مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 9817
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا، يَمُرُّ عَلَيَّ ثَالِثَةٌ وَعِنْدِي مِنْهُ، فَأَجِدُ مَنْ يتَقْبَلُهُ مِنِّي، إِلَّا أَنْ أَرْصُدَهُ فِي دَيْنٍ يَكُونُ عَلَيَّ" .
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میرے پاس احد پہاڑ سونے کا بن کر آجائے تو مجھے اس میں خوشی ہوگی کہ اسے اللہ کے راستہ میں خرچ کردوں اور تین دن بھی مجھ پر نہ گذرنے پائیں کہ ایک دینار یا درہم بھی میرے پاس باقی نہ بچے سوائے اس چیز کے جو میں اپنے اوپر واجب الاداء قرض کی ادائیگی کے لئے روک لوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9817]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2389، م: 991
حدیث نمبر: 9818
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا دَجَّالًا، كُلُّهُمْ يَكْذِبُ عَلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تیس کذاب و دجال لوگ ظاہر ہوجائیں۔ جن میں سے ہر ایک اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9818]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3609، م: 157
حدیث نمبر: 9819
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بَاعًا بِبَاعٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، وَشِبْرًا بِشِبْرٍ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا فِي جُحْرِ ضَبٍّ لَدَخَلْتُمْ مَعَهُمْ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْيَهُودُ , وَالنَّصَارَى؟، قَالَ:" فَمَنْ إِذًا" .
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم گزشتہ امتوں کی پورے پورے ہاتھ گز اور بالشت کے تناسب سے ضرور پیروی کروگے حتیٰ کہ اگر وہ لوگ کسی گوہ کے سوراخ اور بل میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی ایسا ہی کروگے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس سے یہودونصاریٰ مراد ہیں؟ فرمایا تو پھر اور کون؟ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9819]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7319
حدیث نمبر: 9820
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَمَا أَنَا عَلَى بِئْرٍ أَسْقِي، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ، وَفِيهِمَا ضَعْفٌ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ فَنَزَعَ حَتَّى اسْتَحَالَتْ فِي يَدِهِ غَرْبًا، وَضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا يَفْرِي فَرْيَهُ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ خواب میں میں نے دیکھا کہ میں ایک حوض پر ڈول کھینچ کر لوگوں کو پانی پلا رہا ہوں پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور مجھے راحت پہنچانے کے لئے میرے ہاتھ سے ڈول لے لیا اور ایک دو ڈول کھینچے لیکن اس میں کچھ کمزروی کے آثار تھے اللہ ان پر رحم فرمائے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے انہوں نے وہ ڈول لیا اور وہ ڈول ان کے ہاتھ میں آ کر بڑا ڈول بن گیا لوگ اس سے سیراب ہوگئے اور میں نے عمر سے اچھا ڈول کھینچنے والا کوئی عبقری آدمی نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9820]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3664، م: 2392
حدیث نمبر: 9821
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ يَهُودِيٌّ بِسُوقِ الْمَدِينَةِ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ. قَالَ: فَلَطَمَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: تَقُولُ هَذَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا. قَالَ: فَأَتَى الْيَهُودِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِ إِلا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ سورة الزمر آية 68، قَالَ: " فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَإِذَا مُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَرَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلِي، أَمْ كَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَى اللَّهُ، وَمَنْ قَالَ أَنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى، فَقَدْ كَذَبَ" .
