🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9807
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں دن میں روزانہ سو مرتبہ توبہ استغفار کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9807]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6307
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9808
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " الْمَدِينَةُ مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، أَوْ آوَى مُحْدِثًا، أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوْلَاهُ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا" .
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ منورہ حرم ہے جو شخص اس میں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے یا اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کو اپنا آقا کہے اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے قیامت کے دن اللہ اس سے کوئی فرض یا نفلی عبادت قبول نہ کرے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9808]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1371
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9809
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ الْأَسْلَمِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ. فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَ مِنْ شِقِّهِ الْأَيْمَنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ. فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنْ شِقِّهِ الْأَيْسَرِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ. فَقَالَ لَهُ ذَلِكَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ: " انْطَلِقُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ"، وَقَالَ: فَانْطَلَقُوا بِهِ، فَلَمَّا مَسَّتْهُ الْحِجَارَةُ أَدْبَرَ وَاشْتَدَّ، فَاسْتَقْبَلَهُ رَجُلٌ فِي يَدِهِ لَحْيُ جَمَلٍ، فَضَرَبَهُ بِهِ، فَذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرَارُهُ حِينَ مَسَّتْهُ الْحِجَارَةُ , قَالَ:" فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ" .
گزشتہ سند سے ہی سے مروی ہے کہ حضرت ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے بدکاری کا گناہ سرزد ہوگیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر منہ پھیرلیا انہوں نے دائیں جانب سے آ کر یہی کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ پھیرلیا پھر بائیں جانب سے آ کر یہی عرض کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اعراض فرمایا لیکن جب چوتھی مرتبہ بھی انہوں نے اقرار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں لے جا کر ان پر حد رجم جاری کرو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ انہیں لے گئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ جب انہیں پتھر لگے تو وہ بھاگ رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر تم نے انہیں چھوڑ کیوں نہ دیا؟ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9809]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6815، م: 1691
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9810
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ، إِنَّ الْيَهُودَ , وَالنَّصَارَى يُؤَخِّرُونَ" .
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دین اس وقت تک غالب رہے گا جب تک لوگ روزہ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے کیونکہ یہودونصاری اسے وقت مقررہ سے بہت مؤخر کردیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9810]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: « إن اليهود والنصارى يؤخرون » ، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9811
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ أَوْ الْمُؤْمِنَةِ فِي جَسَدِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ، حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ" .
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان مرد و عورت پر جسمانی یا مالی یا اولاد کی طرف سے مستقل پریشانیاں آتی رہتی ہیں یہاں تک کہ جب وہ اللہ سے ملتا ہے تو اس کا گناہ بھی باقی نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9811]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9812
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مِنْبَرِي هَذَا عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ" .
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا یہ منبر جنت کے دروازوں میں سے کسی دروازے پر ہوگا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9812]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1196، م: 1391
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9813
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ يَعْنِي ابنَ عَمْرو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " غِفَارُ , وَأَسْلَمُ , وَمُزَيْنَةُ , وَمَنْ كَانَ مِنْ جُهَيْنَةَ، خَيْرٌ مِنَ الْحَيَّيْنِ الْحَلِيفَيْنِ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ , وَهَوَازِنَ وَتَمِيمٍ، فَإِنَّهُمْ أَهْلُ الْخَيْلِ وَالْوَبَرِ" .
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن قبیلہ اسلم، غفار اور مزینہ و جہینہ کا کچھ حصہ اللہ کے نزدیک بنو اسد، بنو غطفان و ہوازن اور تمیم سے بہتر ہوگا کیونکہ یہ لوگ گھوڑوں اور اونٹوں والے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9813]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3523، م: 2521
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9814
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنِ عَمْرو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ ضِيَاعًا فَإِلَيَّ" .
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مال چھوڑ کر جائے وہ اس کے ورثاء کا ہے اور جو شخص بچے چھوڑ کر جائے ان کی پرورش میرے ذمے ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9814]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6731، م: 1619
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9815
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً مَنْ يَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , فَيُقَالُ: لَكَ ذَلِكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ إِلَّا أَنَّهُ يُلَقيَّ، فَيُقَالُ لَهُ: كَذَا وَكَذَا، فَيُقَالُ: لَكَ ذَلِكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ" . فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" فَيُقَالُ: لَكَ ذَلِكَ , وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ".
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں سب سے کم درجے کا آدمی وہ ہوگا جو اللہ کے سامنے اپنی تمناؤں کا اظہار کرے گا تو اس سے کہا جائے گا کہ یہ اور اتنا ہی مزید تجھے دیا جاتا ہے اور اس کے دل میں ڈالا جائے گا کہ فلاں فلاں چیز بھی مانگ اور پھر یہ جملہ کہا جائے گا جبکہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق فرمایا کہ یہ اور اس سے دس گنا مزید تجھے دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9815]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6573، م: 182
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9816
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْتَجَّتِ النَّارُ وَالْجَنَّةُ، فَقَالَتِ النَّارُ: يَدْخُلُنِي الْجَبَّارُونَ وَالْمُتَكَبِّرُونَ. وَقَالَتِ الْجَنَّةُ: يَدْخُلُنِي الضُّعَفَاءُ وَالْمَسَاكِينُ. فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلنَّارِ: أَنْتِ عَذَابِي أَنْتَقِمُ بِكِ مِمَّنْ شِئْتُ. وَقَالَ لِلْجَنَّةِ: أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ شِئْتُ" .
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ جنت اور جہنم میں باہمی مباحثہ ہوا جنت کہنے لگی کہ مجھ میں صرف فقراء اور کم تر حیثیت کے لوگ داخل ہوں گے؟ اور جہنم کہنے لگی کہ مجھ میں صرف جابر اور متکبر لوگ داخل ہوں گے؟ اللہ نے جہنم سے فرمایا کہ تو میرا عذاب ہے میں جسے چاہوں گا تیرے ذریعے اسے سزا دوں گا اور جنت سے فرمایا کہ تو میری رحمت ہے میں جس پر چاہوں گا تیرے ذریعے رحم کروں گا [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9816]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 4849، م: 2846
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں