مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 10591
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ، فِي الصَّلَاةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ امام کے بھول جانے پر سبحان اللہ کہنے کا حکم مرد مقتدیوں کے لئے ہے اور تالی بجانے کا حکم عورتوں کے لئے ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10591]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1203، م: 422
حدیث نمبر: 10592
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَنْبَأَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ فِي الْحَرِّ , فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّم" , أَوْ" مِنْ فَيْحِ أَبْوَابِ جَهَنَّمَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10592]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 533، م: 615
حدیث نمبر: 10593
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: كُنَّا عِنْدَهُ فَإِمَّا تَفَاخَرُوا، وَإِمَّا تَذَاكَرُوا، فَقَالَ: الرِّجَالُ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ مِنَ النِّسَاءِ , فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَوَلَمْ يَقُلْ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ مِنْ أُمَّتِي تَدْخُلُ الْجَنَّةَ , وُجُوهُهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ , وَالزُّمْرَةُ الثَّانِيَةُ عَلَى أَضْوَإِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ , لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ زَوْجَتانِ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ , يُرَى مُخُّ سُوقَيْهِمَا مِنْ وَرَاءِ الْحُلَلِ , وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ , مَا فِيهَا مِنْ أَعْزَبَ" .
محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگوں نے اس بات پر آپس میں جھگڑا کیا کہ جنت میں مردوں کی تعداد زیادہ ہوگی یا عورتوں کی؟ تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہنے لگے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگا وہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوئے چہروں والا ہوگا اس کے بعد داخل ہونے والا گروہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوگا ان میں سے ہر ایک کی دو دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلیوں کا گودا گوشت کے باہر سے نظر آجائے گا اور جنت میں کوئی شخص کنوارہ نہیں ہوگا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10593]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3254، م:2834
حدیث نمبر: 10594
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , قََالَ: قََالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " الْفَأْرُ مِمَّا مُسِخَ، وَسَأُنَبِّئُكُمْ بِآيَةِ ذَلِكَ إِذَا وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهَا لَبَنُ اللِّقَاحِ، لَمْ تُصِبْ مِنْهُ، وَإِذَا وُضِعَ لَبَنُ الْغَنَمِ"، قَالَ: فَقَالَ لَهُ كَعْبٌ: أَقَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ" أَفأُنْزِلَتْ عَلَيَّ التَّوْرَاةُ؟" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چوہا ایک مسخ شدہ قوم ہے اور اس کی علامت یہ ہے کہ اگر اس کے سامنے اونٹ کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے نہیں پیتا اور اگر بکری کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے پی لیتا ہے۔ کعب احبار رحمہ اللہ (جو نومسلم یہودی عالم تھے) کہنے لگے کہ کیا یہ حدیث آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ میں نے کہا کہ کیا مجھ پر تورات نازل ہوئی ہے؟ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10594]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3305، م: 2997
حدیث نمبر: 10595
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءٍ , غُسِلَ سَبْعَ مَرَّاتٍ , أَوَّلُهَا بِالتُّرَابِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ مار دے تو اسے چاہئے کہ اس برتن کو سات مرتبہ دھوئے اور پہلی مرتبہ مٹی سے مانجھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10595]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 172، م: 279
حدیث نمبر: 10596
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ: " مَنْ أَفْلَسَ بِمَالِ قَوْمٍ، فَرَأَى رَجُلٌ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس آدمی کو مفلس قرار دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10596]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2402، م: 1559، وسعيد بن أبى عروبة رواية یزید عنہ قبل اختلاط،ثم ھو متابع
حدیث نمبر: 10597
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ , أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ كَتَمَ عِلْمًا يَعْلَمُهُ، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَجَّمًا بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی جائے اور وہ اسے خواہ مخواہ ہی چھپائے تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10597]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لتدليس الحجاج، لكنه متابع
حدیث نمبر: 10598
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا الْبَرَاءُ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟"، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" الضُّعَفَاءُ الْمَظْلُومُونَ، قَالَ: أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟" , قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" كُلُّ شَدِيدٍ جَعْظَرِيٍّ هُمْ الَّذِينَ لَا يَأْلَمُونَ رُءُوسَهُمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں؟ جنتی کمزور اور مظلوم لوگ ہوں گے کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں؟ جہنمی ہر بیوقوف اور متکبر آدمی ہوگا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10598]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، دون قوله: «هم الذين لا يألمون رؤوسهم» ، وهذه زيادة منكرة، فقد تفرد بها البراء ، وهو ضعيف
حدیث نمبر: 10599
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ , عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَزَالُ نَفْسُ ابْنِ آدَمَ مُعَلَّقَةً بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کی جان اس وقت تک لٹکی رہتی ہے جب تک کہ اس پر قرض موجود ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10599]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد صحيح إن ثبت سماع سعد لهذا الحديث من أبى سلمة
حدیث نمبر: 10600
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ , عَنْ أَبِي رَافِعٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَرَجَ رَجُلٌ يَزُورُ أَخًا لَهُ فِي قَرْيَةٍ أُخْرَى , فَأَرْصَدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَدْرَجَتِهِ مَلَكًا , فَلَمَّا مَرَّ بِهِ , قَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ: أُرِيدُ فُلَانًا , قَالَ لِلْقَرَابَةِ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَلِنِعْمَةٍ لَهُ عِنْدَكَ تَرُبُّهَا؟ قَالَ: لَا , قَالَ: فَلِمَ تَأْتِيهِ , قَالَ: إِنِّي أُحِبُّهُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: فَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكَ , أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّكَ بِحُبِّكَ إِيَّاهُ فِيهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی اپنے دینی بھائی سے ملاقات کے لئے جو دوسری بستی میں رہتا تھا روانہ ہوا اللہ نے اس کے راستے میں ایک فرشتے کو بٹھا دیا جب وہ فرشتے کے پاس سے گذرا تو فرشتے نے اس سے پوچھا کہ تم کہاں جا رہے ہو؟ اس نے کہا کہ فلاں آدمی سے ملاقات کے لئے جارہاہوں فرشتے نے پوچھا کیا تم دونوں کے درمیان کوئی رشتہ داری ہے؟ اس نے کہا نہیں فرشتے نے پوچھا کہ کیا اس کا تم پر کوئی احسان ہے جسے تم پال رہے ہو؟ اس نے کہا نہیں فرشتے نے پوچھا پھر تم اس کے پاس کیوں جا رہے ہو؟ اس نے کہا کہ میں اس سے اللہ کی رضا کے لئے محبت کرتا ہوں فرشتے نے کہا کہ میں اللہ کے پاس سے تیری طرف قاصد بن کر آیا ہوں کہ اس کے ساتھ محبت کرنے کی وجہ سے اللہ تجھ سے محبت کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10600]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2567