🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10601
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ , عَنْ أَبِي رَافِعٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَهُ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10601]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10602
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10602]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10603
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: عَبْدِي أَمَتِي , وَلْيَقُلْ: فَتَايَ وَفَتَاتِي" , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے غلام کے متعلق یہ نہ کہے " عبدی، امتی " بلکہ یوں کہے میرا جوان میری جوان۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10603]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2552، م: 2249
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10604
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10604]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10605
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ , وَلَا يَسُومُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ , وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا , وَلَا عَلَى خَالَتِهَا , وَلَا تَسْأَلُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا، وَلْتَنْكِحْ , فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شہری کسی دیہاتی کے مال کو فروخت نہ کرے یا بیع میں دھوکہ نہ دے یا کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیج دے یا اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع نہ کرے اور کوئی عورت اپنی بہن (خواہ حقیقی ہو یا دینی) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے۔ کہ جو کچھ اس کے پیالے یا برتن میں ہے وہ بھی اپنے لئے سمیٹ لے بلکہ نکاح کرلے کیونکہ اس کا رزق بھی اللہ کے ذمے ہے [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10605]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5110، م: 1408
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10606
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَثَلُ الَّذِي يَسْمَعُ الْحِكْمَةَ، ثُمَّ لَا يُخْبِرُ عَنْ صَاحِبِهِ إِلَّا بِشَرِّ مَا سَمِعَ، كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى رَاعِيَ غَنَمٍ , فَقَالَ: أَجْزِرْنِي شَاةً مِنْ غَنَمِكَ , فَقَالَ: اخْتَرْ , فَأَخَذَ بِأُذُنِ كَلْبِ الْغَنَمِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کی مثال جو کسی مجلس میں شریک ہو اور وہاں حکمت کی باتیں سنے لیکن اپنے ساتھی کو اس میں سے چن چن کر غلط باتیں ہی سنائے اس شخص کی سی ہے جو کسی چرواہے کے پاس آئے اور اس سے کہا کہ اے چرواہے! اپنے ریوڑ میں سے ایک بکری میرے لئے ذبح کردے وہ اسے جواب دے کہ جا کر ان میں سے جو سب سے بہتر ہو اس کا کان پکڑ کرلے آؤ اور وہ جا کر ریوڑ کے کتے کا کان پکڑ کرلے آئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10606]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف على ولجهالة أوس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10607
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيُّ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: خَطَبَنَا , وَقَالَ مَرَّةً: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ , " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ فَرَضَ عَلَيْكُمْ الْحَجَّ فَحُجُّوا" , فَقَالَ رَجُلٌ: أَكُلَّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَسَكَتَ، حَتَّى قَالَهَا: ثَلَاثًا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ لَوَجَبَتْ , وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ" . ثُمَّ قَالَ: " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ , فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ , فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ , فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ , وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ , فَدَعُوهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا لوگو اللہ نے تم پر بیت اللہ کا حج فرض قرار دیا ہے لہٰذا اس کا حج کیا کرو ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہر سال؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سکوت فرمایا سائل نے اپنا سوال تین مرتبہ دہرایا اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں " ہاں " کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا اور تم میں اس کی ہمت نہ ہوتی پھر فرمایا جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں اس وقت تک تم بھی مجھے چھوڑے رکھو اس لئے کیونکہ تم سے پہلی امتیں بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء (علیہم السلام) سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئی تھیں میں تمہیں جس چیز سے روکوں اس سے رک جاو اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق پورا کرو۔ اور جب کسی چیز سے روکوں تو اسے چھوڑ دیا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10607]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7288، م:1737
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10608
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَاحَ , أَعَدَّ اللَّهُ لَهُ الْجَنَّةَ نُزُلًا كُلَّمَا غَدَا وَرَاحَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص صبح یا شام جس وقت بھی مسجد جاتا ہے اللہ اس کے لئے جنت میں مہمان نوازی کی تیاری کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10608]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7288، م: 1337
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10609
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَقْرَضَ مِنْ رَجُلٍ بَعِيرًا , فَجَاءَ يَتَقَاضَاهُ بَعِيرَهُ، فَقَالَ: " اطْلُبُوا لَهُ بَعِيرًا فَادْفَعُوهُ إِلَيْهِ"، فَلَمْ يَجِدُوا إِلَّا سِنًّا فَوْقَ سِنِّهِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ نَجِدْ إِلَّا سِنًّا فَوْقَ سِنِّ بَعِيرِهِ، فَقَالَ:" أَعْطُوهُ , فَإِنَّ خِيَارَكُمْ أَحَاسِنُكُمْ قَضَاءً" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ ایک دیہاتی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے اونٹ کا تقاضا کرنے کے لئے آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اس کے اونٹ جتنی عمر کا ایک اونٹ تلاش کرکے لے آؤ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تلاش کیا لیکن مطلوبہ عمر کا اونٹ نہ مل سکا ہر اونٹ اس سے بڑی عمر کا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسے بڑی عمر کا ہی اونٹ دے دو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے سب سے بہترین وہ ہے جو اداء قرض میں سب سے بہتر ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10609]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2305، م: 1601
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10610
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَرْفَعُ الدَّرَجَةَ لِلْعَبْدِ الصَّالِحِ فِي الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ , أَنَّى لِي هَذِهِ، فَيَقُولُ: بِاسْتِغْفَارِ وَلَدِكَ لَكَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ جنت میں ایک نیک آدمی کے درجات کو بلند کرتا ہے تو وہ پوچھتا ہے کہ پروردگار! میرے یہ درجات کہاں سے؟ اللہ فرمائے گا کہ تیرے حق میں تیری اولاد کے استغفار کی برکت سے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10610]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں