🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
219. حَدِيثُ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15911
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الرَّجُلِ يُوَاقِعُ جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ؟ قَالَ:" إِنْ أَكْرَهَهَا فَهِيَ حُرَّةٌ، وَلَهَا عَلَيْهِ مِثْلُهَا، وَإِنْ طَاوَعَتْهُ فَهِيَ أَمَتُهُ وَلَهَا عَلَيْهِ مِثْلُهَا".
سیدنا سلمہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کی باندی پر جا پڑے تو کیا حکم ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس نے اس باندی سے زبردستی یہ حرکت کی ہو تو وہ باندی آزاد ہو جائے گی اور مرد پر اس کے لئے مہر مثل لازم ہو گا اور اگر یہ کام اس کی رضامندی سے ہو تو وہ اس کی باندی ہی رہے گی البتہ مرد کو مہر مثل ادا کرنا پڑے گا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15911]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع من سلمة بن المحبق، ومبارك بن فضالة يدلس تدليس التسوية
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15912
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيِّ ثُمَّ النُّمَيْرِي قَالَ: حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي أَبَاهُ، قَالَ: سَمِعْتُ سِنَانَ بْنَ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ الْهُذَلِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ حَمُولَةٌ تَأْوِي إِلَى شِبَعٍ، فَلْيَصُمْ رَمَضَانَ حَيْثُ أَدْرَكَهُ".
سیدنا سلمہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص میں اتنی ہمت ہو کہ وہ بھوک کو برداشت کر سکے تو وہ جہاں بھی دوران سفر ماہ رمضان کو پالے اسے روزہ رکھ لینا چاہیے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15912]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة حال حبيب بن عبدالله، وعبد الصمد بن حبيب ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15913
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ النَّحَّازِ الْحَنَفِيِّ ، أَنَّ سِنَانَ بْنَ سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَر َبِلُحُومِ حُمُرِ النَّاسِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَهِيَ فِي الْقُدُورِ، فَأُكْفِئَتْ".
سیدنا سلمہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ہانڈیوں کو الٹادیا گیا اس میں پالتو گدھوں کا گوشت تھا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15913]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، النحاز الحنفي مجهول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
220. حَدِيثُ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15914
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ يَعْنِي النَّهْدِيَّ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَضْمَةٍ مِنْ جَبَلٍ، فَعَلَا أَعْلَاهَا، ثُمَّ نَادَى أَوْ قَالَ:" يَا آلَ عَبْدِ مَنَافَاهُ، إِنِّي نَذِيرٌ، إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ رَأَى الْعَدُوَّ"، فَانْطَلَقَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ يُنَادِي، أَوْ قَالَ:" يَهْتِفُ: يَا صَبَاحَاهْ". قَالَ أَبِي: قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ، أَوْ وَهْبِ بْنِ عَمْرٍو، وَهُوَ خَطَأٌ، إِنَّمَا هُوَ زُهَيْرُ بْنُ عَمْرٍو، فَلَمَّا أَخْطَأَ، تَرَكْتُ وَهْبَ بْنَ عَمْرٍو.
سیدنا قبیصہ بن مخارق سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت وانذر عشیرتک الخ نازل ہوئی آپ ایک پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے اور پکار کر فرمایا: اے آل عبدمناف ایک ڈرانے والے کی بات سنو میری اور تمہاری مثال اس شخص کی سی ہے جو دشمن کو دیکھ کر اپنے اہل علاقہ کو ڈرانے کے لئے نکل پڑے اور یاصباحا کی نداء لگانا شروع کر دے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15914]

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح، م: 207
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15915
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَوْفٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَيَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَطَنُ بْنُ قَبِيصَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْعِيَافَةُ وَالطِّيَرَةُ وَالطَّرْقُ مِنَ الْجِبْتِ". قَالَ: الْعِيَافَةُ مِنَ الزَّجْرِ، وَالطَّرْقُ مِنَ الْخَطِّ.
سیدنا قبیصہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پرندوں کو خوف زدہ کر کے اڑانا پرندوں سے شگون لینا اور زمین پر لکیریں کھینچنا بت پرستی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15915]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، حيان غير منسوب، ولم يرو عنه غير عوف، وهو مجهول
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15916
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ الْهِلَالِيِّ ، تَحَمَّلْتُ بِحَمَالَةٍ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فِيهَا، فَقَالَ:" نُؤَدِّهَا عَنْكَ وَنُخْرِجُهَا مِنْ نَعَمْ الصَّدَقَةِ" , وَقَالَ مَرَّةً:" وَنُخْرِجُهَا إِذَا جَاءَتْنَا الصَّدَقَةُ، أَوْ إِذَا جَاءَ نَعَمُ الصَّدَقَةِ"، وَقَالَ:" يَا قَبِيصَةُ، إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَصْلُحُ" , وَقَالَ مَرَّةً:" حُرِّمَتْ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ بِحَمَالَةٍ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُؤَدِّيَهَا ثُمَّ يُمْسِكَ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ حَاجَةٌ وَفَاقَةٌ حَتَّى يَشْهَدَ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ" , وَقَالَ مَرَّةً:" رَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ أَوْ حَاجَةٌ حَتَّى يَشْهَدَ لَهُ، أَوْ يَكَلَّمَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ أَنَّهُ قَدْ أَصَابَتْهُ حَاجَةٌ أَوْ فَاقَةٌ إِلَّا قَدْ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ، فَيَسْأَلُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكَ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ، فَيَسْأَلُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سَدَادًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكَ، وَمَا كَانَ سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْمَسْأَلَةِ سُحْتٌ".
