مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 10214
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَرَوْحٌ , الْمَعْنَى , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ، فَهُوَ يَتْلُوهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ، فَسَمِعَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا لَيْتَنِي أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ هَذَا، فَعَمِلْتُ فِيهِ مِثْلَ مَا يَعْمَلُ فِيهِ هَذَا، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا، فَهُوَ يُهْلِكُهُ فِي الْحَقِّ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا لَيْتَنِي أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ هَذَا، فَعَمِلْتُ فِيهِ مِثْلَ مَا يَعْمَلُ فِيهِ هَذَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف دو آدمیوں پر ہی حسد کیا جاسکتا تھا ایک تو وہ آدمی جسے اللہ نے قرآن کی دولت عطاء فرما رکھی ہو اور وہ دن رات اس کی تلاوت میں مصروف رہتا ہو دوسرے آدمی کو پتہ چلے تو وہ کہے کہ کاش! مجھے بھی اس شخص کی طرح دولت نصیب ہوجائے اور میں بھی اسی کی طرح عمل کرنے لگوں اور دوسرا وہ آدمی جسم اللہ نے مال و دولت عطاء فرما رکھا ہو اور وہ اسے راہ حق میں خرچ کرتا رہتا ہو دوسرے آدمی کو پتہ چلے تو وہ کہے کہ کاش! مجھے بھی اس شخص کی طرح دولت نصیب ہوجائے اور میں بھی اسی کی طرح عمل کرنے لگوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10214]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5026
حدیث نمبر: 10215
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قََالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ أَبِي سَعِيدٍ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ"، فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10215]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، أنظر ما قبله
حدیث نمبر: 10216
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَزْنِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَالتَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس وقت کوئی شخص بدکاری کرتا ہے وہ مومن نہیں رہتا جس وقت کوئی شخص چوری کرتا ہے وہ مومن نہیں رہتا جس وقت کوئی شراب پیتا ہے وہ مومن نہیں رہتا اور توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10216]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6810، م: 57
حدیث نمبر: 10217
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَوْ جُعِلَ لِأَحَدِهِمْ أَوْ لِأَحَدِكُمْ مِرْمَاتَانِ حَسَنَتَانِ، أَوْ عَرْقٌ مِنْ شَاةٍ سَمِينَةٍ، لَأَتَوْهَا أَجْمَعُونَ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا يَعْنِي الْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ آتِيَ أَقْوَامًا يَتَخَلَّفُونَ عَنْهَا أَوْ عَنِ الصَّلَاةِ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کو یقین ہو اسے خوب موٹی تازی ہڈی یا دو عمدہ کھر ملیں گے تو وہ ضرور نماز میں میرے ساتھ (دوسری روایت کے مطابق نماز عشاء میں بھی) شرکت کرے میرا دل چاہتا ہے کہ ایک آدمی کو حکم دوں اور وہ نماز کھڑی کردے پھر ان لوگوں کے پاس جاؤں جو نماز باجماعت شرکت نہیں کرتے اور ان کے گھروں میں آگ لگا دوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10217]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 657، م: 651
حدیث نمبر: 10218
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا ابْنُ آدَمَ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، إِلَى سَبْعِ مِائَةِ حَسَنَةٍ" . يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " إِلَّا الصَّوْمَ هُوَ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ الطَّعَامَ مِنْ أَجْلِي، وَالشَّرَابَ مِنْ أَجْلِي، وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي، فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ" . " وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ حِينَ يُفْطِرُ، وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى رَبَّهُ . " وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ حِينَ يَخْلُفُ مِنَ الطَّعَامِ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن آدم کی ہر نیکی کو اس کے لئے دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے سوائے روزے کے (جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا روزہ دار میری وجہ سے اپنی خواہشات اور کھانے کو ترک کرتا ہے روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تب بھی وہ خوش ہوگا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10218]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10219
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قََالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا تَقَاطَعُوا , وَلَا تَبَاغَضُوا , وَلَا تَحَاسَدُوا , وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا إِخْوَانًا كَمَا أَمَرَكُمْ اللَّهُ"
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے سے بغض نہ کیا کرو دھوکہ اور حسد نہ کیا کرو اور بندگان اللہ آپس میں بھائی بھائی بن کر رہا کرو جیسا کہ اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10219]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2563
حدیث نمبر: 10220
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ . وَأَبُو أَحْمَدَ , قََالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا حَتَّى يَرِيَهُ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا"
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی آدمی کا پیٹ پیپ سے اتنا بھر جائے کہ وہ سیراب ہوجائے اس سے بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرپور ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10220]
الحكم على الحديث:
إسناداه صحيحان، خ: 6155، م: 2257
حدیث نمبر: 10221
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ" . " وَإِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ" ، قَالَ شُعْبَةُ : قَالَ سُلَيْمَانُ , وَحَدَّثَنِي أَبُو رَزِينٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ بِهِ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ عَلَيْهِ بُرْدَانِ، فَقُلْتُ: لِشُعْبَةَ مِثْلَ حَدِيثِهِ؟ فَقَالَ شُعْبَةُ: لَمْ أَسْمَعْهُ يَقُولُ مِثْلَهُ فِي الْكَلْبِ يَلَغُ فِي الْإِنَاءِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو ایک پاؤں میں جوتی اور دوسراپاؤں خالی لے کر نہ چلے (جوتیاں پہنے یا دونوں اتار دے)۔ اور جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ماردے تو چاہئے کہ اس برتن کو سات مرتبہ دھوئے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10221]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52
حدیث نمبر: 10222
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ، هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً، وَأَلْيَنُ قُلُوبًا، وَالْفِقْهُ يَمَانٍ، وَالْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ، وَالْخُيَلَاءُ وَالْكِبْرُ فِي أَصْحَابِ الْإِبِلِ، وَالسَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَصْحَابِ الشَّاءِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں یہ لوگ نرم دل ہیں اور ایمان حکمت اور فقہ اہل یمن میں بہت عمدہ ہے غروروتکبر اونٹوں کے مالکوں میں ہوتا ہے اور سکون و وقار بکریوں کے مالکوں میں ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10222]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52
حدیث نمبر: 10223
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا تَرَكَ غِنًى، أَنْ تَتَصَدَّقَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا أَفْضَلُ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو کچھ نہ کچھ مالداری چھوڑ دے (سارا مال خرچ نہ کردے) اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقہ کرنے میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10223]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5355