🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9827
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ، أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ فِيهَا سُمٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " اجْمَعُوا لِي مَنْ كَانَ هَاهُنَا مِنَ الْيَهُودِ". فَجَمَعُوا لَهُ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي سَائِلُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَهَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْهُ؟". قَالُوا: نَعَمْ , يَا أَبَا الْقَاسِمِ. فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَبُوكُمْ؟". قَالُوا: أَبُونَا فُلَانٌ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" كَذَبْتُمْ، أَبُوكُمْ فُلَانٌ". قَالُوا: صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ. قَالَ لَهُمْ:" هَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيْءٍ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ؟". قَالُوا: نَعَمْ , يَا أَبَا الْقَاسِمِ، وَإِنْ كَذَبْنَاكَ عَرَفْتَ كَذِبَنَا كَمَا عَرَفْتَهُ فِي أَبِينَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" مَنْ أَهْلُ النَّارِ؟". قَالُوا: نَكُونُ فِيهَا يَسِيرًا، ثُمَّ تَخْلُفُونَنَا فِيهَا. فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَخْلُفُكُمْ فِيهَا أَبَدًا"، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ:" هَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيْءٍ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ؟". فَقَالُوا: نَعَمْ , يَا أَبَا الْقَاسِمِ. فَقَالَ:" هَلْ جَعَلْتُمْ فِي هَذِهِ الشَّاةِ سُمًّا؟". قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ:" فَمَا حَمَلَكُمْ عَلَى ذَلِكَ؟". قَالُوا: أَرَدْنَا إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا نَسْتَرِيحُ مِنْكَ، وَإِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ تَضُرَّكَ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خیبر فتح ہوگیا تو (یہودیوں کی طرف سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بکری ہدیہ کے طور پر بھیجی گئی جو در حقیقت زہر آلود تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چل گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں جتنے یہودی ہیں ان سب کو جمع کرو چنانچہ وہ لوگ اکٹھے ہوگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں کیا تم سچ بولوگے؟ انہوں نے کہا جی اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا باوا کون ہے؟ انہوں نے کہا فلاں آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جھوٹ بولتے ہو تمہارا باوا فلاں آدمی ہے انہوں نے کہا کہ آپ سچ کہتے ہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں تم سے کچھ پوچھوں تو کیا تم اس کا جواب صحیح دوگے؟ انہوں نے اقرار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے جھوٹ بولا تو آپ کو خود ہی پتہ چل جائے گا جیسے ہمارے باوا کے بارے آپ کو پتہ چل گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنمی کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ کچھ عرصے تک تو ہم اس میں رہیں گے اس کے بعد آپ کی امت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم کبھی بھی تمہارے پیچھے جہنم میں نہیں جائیں گے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں تم سے پوچھوں تو کیا تم اس کا صحیح جواب دوگے؟ انہوں نے اقرار کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا تھا؟ انہوں نے اقرار کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا کہ ہم یہ چاہتے تھے کہ اگر آپ (معاذاللہ) جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ سے چھٹکارا مل جائے گا اور اگر آپ سچے نبی ہیں تو یہ آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچائے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9827]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3169
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9828
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ نَبِيٌّ إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلَهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُهُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللَّهُ إِلَيَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کو کچھ نہ کچھ معجزات ضرور دئیے گئے جن پر لوگ ایمان لاتے رہے اور مجھے جو معجزہ دیا گیا ہے وہ اللہ کی وحی ہے جو وہ میری طرف بھیجتا ہے اور مجھے امید ہے کہ تمام انبیاء سے زیادہ قیامت کے دن میرے پیروکار ہوں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9828]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4981، م: 152
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9829
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَخِيهِ عَبَّادِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْأَرْبَعِ: مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ میں چار چیزوں سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دے ایسے دل سے جو خشیت اور خشوع سے خالی ہو ایسے نفس سے جو کبھی سیراب نہ ہو اور ایسی دعاء سے جو قبول نہ ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9829]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، عباد لم يرو عنه غير أخيه، وذكره ابن حبان والعجلي وأبن خلفون فى جملة الثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9830
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: لَيْثٌ قَالَ: حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ نُعَيْمٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ، أَنَّهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَوْقَ هَذَا الْمَسْجِدِ , فَقَرَأَ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ، فَسَجَدَ فِيهَا، وَقَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِيهَا" .