سیدنا قبیصہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے کسی شخص کا قرض ادا کرنے کی ذمہ داری قبول کر لی اور اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تعاون کی درخواست لے کر حاضر ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم تمہاری طرف سے یہ قرض ادا کر یں گے اور صدقہ کے جانوروں سے اتنی مقدار نکال لیں گے پھر فرمایا: قبیصہ سوائے تین صورتوں کے کسی صورت میں مانگناجائز نہیں ہے ایک تو وہ آدمی جو کسی شخص کے قرض کا ضامن ہو جائے اس کے لئے مانگناجائز ہے یہاں تک کہ وہ قرض اس کا ادا کر دے پھر مانگنے سے باز آ جائے دوسرا وہ آدمی جو اتناضرورت مند ہو کہ فاقہ کا شکار ہو جائے کہ اس کی قوم کے تین قابل اعتماد آدمی اس کی ضرورت مندی یا فاقہ مستی کی گواہی دیں تو اس کے لئے بھی مانگناجائز ہے یہاں تک کہ اسے زندگی کا کوئی سہارا مل جائے تو مانگنے سے باز آ جائے اور تیسرا وہ آدمی جس پر کوئی ناگہانی آفت آ جائے اور اس کا سارامال تباہ و برباد ہو جائے تو اس کے لئے بھی مانگناجائز ہے یہاں تک کہ اسے زندگی کا کوئی سہارامل جائے تو وہ مانگنے سے باز آ جائے اس کے علاوہ کسی صورت میں سوال کرنا حرام ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15916]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م:1044
221. حَدِيثُ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15917
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِلْإِسْلَامِ مِنْ مُنْتَهَى؟ قَالَ:" أَيُّمَا أَهْلِ بَيْتٍ"، وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ، قَالَ:" نَعَمْ، أَيُّمَا أَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ أَوْ الْعُجْمِ أَرَادَ اللَّهُ بِهِمْ خَيْرًا، أَدْخَلَ عَلَيْهِمْ الْإِسْلَامَ" , قَالَ: ثُمَّ مَهْ , قَالَ:" ثُمَّ تَقَعُ الْفِتَنُ كَأَنَّهَا الظُّلَلُ"، قَالَ: كَلَّا وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ , قَالَ:" بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، ثُمَّ تَعُودُونَ فِيهَا أَسَاوِدَ صُبًّا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ". وَقَرَئ عَلَيَّ سُفْيَانُ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَسَاوِدَ صُبًّا؟ قَالَ سُفْيَانُ: الْحَيَّةُ السَّوْدَاءُ تُنْصَبُ، أَيْ: تَرْتَفِعُ.
سیدنا کر ز بن علقمہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا اسلام کی بھی کوئی انتہاء ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اللہ تعالیٰ عرب وعجم کے جس گھرانے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرمائے گا انہیں اسلام میں داخل کر دے گا راوی نے پوچھا کہ پھر کیا ہو گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد سائبانوں کی طرح فتنے چھانے لگیں گے سائل نے کہا ان شاء اللہ ایساہرگز نہ ہو گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے پھر تم کالے سانپوں کی طرح ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو گے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15917]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15918
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ: قَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِلْإِسْلَامِ مِنْ مُنْتَهَى؟ قَالَ:" نَعَمْ، أَيُّمَا أَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ أَوْ الْعُجْمِ أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِمْ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمْ الْإِسْلَامَ"، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" ثُمَّ تَقَعُ فِتَنٌ كَأَنَّهَا الظُّلَلُ" , فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: كَلَّا يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتَعُودُنَّ فِيهَا أَسَاوِدَ صُبًّا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ".
سیدنا کر ز بن علقمہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا اسلام کی بھی کوئی انتہاء ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اللہ تعالیٰ عرب وعجم کے جس گھرانے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرمائے گا انہیں اسلام میں داخل کر دے گا راوی نے پوچھا کہ پھر کیا ہو گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد سائبانوں کی طرح فتنے چھانے لگیں گے سائل نے کہا ان شاء اللہ ایساہرگز نہ ہو گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے پھر تم کالے سانپوں کی طرح ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو گے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15918]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15919
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ كُرْزٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِهَذَا الْأَمْرِ مِنْ مُنْتَهَى؟ قَالَ:" نَعَمْ، فَمَنْ أَرَادَ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا مِنْ أَعْجَمٍ أَوْ عُرْبٍ أَدْخَلَهُ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ تَقَعُ فِتَنٌ كَالظُّلَلِ، تَعُودُونَ فِيهَا أَسَاوِدَ صُبًّا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، وَأَفْضَلُ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ، مُؤْمِنٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ، يَتَّقِي رَبَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ".
سیدنا کر ز بن علقمہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا اسلام کی بھی کوئی انتہاء ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اللہ تعالیٰ عرب وعجم کے جس گھرانے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرمائے گا انہیں اسلام میں داخل کر دے گا راوی نے پوچھا کہ پھر کیا ہو گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد سائبانوں کی طرح فتنے چھانے لگیں گے سائل نے کہا ان شاء اللہ ایساہرگز نہ ہو گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے پھر تم کالے سانپوں کی طرح ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو گے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15919]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15919
قَالَ أَبِي: وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ الْقُرْقُسَانِيُّ بِمِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: كُرْزُ بْنُ حُبَيْشٍ الْخُزَاعِيُّ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15919]

WhatsApp