مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
227. حَدِيثُ جَرْهَدٍ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15930
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَرْهَدٍ الْأَسْلَمِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ جَرْهَدًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" فَخِذُ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ عَوْرَةٌ".
سیدنا جرہد سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کی ران ستر ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15930]
الحكم على الحديث:
حسن بشواهده دون لفظ المسلم ولعله من أغاليط زهير بن محمد التميمي، وهذا إسناد مضطرب جداً
حدیث نمبر: 15931
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ زُرْعَةَ بْنِ جَرْهَدٍ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ , قَالَ: جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى فَخِذِي مُنْكَشِفَةً، فَقَالَ:" خَمِّرْ عَلَيْكَ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ؟".
سیدنا جرید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ اپنی ران کھولے بیٹھے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ڈھانپ لو کیونکہ ران ستر ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15931]
الحكم على الحديث:
حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 15932
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَرْهَدٍ ، عَنْ جَرْهَدٍ جَدِّهِ , وَنَفَرٍ مِنْ أَسْلَمَ سِوَاهُ ذَوِي رِضًا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى جَرْهَدٍ، وَفَخِذُ جَرْهَدٍ مَكْشُوفَةٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا جَرْهَدُ غَطِّ فَخِذَكَ , فَإِنَّ يَا جَرْهَدُ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ".
سیدنا جرید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ اپنی ران کھولے بیٹھے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ڈھانپ لو کیونکہ ران ستر ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15932]
الحكم على الحديث:
حسن بشواهده ، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه ، وابن أبى الزناد تكلموا فى روايته عن أبيه
حدیث نمبر: 15933
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَرْهَدٍ ، عَنْ جَدِّهِ جَرْهَدٍ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ بُرْدَةٌ وَقَدْ انْكَشَفَتْ فَخِذِي، قَالَ:" غَطِّ فَإِنَّ الْفَخْذَ عَوْرَةٌ".
سیدنا جرید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ اپنی ران کھولے بیٹھے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ڈھانپ لو کیونکہ ران ستر ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15933]
الحكم على الحديث:
حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه
228. حَدِيثُ اللَّجْلَاجِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15934
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلَاثَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ اللَّجْلَاجِ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي السُّوقِ إِذْ مَرَّتْ امْرَأَةٌ تَحْمِلُ صَبِيًّا، فَثَارَ النَّاسُ وَثُرْتُ مَعَهُمْ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ لَهَا:" مَنْ أَبُو هَذَا؟" , فَسَكَتَتْ، فَقَالَ:" مَنْ أَبُو هَذَا؟" , فَسَكَتَتْ، فَقَالَ شَابٌّ بِحِذَائِهَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا حَدِيثَةُ السِّنِّ، حَدِيثَةُ عَهْدٍ بِجِزْيَةٍ، وَإِنَّهَا لَمْ تُخْبِرْكَ، وَأَنَا أَبُوهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَالْتَفَتَ إِلَى مَنْ عِنْدَهُ كَأَنَّهُ يَسْأَلُهُمْ عَنْهُ، فَقَالُوا: مَا عَلِمْنَا إِلَّا خَيْرًا أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَحْصَنْتَ؟" , قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ، فَذَهَبْنَا فَحَفَرْنَا لَهُ حَتَّى أَمْكَنَّا، وَرَمَيْنَاهُ بِالْحِجَارَةِ حَتَّى هَدَأَ، ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى مَجَالِسِنَا، فَبَيْنَمَا نَحْنُ كَذَلِكَ، إِذْ أَنَا بِشَيْخٍ يَسْأَلُ عَنِ الْفَتَى، فَقُمْنَا إِلَيْهِ، فَأَخَذْنَا بِتَلَابِيبِهِ، فَجِئْنَا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا جَاءَ يَسْأَلُ عَنِ الْخَبِيثِ! فَقَالَ:" مَهْ، لَهُوَ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ" , قَالَ: فَذَهَبْنَا فَأَعَنَّاهُ عَلَى غُسْلِهِ وَحَنُوطِهِ وَتَكْفِينِهِ، وَحَفَرْنَا لَهُ، وَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ الصَّلَاةَ أَمْ لَا.