نعیم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس مسجد کے اوپر نماز پڑھی اس میں انہوں نے سورت انشقاق کی تلاوت کی اور آیت سجدہ پر پہنچ کر سجدہ تلاوت کیا فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہاں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9830]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 768، م: 578
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9831
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَيُونُسُ , قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا يُنَجِّي أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ"، فَقَالَ رَجُلٌ: وَلَا أَنْتَ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ:" وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ، وَلَكِنْ سَدِّدُوا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے البتہ تم سیدھی راہ اختیار کئے رہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9831]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9832
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا ہے کہ سوار اس کے سائے میں سو سال تک چل سکتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9832]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4881، م: 2826
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9833
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ لَهُ: " مَاذَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟". قَالَ: عِنْدِي يَا مُحَمَّدُ خَيْرٌ، إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ. فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ، قَالَ لَهُ:" مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟". قَالَ: مَا قُلْتُ لَكَ، إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ. فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْغَدِ , فَقَالَ:" مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟". فَقَالَ عِنْدِي مَا قُلْتُ لَكَ، إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" انْطَلِقُوا بِثُمَامَةَ". فَانْطَلَقُوا بِهِ إِلَى نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ، , فَاغْتَسَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ , فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ، أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، يَا مُحَمَّدُ وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى وَجْهٌ الْأَرْضِ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ وَجْهِكَ، فَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ كُلِّهَا إِلَيَّ، وَوَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ دِينٍ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ دِينِكَ، فَأَصْبَحَ دِينُكَ أَحَبَّ الْأَدْيَانِ إِلَيَّ، وَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ بَلَدٍ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ بَلَدِكَ، فَأَصْبَحَ بَلَدُكَ أَحَبَّ الْبِلَادِ إِلَيَّ، وَإِنَّ خَيْلَكَ أَخَذَتْنِي، وَإِنِّي أُرِيدُ الْعُمْرَةَ، فَمَاذَا تَرَى؟. فَبَشَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَمِرَ، فَلَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ قَالَ لَهُ قَائِلٌ: صَبَأْتَ؟ فَقَالَ: لَا، وَلَكِنْ أَسْلَمْتُ مَعَ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا وَاللَّهِ لَا يَأْتِيكُمْ مِنَ الْيَمَامَةِ حَبَّةُ حِنْطَةٍ، حَتَّى يَأْذَنَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک دستہ بھیجا مسلمانوں نے ثمامہ بن اثال نامی ایک شخص کو جو یمامہ کا سردار تھا معزز اور مالدار آدمی تھا گرفتار کر کے قید کرلیا جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گذرا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ ثمامہ کیا ارادہ ہے؟ اس نے کہا کہ اگر آپ مجھے قتل کردیں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کا خون قیمتی ہے اگر آپ مجھ پر احسان کریں گے تو ایک شکر گذار پر احسان کریں گے اور اگر آپ کو مال و دولت درکار ہو تو آپ کو وہ مل جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جب بھی اس کے پاس سے گذر ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مذکورہ بالا سوال کرتے اور وہ حسب سابق وہی جواب دے دیتا۔ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ثمامہ کو چھوڑ دو لوگ اس کی درخواست پر اسے انصار کے ایک کنوئیں کے پاس لے گئے اور اسے غسل دلوایا اور پھر اس نے کلمہ پڑھ لیا اور کہنے لگا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کل شام تک میری نگاہوں میں آپ کے چہرے سے زیادہ کوئی چہرہ ناپسندیدہ اور آپ کے دین سے زیادہ کوئی دین اور آپ کے شہر سے زیادہ کوئی شہر ناپسندیدہ نہ تھا اور اب آپ کا دین میری نگاہوں میں تمام ادیان سے زیادہ اور آپ کا مبارک چہرہ تمام چہروں سے زیادہ محبوب ہوگیا ہے آپ کے سواروں نے مجھے پکڑ لیا تھا حالانکہ میں عمرے کے ارادے سے جارہا تھا اب آپ کی کیا رائے ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خوشخبری دی اور عمرہ کرنے کی اجازت دے دی جب وہ مکہ مکرمہ پہنچے تو کسی نے ان سے کہا کہ کیا تم بھی بےدین ہوگئے ہو؟ انہوں نے کہا نہیں بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر مسلمان ہوگیا ہوں اور واللہ آج کے بعد یمامہ سے غلہ کا ایک دانہ بھی تمہارے پاس نہیں پہنچے گا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دے دیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9833]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 462، م: 1764
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9834
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَبَيْنَ خَالَةِ أَبِيهَا، وَالْمَرْأَةِ وَخَالَةِ أُمِّهَا، أَوْ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّةِ أَبِيهَا، أَوْ الْمَرْأَةِ وَعَمَّةِ أُمِّهَا، فَقَالَ: قَالَ قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا، وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا" . فَنَرَى خَالَةَ أُمِّهَا، وَعَمَّةَ أُمِّهَا، بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ، وَإِنْ كَانَ مِنَ الرَّضَاعِ يَكُونُ مِنْ ذَلِكَ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ.
امام زہری رحمہ اللہ سے کسی شخص نے پوچھا کہ کیا کوئی آدمی اپنے نکاح میں ایک عورت اور اس کے باپ کی خالہ کو یا اس کی ماں کی خالہ کو یا اس کے باپ کی پھوپھی کو یا اس کی پھوپھی کو جمع کرسکتا ہے؟ انہوں نے قبیصہ بن ذؤیب کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث سنائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت اور اس کی خالہ یا پھوپھی کو نکاح میں جمع کرنے کی ممانعت فرمائی ہے اور ہماری رائے یہ ہے کہ اس کی ماں کی خالہ اور پھوپھی بھی اسی زمرے میں آتی ہے اور رضاعت کا رشتہ ہو تو وہ بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9834]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9835
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَأْتُوهَا تَسْعَوْنَ، وَأْتُوهَا تَمْشُونَ , وَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کے لئے دوڑتے ہوئے مت آیا کرو بلکہ اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرو جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9835]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 908، م: 602
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9836
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ قَالَ لِصَبِيٍّ: تَعَالَ هَاكَ ثُمَّ لَمْ يُعْطِهِ، فَهِيَ كَذْبَةٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو بچے سے یوں کہے کہ ادھر آؤ یہ لے لو اور پھر اسے کچھ نہ دے تو یہ جھوٹ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9836]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں