ جانتا ہوں کہ قیامت کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے کون بہرہ مند ہوگا لوگ ان پر جھک پڑے اور اصرار کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کی آپ پر رحمتیں نازل ہوں بیان کیجئے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے اے اللہ! ہر اس بندہ مسلم کی مغفرت فرما جو تجھ سے اس حال میں ملے کہ وہ مجھ پر ایمان رکھتا ہو اور تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9852]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 9853
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: أَوْ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ: " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چاند کو دیکھ کر روزہ رکھا کرو، چاند دیکھ کر عید منایا کرو، اگر چاند نظر نہ آئے اور آسمان پر ابر چھایا ہو تو تیس کی گنتی پوری کیا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9853]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1909، م: 1081
حدیث نمبر: 9854
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے ازار کو زمین پر کھینچتے ہوئے چلتا ہے اللہ اس پر نظر کرم نہیں فرماتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9854]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5788، م: 2087
حدیث نمبر: 9855
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ كَانَ يَتَعَوَّذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی عذاب جہنم سے، عذاب قبر سے اور مسیح دجال کے فتنہ سے پناہ مانگتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9855]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1377، م: 588
حدیث نمبر: 9856
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَيُذَادَنَّ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِي عَنِ الْحَوْضِ، كَمَا تُذَادُ الْغَرِيبَةُ مِنَ الْإِبِلِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے کچھ ساتھیوں کو میرے حوض سے اس طرح دور کیا جائے گا جیسے کسی اجنبی اونٹ کو اونٹوں سے دور کیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9856]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2367، م: 2302