مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 10661
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَسْلَمِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيُهِلَّنَّ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ بِفَجِّ الرَّوْحَاءِ بِالْحَجِّ أَوْ الْعُمْرَةِ، أَوْ لَيُثَنِّيَهُمَا جَمِيعًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا ضرور ہوگا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مقام فج الروحاء سے حج یا عمرہ یا دونوں کا احرام باندھیں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10661]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م:1252
حدیث نمبر: 10662
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ , وَحُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقَدَّمُوا قَبْلَ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ , إِلَّا رَجُلًا كَانَ يَصُومُ صِيَامًا فَيَصِلُهُ بِهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھا کرو البتہ اس شخص کو اجازت ہے جس کا معمول پہلے سے روزہ رکھنے کا ہو کہ اسے روزہ رکھ لینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10662]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1914، م: 1082
حدیث نمبر: 10663
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ ثَابِتٍ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ فِي سَفَرٍ , فَلَمَّا نَزَلُوا أَرْسَلُوا إِلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي , قََالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : صَدَقَ , وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ، وَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ" , فَقَدْ صُمْتُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ , فَأَنَا مُفْطِرٌ فِي تَخْفِيفِ اللَّهِ , صَائِمٌ فِي تَضْعِيفِ اللَّهِ.
ابوعثمان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سفر میں تھے لوگوں نے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کھانا کھانے کے لئے بلا بھیجا وہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے قاصد سے کہلا بھیجا کہ میں روزے سے ہوں چنانچہ لوگوں نے کھانا کھانا شروع کردیا جب وہ کھانے سے فارغ ہونے کے قریب ہوئے تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی آگئے اور کھانا شروع کردیا لوگ قاصد کی طرف دیکھنے لگے اس نے کہا مجھے کیوں گھورتے ہو انہوں نے خود ہی مجھ سے کہا تھا کہ میں روزے سے ہوں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ سچ کہہ رہا ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ماہ رمضان کے مکمل روزے اور ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیناپورے سال روزہ رکھنے کے برابر ہے چنانچہ میں ہر مہینے تین روزے رکھتا ہوں میں جب روزہ کھولتاہوں (نہیں رکھتا) تو اللہ کی تخفیف کے سائے تلے اور رکھتا ہوں تو اللہ کی تضعیف (ہر عمل کا بدلہ دگنا کرنے) کے سائے تلے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10663]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10664
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا صَالِحٌ , حَدَّثَنَا بْنُ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ يَطُوفُ فِي مِنًى أَنْ: " لَا تَصُومُوا هَذِهِ الْأَيَّامَ , فَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو منیٰ میں گھوم پھر کر یہ اعلان کرنے کے لئے بھیجا کہ ان ایام میں روزہ نہ رکھوایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10664]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح
حدیث نمبر: 10665
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا عَوْفٌ , وَهِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ , أَوْ شَرِبَ نَاسِيًا وَهُوَ صَائِمٌ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص روزہ رکھے اور بھولے سے کچھ کھا پی لے تو اسے اپنا روزہ پھر بھی پورا کرنا چاہئے کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا پلایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10665]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1933، م: 1155
حدیث نمبر: 10666
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ , وَالْإِمَامُ ضَامِنٌ , اللَّهُمَّ أَرْشِدْ الْأَئِمَّةَ , وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امانت دار اے اللہ اماموں کی رہنمائی فرما اور موذنین کی مغفرت فرما۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10666]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10667
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُنْبَذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور مزفت میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10667]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1993
حدیث نمبر: 10668
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , وَأَبُو النَّضْرِ , قَالَا: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ , عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنْ دُعَائِهِ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ , وَمَا أَخَّرْتُ , وَمَا أَسْرَرْتُ , وَمَا أَعْلَنْتُ , وَإِسْرَافِي , وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي , أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ , لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعاء فرمایا کرتے تھے اے اللہ میرے اگلے پچھلے پوشیدہ اور ظاہر سب گناہوں اور حد سے تجاوز کرنے کو معاف فرما اور ان گناہوں کو بھی معاف فرما جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے تو ہی آگے پیچھے کرنے والا ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10668]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10669
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ، إِمَّا مُسِيءٌ فَيَسْتَغْفِرُ، أَوْ مُحْسِنٌ فَيَزْدَادُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ اگر وہ نیکو کار ہے تو ہوسکتا ہے کہ اس کی نیکیوں میں اور اضافہ ہوجائے اور اگر وہ گناہگار ہے تو ہوسکتا ہے کہ توبہ کرلے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10669]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7235، م: 2682
حدیث نمبر: 10670
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَوْفٌ , عَنِ الْحَسَنِ , قََالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِائَةُ رَحْمَةٍ، وَإِنَّهُ قَسَمَ رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ أَهْلِ الْأَرْضِ، فَوَسِعَتْهُمْ إِلَى آجَالِهِمْ، وَذَخَرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ رَحْمَةً لِأَوْلِيَائِهِ، وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَابِضٌ تِلْكَ الرَّحْمَةَ الَّتِي قَسَمَهَا بَيْنَ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَى التِّسْعَةِ وَالتِّسْعِينَ فَيُكَمِّلُهَا مِائَةَ رَحْمَةٍ لِأَوْلِيَائِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" , قَالَ مُحَمَّدٌ فِي حَدِيثِهِ: وَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ , وَخِلَاسٌ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَ ذَلِكَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں جن میں سے اللہ نے تمام زمین والوں پر صرف ایک رحمت نازل فرمائی ہے اور باقی ننانوے رحمتیں اللہ نے اپنے اولیاء کے لئے رکھ چھوڑی ہیں پھر اللہ اس ایک رحمت کو بھی لے کر ان ننانوے رحمتوں کے ساتھ ملا دے گا اور قیامت کے دن اپنے اولیاء پر پوری سور حمتیں فرمائے گا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10670]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 2752، وله إسنادان، الأول: مرسل، والثاني: صحيح من جهة ابن سيرين، ومنقطع من خلاس فإنه لم يسمع من أبى هريرة