سیدنا لجلاج سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ بازار میں تھے کہ ایک عورت اپنے بچے کو اٹھائے وہاں سے گزری تو لوگ اس عورت کے ساتھ بچہ دیکھ کر بھڑک اٹھے مجھے بھی غصہ آگیا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ اس سے پوچھ رہے تھے کہ اس بچے کا باپ کون ہے وہ خاموش رہی دوسری مرتبہ پوچھنے پر وہ خاموش رہی اسی اثناء میں ایک نوجوان اس عورت کے برابر آ کر کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ یہ نوعمر مسلم ہے یہ آپ کو جواب نہیں دے سکی گی اس بچے کا باپ میں ہوں اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اردگرد صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے اس آدمی کے متعلق پوچھ رہے ہوں وہ لوگ کہنے لگے کہ ہم تو اس کے متعلق خیر ہی جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا تم شادی شدہ ہواس نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا۔ ہم اسے اپنے ساتھ لے کر چلے گئے اور ایک گڑھاکھودا اسے اس میں اتار دیا پھر ہم نے اسے اتنے پتھر مارے کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا پھر ہم اپنی جگہ پر لوٹ گئے اسی دوران ایک بزرگ اس نوجوان کے متعلق پوچھتے ہوئے آئے ہم نے کھڑے ہو کر ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ صاحب اس خبیث کے متعلق پوچھتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خاموش رہو وہ شخص اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ مہک رکھنے والا ہے یہ سن کر ہم لوگ واپس آئے اور اس کے غسل جنوط لگانے اور تجہیز وتکفین میں ہاتھ بٹایا اور اس کے لئے قبر تیار کی راوی کہتے ہیں مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے نماز کا ذکر کیا یا نہیں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15934]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، محمد بن عبدالله مختلف فيه، وأكثر الأئمة مالوا إلى ضعفه
229. حَدِيثُ أَبِي عَبْسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15935
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مَسْلِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ: لَحِقَنِي عَبَايَةُ بْنُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَأَنَا رَائِحٌ إِلَى الْمَسْجِدِ إِلَى الْجُمُعَةِ مَاشِيًا، وَهُوَ رَاكِبٌ قَالَ: أَبْشِرْ فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا عَبْسٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَهُمَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى النَّارِ".
سیدنا ابوعبس سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے قدم اللہ کے راستہ میں غبار آلود ہو جائیں اللہ ان پر آگ کو حرام کر دے گا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15935]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
230. حَدِيثُ أَعْرَابِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15936
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو هِلَالٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَدَوِيِّ سَمِعَهُ مِنْهُ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ الْأَعْرَابِيِّ الَّذِي سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ، إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ".
ایک دیہاتی صحابی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے دین کا سب سے بہتر کام وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو یہ جملہ دو مرتبہ دہرایا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15936]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
231. حَدِيثُ رَجُلٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15937
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ رَجُلٍ كَانَ قَدِيمًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ كَانَ فِي عَهْدِ عُثْمَانَ، رَجُلٌ يُخْبِرُ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اكْتُبْ لِي كِتَابًا أَنْ لَا أُؤَاخَذَ بِجَرِيرَةِ غَيْرِي , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ ذَلِكَ لَكَ وَلِكُلِّ مُسْلِمٍ".
بنوتمیم کے ایک قدیم آدمی نے سیدنا عثمان کے دور باسعادت میں اپنے والد کے حوالے سے بیان کیا کہ ان کی ملاقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو عرض کیا: کہ یا رسول اللہ! مجھے اس مضمون کی ایک تحریری لکھ کر دیں کہ کسی کے جرم میں مجھے نہ پکڑا جائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لئے اور ہر مسلمان کے لئے یہی حکم ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15937]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف الإبهام الرجل من بني تميم
232. حَدِيثُ مُجَمِّعِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15938
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ يَحْيَى أَخْبَرَهُ، أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ سَلَمَةَ بْنِ رَبِيعَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَخَوَيْنِ مِنْ بَنِي الْمُغِيرَةِ لَقِيَا مُجَمِّعَ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ ، فَقَالَ: إِنِّي أَشْهَدُ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ أَنْ لَا يَمْنَعَ جَارٌ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ" , فَقَالَ الْحَالِفُ: أَيْ أَخِي، قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ مَقْضِيٌّ لَكَ، وَقَدْ حَلَفْتُ، فَاجْعَلْ أُسْطُوَانًا دُونَ جِدَارِي , فَفَعَلَ الْآخَرُ، فَغَرَزَ فِي الْأُسْطُوَانِ خَشَبَةً , قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: قَالَ عَمْرٌو: وَأَنَا نَظَرْتُ إِلَى ذَلِكَ.
عکر مہ بن سلمہ کہتے ہیں کہ بنومغیرہ کے دو بھائی سیدنا مجمع بن یزید سے ملنے کے لئے آئے (ان میں سے ایک نے قسم کھائی کہ اگر دوسرے نے اس کی دیوار پر شہتیر رکھ لیا تو اس کا غلام آزاد ہو گا) سیدنا مجمع کہنے لگے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی پڑوسی اپنے پڑوسی کی دیوار پر شہتیر نہ رکھے یہ سن کر قسم کھانے والے نے کہا بھائی یہ تو مجھے معلوم ہو گیا کہ شریعت کا فیصلہ تمہارے حق میں ہے اور میں قسم بھی کھاچکا ہوں اب اگر تم میری دیوار پر شہتیر رکھتے ہو تو مجھے غلام آزاد کرنا پڑے گا تم میری دیوار کے پیچھے ایک ستون بنالو چنانچہ دوسرے نے ایساہی کیا اس ستون پر اپنا شہتیر رکھ دیا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15938]
الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف، عكرمة ابن سلمة مجهول، وهشام بن يحيي مستور
حدیث نمبر: 15939
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ يَحْيَى أَخْبَرَهُ، أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ سَلَمَةَ بْنِ رَبِيعَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَخَوَيْنِ مِنْ بَنِي الْمُغِيرَةِ أَعْتَقَ أَحَدُهُمَا أَنْ لَا يَغْرِزَ خَشَبًا فِي جِدَارِهِ، فَلَقِيَا مُجَمِّعَ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ وَرِجَالًا كَثِيرًا، فَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَمْنَعْ جَارٌ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبًا فِي جِدَارِهِ"، فَقَالَ الْحَالِفُ: أَيْ أَخِي، قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ مَقْضِيٌّ لَكَ عَلَيَّ، وَقَدْ حَلَفْتُ، فَاجْعَلْ أُسْطُوَانًا دُونَ جِدَارِي، فَفَعَلَ الْآخَرُ، فَغَرَزَ فِي الْأُسْطُوَانِ خَشَبَةً , فَقَالَ لِي عَمْرٌو: فَأَنَا نَظَرْتُ إِلَى ذَلِكَ.
عکر مہ بن سلمہ کہتے ہیں کہ بنو مغیرہ کے دو بھائی سیدنا مجمع بن یزید سے ملنے کے لئے آئے (ان میں سے ایک نے قسم کھائی کہ اگر دوسرے نے اس کی دیوار پر شہتیر رکھ لیا تو اس کا غلام آزاد ہو گا) سیدنا مجمع کہنے لگے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی پڑوسی اپنے پڑوسی کی دیوار پر شہتیر نہ رکھے یہ سن کر قسم کھانے والے نے کہا بھائی یہ تو مجھے معلوم ہو گیا کہ شریعت کا فیصلہ تمہارے حق میں ہے اور میں قسم بھی کھاچکا ہوں اب اگر تم میری دیوار پر شہتیر رکھتے ہو تو مجھے غلام آزاد کرنا پڑے گا تم میری دیوار کے پیچھے ایک ستون بنالو چنانچہ دوسرے نے ایساہی کیا اس ستون پر اپنا شہتیر رکھ دیا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15939]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، راجع ما قبله