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ (ایک مرتبہ دو آدمیوں میں " جن میں سے ایک مسلمان اور دوسرا یہودی تھا " تلخ کلامی ہوگئی مسلمان نے اپنی بات پر قسم کھاتے ہوئے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہان والوں پر برگزیدہ کیا اور) یہودی نے قسم کھاتے ہوئے کہہ دیا کہ اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام جہان والوں پر برگزیدہ کیا اس پر مسلمان کو غصہ آیا اور اس یہودی کو ایک طمانچہ دے مارا اور اس سے کہا کہ تو یہ بات کہہ رہا ہے جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں اس یہودی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ عرض کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس دن صور پھونکا جائے گا تو زمین و آسمان کی تمام مخلوقات بیہوش ہوجائیں گی سوائے اس کے جسے اللہ چاہے پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو سب لوگ دیکھتے بھالتے کھڑے ہوجائیں گے سب سے پہلے مجھے افاقہ ہوگا میں اس وقت دیکھوں گا کہ موسیٰ نے عرش کے پائے کو پکڑ رکھا ہے مجھے معلوم نہیں کہ وہ بھی بیہوش ہونے والوں میں سے ہوں گے کہ انہیں مجھ سے قبل افاقہ ہوگیا یا ان لوگوں میں سے ہوں گے جہنیں اللہ نے مستثنیٰ قرار دیا ہے اور جو شخص یہ کہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام سے بہتر ہوں وہ جھوٹ بولتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9821]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2411، م: 2373
حدیث نمبر: 9822
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِذَا أَحَبَّ الْعَبْدُ لِقَائِي أَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ، وَإِذَا كَرِهَ الْعَبْدُ لِقَائِي كَرِهْتُ لِقَاءَهُ" . قَالَ: فَقِيلَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: مَا مِنَّا مِنْ أَحَدٍ، إِلَّا وَهُوَ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَيَفْظَعُ بِهِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِنَّهُ إِذَا كَانَ ذَلِكَ كَشَفَ له.
اور ارشاد باری تعالیٰ ہے جب میرا بندہ مجھ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے تو میں بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہوں اور جب وہ مجھ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے کسی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہم میں سے تو ہر شخص موت کو ناپسند کرتا اور اس سے گھبراتا ہے؟ انہوں نے فرمایا اس سے مراد وہ وقت ہے جب پردے ہٹا دیئے جائیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9822]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7504، م: 2685
حدیث نمبر: 9823
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ، بِنِصْفِ يَوْمٍ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ" .
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فقراء مومنین مالدار مسلمانوں کی نسبت پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9823]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9824
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ يعنِي ابْنِ عَمْرو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ خَلَقَ كَخَلْقِي، فَلْيَخْلُقُوا بَعُوضَةً , أَوْ لِيَخْلُقُوا ذَرَّةً" .
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو میری طرح تخلیق کرنے لگے ایسے لوگوں کو چاہئے کہ ایک ذرہ یا مچھر پیدا کرکے دکھائیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9824]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7559، م: 2111
حدیث نمبر: 9825
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ يعْنِي ابنَ حَسَّان ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا لَمْ تَجِدُوا إِلَّا مَرَابِضَ الْغَنَمِ، وَمَعَاطِنَ الْإِبِلِ، فَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلَا تُصَلُّوا فِي مَعَاطِنِ الْإِبِلِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں نماز پڑھنے کے لئے بکریوں اور اونٹوں کے باڑوں کے علاوہ کوئی جگہ نہ ملے تو بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لینا اونٹوں کے باڑے میں مت پڑھنا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9825]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9826
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ"، فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى جِئْنَا بَيْتَ الْمِدْرَاسِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَنَادَاهُمْ:" يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ، أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا". فَقَالُوا: قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ. قَالَ لهم رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ذَاكَ أُرِيدُ". ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ , فَقَالَ: " اعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَرْضِ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ، وَإِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مسجد نبوی میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور فرمایا یہودیوں کے پاس چلو چنانچہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے اور بیت المدراس " (یہودیوں کے ایک گرجے) میں پہنچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پہنچ کر انہیں تین مرتبہ دعوت دی اے گروہ یہود! اسلام قبول کرلو، سلامتی پا جاؤگے اور تینوں مرتبہ انہوں نے یہی جواب دیا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے اپنا پیغام پہنچا (کر اپناحق ادا کر) دیا آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو! کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے اور میں تمہیں اس علاقے سے جلا وطن کرنا چاہتا ہوں اس لئے تم میں سے جس کے پاس کوئی مال ہو وہ اسے پیچ لے ورنہ یاد رکھو! کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9826]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3167، م: 1765