مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 10651
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ، وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ، وَلَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ كُرَاعٌ لَقَبِلْتُ، وَلَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص تم سے اللہ کے نام پر مانگے اسے دے دیا کرو اور جو تمہاری دعوت کرے اسے قبول کرلیا کرو اگر مجھے صرف ایک دستی کی دعوت دی جائے تو میں قبول کرلوں گا اور اگر ایک پائے کی دعوت دی جائے تب قبول کرلوں گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10651]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5178
حدیث نمبر: 10652
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ , أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ أَهْلِ النَّارِ يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ , فَيَقُولُ: لَوْ أَنَّ اللَّهَ هَدَانِي , فَيَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً" , قَالَ" وَكُلُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، فَيَقُولُ: لَوْلَا أَنَّ اللَّهَ هَدَانِي، قَالَ: فَيَكُونُ لَهُ شُكْرًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر جہنمی کو جنت میں اس کا متوقع ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے اور وہ تمنا کرتا ہے کہ کاش مجھے بھی اللہ نے ہدایت سے سرفراز کیا ہوتا اور وہ اس کے لئے باعث حسرت بن جاتا ہے اسی طرح ہر جنتی کو جہنم میں اس کا متوقع ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے اور وہ سوچتا ہے کہ اگر اللہ نے مجھے ہدایت نہ دی ہوتی تو میں یہاں ہوتا اور پھر وہ اس پر شکر کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10652]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6569
حدیث نمبر: 10653
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهِ , لَوْنُهُ لَوْنُ الدَّمِ , وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ" , قَالَ أَبِي , وَحَدَّثَنَاه عَنْ شَرِيكٍ أَيْضًا يَعْنِي أَسْوَدَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے راستے میں جس کسی شخص کو کوئی زخم لگتا ہے وہ قیامت کے دن اسی طرح تروتازہ ہوگا جیسے زخم لگنے کے دن تھا اس کا رنگ تو خون کی طرح ہوگا لیکن اس کی بو مشک کی طرح عمدہ ہوگی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10653]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 2803، م: 1876، إسناده الأول: صحيح، والثاني: ضعيف، شريك سيئ الحفظ، لكنه متابع
حدیث نمبر: 10654
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَدْخُلُ الْفُقَرَاءُ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ بِنِصْفِ يَوْمٍ، وَهُوَ خَمْسُ مِائَةِ عَامٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فقراء مومنین مالدار مسلمانوں کی نسبت پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10654]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10655
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , عَنْ دَاوُدَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: أَقْبَلَ سَعْدٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ فِي وَجْهِ سَعْدٍ لَخَبَرًا" , قَالَ: قُتِلَ كِسْرَى، قَالَ: يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَنَ اللَّهُ كِسْرَى، إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ هَلَاكًا الْعَرَبُ، ثُمَّ أَهْلُ فَارِسَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا کہ سعد کے چہرے میں خیروبرکت کے آثار ہیں پھر فرمایا کسریٰ قتل ہوگیا اللہ کسریٰ پر اپنی لعنت نازل فرمائے جو عرب کو پھر اہل فارس کو ہلاک کرنے والوں میں سب سے پہلا شخص ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10655]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف داود
حدیث نمبر: 10656
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُؤْتَى بِالْمَوْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَبْشًا، فَيُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، تَعْرِفُونَ هَذَا؟ فَيَطَّلِعُونَ خَائِفِينَ، قَالَ: فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، قَالَ: ثُمَّ يُنَادَ أَهْلُ النَّارِ: تَعْرِفُونَ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُذْبَحُ , ثُمَّ يُقَالُ: خُلُودٌ فِي الْجَنَّةِ , وَخُلُودٌ فِي النَّارِ" , حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , مِثْلَهُ , أَنَّهُ زَادَ فِيهِ:" يُؤْتَى عَلَى الصِّرَاطِ فَيُذْبَحُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن موت کو مینڈھے کی شکل میں لا کر پل صراط پر کھڑا کردیا جائے گا اور اہل جنت کو پکار کر بلایا جائے گا وہ خوفزدہ ہو کر جھانکیں گے کہ کہیں انہیں جنت سے نکال تو نہیں دیا جائے گا پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ جی ہاں! پھر اہل جہنم کو پکار کر آواز دی جائے گی کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے جی ہاں چنانچہ اللہ کے حکم پر اسے پل صراط پر ذبح کر دیا جائے گا اور دونوں گروہوں سے کہا جائے گا کہ تم جن حالات میں رہ رہے ہو۔ اس میں تم ہمیشہ ہمیش رہو گے [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10656]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10657
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ: أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ زَادَ فِيهِ: يُؤْتَى عَلَى الْصِّرَاطِ فَيُذْبَحُ»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10658
حَدَّثَنَا ابْنُ عَامِرٍ , أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ , عَنْ هِشَامٍ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى أَهْلِهِ , فَلَمَّا رَأَى مَا بِهِمْ مِنَ الْحَاجَةِ , خَرَجَ إِلَى الْبَرِّيَّةِ , فَلَمَّا رَأَتْ امْرَأَتُهُ قَامَتْ إِلَى الرَّحَى، فَوَضَعَتْهَا، وَإِلَى التَّنُّورِ فَسَجَرَتْهُ، ثُمَّ قَالَتْ: اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا فَنَظَرَتْ، فَإِذَا الْجَفْنَةُ قَدْ امْتَلَأَتْ، قََالَ: وَذَهَبَتْ إِلَى التَّنُّورِ فَوَجَدَتْهُ مُمْتَلِئًا، قََالَ: فَرَجَعَ الزَّوْجُ , قََالَ: أَصَبْتُمْ بَعْدِي شَيْئًا؟ قَالَتْ امْرَأَتُهُ: نَعَمْ مِنْ رَبِّنَا , قَامَ إِلَى الرَّحَى , فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَمَا إِنَّهُ لَوْ لَمْ يَرْفَعْهَا , لَمْ تَزَلْ تَدُورُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" ." شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: " وَاللَّهِ، لَأَنْ يَأْتِيَ أَحَدُكُمْ صَبِيرًا , ثُمَّ يَحْمِلَهُ يَبِيعَهُ فَيَسْتَعِفَّ مِنْهُ , خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْتِيَ رَجُلًا يَسْأَلُهُ" .
ایک آدمی اپنی بیوی کے پاس آیا اس نے اس پر پریشانی کے حالات دیکھے تو وہ جنگل کی طرف نکل گیا یہ دیکھ کر اس کی بیوی چکی کی طرف بڑھی اور اسے لا کر رکھا اور تنور کو دہکایا اور کہنے لگی کہ اے اللہ ہمیں رزق عطاء فرما اس نے دیکھا تو ہنڈیا بھر چکی تھی تنور کے پاس گئی تو وہ بھی بھرا ہوا تھا تھوڑی دیر میں اس کا شوہر واپس آگیا اور کہنے لگا کیا میرے بعد تمہیں کچھ حاصل ہوا ہے؟ اس کی بیوی نے کہا ہاں ہمارے رب کی طرف سے چنانچہ وہ اٹھ کرچکی کے پاس گیا اور اسے اٹھالیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ چکی اس کی جگہ سے نہ اٹھاتا تو وہ قیامت تک گھومتی ہی رہتی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری موجودگی میں فرمایا بخدا! یہ بات بہت بہتر ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی پہاڑ پر جائے لکڑیاں باندھے اور اپنی پیٹھ پر لاد کر اسے بیچے اور اس سے عفت حاصل کرے بہ نسبت اس کے کہ کسی آدمی کے پاس جا کر سوال کرے [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10658]
الحكم على الحديث:
صحيح، أنظر، خ: 1470، م: 1042
حدیث نمبر: 10659
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا كَامِلٌ , وَأَبُو الْمُنْذِرِ , حَدَّثَنَا كَامِلٌ أَبُو الْعَلَاءِ ، قََالَ أَسْوَدُ: قََالَ: أَخْبَرَنَا الْمَعْنَى , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، " فَإِذَا سَجَدَ وَثَبَ الْحَسَنُ , وَالْحُسَيْنُ عَلَى ظَهْرِهِ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ، أَخَذَهُمَا بِيَدِهِ مِنْ خَلْفِهِ أَخْذًا رَفِيقًا، وَيَضَعُهُمَا عَلَى الْأَرْضِ، فَإِذَا عَادَ عَادَا , حَتَّى إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ، أَقْعَدَهُمَا عَلَى فَخِذَيْهِ، قَالَ: فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَرُدُّهُمَا , فَبَرَقَتْ بَرْقَةٌ , فَقَالَ لَهُمَا:" الْحَقَا بِأُمِّكُمَا"، قَالَ: فَمَكَثَ ضَوْءُهَا حَتَّى دَخَلَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عشاء پڑھ رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدے میں گئے تو حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہ کود کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر چڑھ گئے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے سے سر اٹھایا تو انہیں اپنا ہاتھ پیچھے کرکے آہستہ سے پکڑ لیا اور انہیں زمین پر اتار دیا اور ساری نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی سجدے میں جاتے تو یہ دنوں ایساہی کرتے، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوگئے اور انہیں اپنی ران پر بٹھالیا میں کھڑا ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ان دونوں کو چھوڑ آؤں؟ اسی لمحے ایک روشنی کو ندی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا اپنی امی کے پاس چلے جاؤ او وہ روشنی اس وقت تک رہی جب تک وہ اپنے گھر میں داخل نہ ہو گئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10659]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 10660
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بِإِسْنَادِهِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ , قََالَ: حَتَّى دَخَلَا عَلَى أُمِّهِمَا.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10660]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن